16/March/2025

خیبر پختونخوا: 24 گھنٹوں کے دوران درجن بھر سے زائد حملے

👁️ 57 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا: 24 گھنٹوں کے دوران درجن بھر سے زائد حملے

خیبر پختونخوا: 24 گھنٹوں کے دوران درجن بھر سے زائد حملے

پشاور (ڈیلی اردو رپورٹ) پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کرک اور پشاور میں ہونے والے ان حملوں میں چار پولیس اہلکار اور ایک سیکیورٹی گارڈ ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد حملہ آور جوابی کارروائی میں مارے گئے یا فرار ہو گئے۔

ڈیلی اردو کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع پشاور، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک ، جنوبی وزیرستان،مہمند اور خیبر میں پولیس تھانوں، سیاسی اور مذہبی شخصیات پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درجن بھر سے زائد حملے ہوئے۔ ان حملوں میں ایف سی کا ایک اور پولیس کے 4 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 3 زخمی ہوئے۔

کرک میں دہشت گردوں کے حملے

کرک کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شہباز الٰہی کے مطابق، دہشت گردوں نے رات گئے دو پولیس تھانوں اور ایک سوئی گیس کی تنصیب کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے بھاری توپ خانے اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پولیس سب انسپکٹر اسلام نور خان سمیت دو اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک نجی سیکیورٹی گارڈ بھی جان کی بازی ہار گیا۔

ڈی پی او کے مطابق، پولیس نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا۔ حملے کے بعد دہشت گردوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، جن میں سے ایک حملہ آور کو پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، جبکہ باقی شدت پسند اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہاڑوں میں روپوش ہو گئے۔

سوئی گیس تنصیب پر حملہ اور گارڈ کی بازیابی

دہشت گردوں نے کرک میں سوئی گیس کی تنصیب پر بھی حملہ کیا، جہاں فائرنگ کے دوران ایک نجی سیکیورٹی گارڈ کو اغوا کر لیا گیا۔ تاہم، پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کا پیچھا کیا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد سیکیورٹی گارڈ کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔

ڈی پی او شہباز الٰہی کا کہنا تھا کہ پولیس نے جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے بڑے حملے ناکام بنائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ فرار ہونے والے عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا جا سکے۔

مہمند میں ممبر قومی اسمبلی ساجد خان پر فائرنگ

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند میں نامعلوم مسلح افراد نے ممبر قومی اسمبلی ساجد خان پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ساجد خان معمول کے مطابق اپنے علاقے کے دورے پر تھے۔

ٹانک میں پولیس اے پی سی پر حملہ، حملہ آور موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار

ادھر ضلع ٹانک کے علاقے گڑ منڈی میں پولیس کی اے پی سی (آرمرڈ پرسنل کیریئر) گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، اے پی سی میں موجود اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی اہلکار علاقے کو گھیرے میں لے کر ممکنہ دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

پشاور میں پولیس چوکی پر حملہ

دوسری جانب، پشاور کے تھانہ مچی گیٹ کی پجگی چوکی پر نامعلوم دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس میں پولیس اہلکار نذر علی ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق، دہشت گردوں نے اچانک فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ پولیس نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، تاہم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

جنوبی وزیرستان میں فائرنگ، سابق پولیس افسر ہلاک

علاوہ ازیں، جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں ڈبکوٹ گاؤں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جوہر نامی ایک سابق پولیس افسر ہلاک ہو گئے۔ مقتول کا تعلق خجل خیل قبیلے سے تھا اور وہ وانا پولیس میں خدمات انجام دے چکے تھے۔

ٹانک اور جنوبی وزیرستان میں کرفیو نافذ

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے 17 مارچ کو ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں مکمل کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر 60 سے زائد حملوں کے بعد کیا گیا ہے، جن میں کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

حملوں کی ذمہ داری اور حکومتی ردعمل

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم کے جاری کردہ بیان کے مطابق، حملہ آور کاشف عرف جرار، جو پولیس کو مختلف دہشت گردی کی کارروائیوں میں مطلوب تھا، ان حملوں میں ملوث رہا ہے۔

حکام نے ان حملوں کے بعد صوبے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے اور عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سرچ آپریشن کے ذریعے ان علاقوں میں چھپے دہشت گردوں کا سراغ لگا رہے ہیں۔

نتیجہ

خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر نے ایک بار پھر سیکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے۔ کرک اور پشاور کے حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خطرات بدستور موجود ہیں۔ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے فوری کارروائیوں کے باوجود، عسکریت پسندوں کے حملے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مزید سخت اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C