15/May/2025

خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کی نئی لہر: ایک اہلکار ہلاک، متعدد اہلکار زخمی

👁️ 79 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کی نئی لہر: ایک اہلکار ہلاک، متعدد اہلکار زخمی

خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کی نئی لہر: ایک اہلکار ہلاک، متعدد اہلکار زخمی

پشاور (ڈیلی اردو رپورٹ) خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر دہشتگردوں کے تازہ حملے سامنے آئے ہیں، جن کے نتیجے میں ایک سپاہی ہلاک جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کے بعد سیکیورٹی اداروں نے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان: حملے میں ایک سپاہی ہلاک، چار اہلکار زخمی

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درزندہ، شیخ ملہ جنگلہ میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر اچانک حملہ کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ایک سپاہی قلب عباس ہلاک جبکہ چار اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے وقت سیکیورٹی اہلکار معمول کی گشت پر تھے۔ سیکیورٹی ادارے حملہ آوروں کی تلاش میں پہاڑی علاقوں اور اطراف کے دیہات میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

صوابی: پولیس ناکہ بندی پر حملہ، تین اہلکار زخمی

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں تھانہ اتلہ کی حدود میں قائم پولیس ناکے پر دہشتگردوں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار باچا گل، خیر غفور اور میر افضل شدید زخمی ہو گئے۔ حملے کے فوراً بعد زخمی اہلکاروں کو باچا خان میڈیکل کمپلیکس شاہ منصور منتقل کر دیا گیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد اظہر خان کے مطابق حملے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے پہاڑی سلسلے اور دیگر مشتبہ مقامات میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان: مدرسے کے قریب دھماکہ

جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے اعظم ورسک میں واقع مولانا شہزادہ مدرسے کے سامنے دھماکہ ہوا، تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق دھماکے کے وقت مدرسے میں جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا تھا، جس میں مختلف مذہبی و سماجی شخصیات شریک تھیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکے کا ممکنہ ہدف جے یو آئی کے مقامی رہنما مولانا نور اللہ عماد تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ بم ڈسپوزل سکواڈ، فارنزک ٹیم اور دیگر متعلقہ ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی مہینوں کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

رواں سال 14 مارچ کو پولیس نے بتایا تھا کہ جنوبی وزیرستان ضلع کی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک بم دھماکا ہوا تھا، جس میں جے یو آئی (ف) کے ضلعی سربراہ عبداللہ ندیم اور تین دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔

دہشتگردی کی لہر، سیکیورٹی ہائی الرٹ

حالیہ حملوں کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں نے مختلف اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایک منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ لگتے ہیں، جن کا مقصد ریاستی اداروں اور امن و امان کی صورتحال کو نقصان پہنچانا ہے۔

وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں نے ان واقعات کی مکمل تحقیقات کا عندیہ دیا ہے اور جلد حقائق سامنے لانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C