26/March/2025

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف نیا ایکشن پلان

👁️ 93 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف نیا ایکشن پلان

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف نیا ایکشن پلان

پشاور (ڈیلی اردو) خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی بحالی کے لیے صوبائی ایکشن پلان کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت سرحد پار سے دہشتگردی کے واقعات کے تدارک کے لیے جلد سے جلد پالیسی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پالیسی کے تحت وفاقی حکومت سے ٹی او آرز کی منظوری کے بعد صوبائی حکومت کا جرگہ افعان قبائلی عمائدین کے ساتھ مذاکرات بھی کرے گا۔

ایکشن پلان کے تحت سول انتظامیہ کو دہشت گردی کے خلاف لیڈ رول دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پولیس اور کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں فاسٹ ٹریک بنیادوں پر اضافہ کیا جائے گا۔

صوبائی حکومت کے اعلامیے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی سربراہی میں بیرون ملک سے فنڈنگ لینے والے مدرسوں کے آڈٹ، دھماکہ خیز مواد کا کاروبار کرنے والوں کی نگرانی کے لئے نادرا ڈیٹا بیس سے کام لینے اور اسلحے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کراس بارڈر سمگلنگ روٹس پر مشترکہ کارروائیاں عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں ایکشن پلان میں 18 مختلف موضوعات پر کل 84 اقدامات تجویز کئے گئے ہیں جبکہ عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ صوبائی محکموں اور وفاقی اداروں کو ٹائم لائنز کے ساتھ ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ایکشن پلان کے تحت ریاستی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے جبکہ دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے لیے ریاستی اداروں کی استعداد کو عملی طور پر نمایاں کیا جائے گا جبکہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف منظم کاروائیاں عمل میں لانے کے لیے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا جامع ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے گا۔ شیڈول فورتھ کو وقتا فوقتا اپڈیٹ کیا جائے گا اور اس میں شامل افراد کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔‘

اجلاس میں ماہانہ بنیادوں پر دہشتگردوں کے سروں کی قیمتوں کے کیسز کا جائزہ لے کر انھیں اپڈیٹ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور دہشتگردوں کی سہولت کاری میں ملوث پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے خلاف سخت انضباطی کاروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔

ڈسٹرکٹ سکیورٹی اسسمنٹ کے ذریعے دہشتگردوں کی نقل و حرکت اور سکیورٹی خدشات کے تناظر میں کائی نیٹک اور نان کائی نیٹک اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔

اس سلسلے میں اس مہینے کے آخر تک پولیس میں بھرتیوں، ٹریننگ، اسلحے اور آلات کی خریداری کا پلان ترتیب دیا جائے گا جبکہ جنوبی اور ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ترجیحی منصوبے شامل کیے جائیں گے۔

ایکشن پلان کے تحت اینٹیلجنس کلیکشن اینڈ شئیرنگ کا ایک مربوط نظام وضع کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مقامی اینٹلجنس ڈیٹا بیس کو متعلقہ صوبائی اور وفاقی اداروں کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔

صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹی، سٹئیرنگ کمیٹی، ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹیوں کا باقاعدگی سے اجلاس منعقد کیے جائیں گے جبکہ دہشتگردی کی سرگرمیوں پر عوامی اور کمیونٹی سطح پر کڑی نظر رکھنے کے لیے تھانوں کی سطح پر پبلک لائزان کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کی معاونت کرنے والے تمام غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کاروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ منشیات، اسلحے اور دیگر اشیاء کی سمگلنگ روکنے کے لئے تمام ٹرانزٹ پوائنٹس پر جدید سکینرز کی تنصیب کے علاوہ آرٹفیشل اینٹیلجنس مانیٹرنگ سسٹم سے کام لیا جائے گا۔

اجلاس میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ کا عمل اگست تک مکمل کرتے ہوئے ان گاڑیوں کی نقل و حرکت کی نشاندہی کے لیے جی پی ایس ٹریننگ سسٹم سے کام لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اسلحہ بنانے اور بیچنے والوں کی نگرانی کے لیے آرمز لائسنس سافٹ وئیر کو اپ گریڈ کرنے اور سمگل شدہ آلات کی ٹریکنگ کے لیے الیکٹرانک کارگو ٹریننگ سسٹم کے نفاذ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضم اضلاع کے لیے خصوصی ڈسٹرکٹ اکنامک پلانز ترتیب دیے جائیں گے۔ ضم اضلاع کے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والی آبادی کاری کے لئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے ان لوگوں کی مرحلہ وار واپسی اور آبادکاری کے لئے پلان ترتیب دیا جائے گا۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قانونی اقدامات کے تحت لیگل فریم ورک کو مضبوط بنایا جائے گا اور امتناعی مجسٹریٹسی سسٹم کو بحال کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق پولیس، عدلیہ اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان کوآرڈینیشن کا مربوط نظام وضع کیا جائے گا عدالتوں میں دہشت گردوں کے لیے خصوصی ٹرائلز کا بندوبست کیا جائے گا۔ جبکہ ’فیس لیس کورٹس‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C