13/May/2025

سعودی عرب میں امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے، ٹرمپ کی ایران کو مذاکرات کی پیشکش، شام پر پابندیاں ختم

👁️ 175 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب میں امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے، ٹرمپ کی ایران کو مذاکرات کی پیشکش، شام پر پابندیاں ختم

سعودی عرب میں امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے، ٹرمپ کی ایران کو مذاکرات کی پیشکش، شام پر پابندیاں ختم

ریاض + واشنگٹن (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان کئی تاریخی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں جن میں دفاع، تجارت، توانائی، معدنیات اور ٹیکنالوجی کے شعبے شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔

ٹرمپ کی ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش، مگر سخت شرائط کے ساتھ

ریاض میں عرب اسلامی-امریکی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم ساتھ ہی تہران کو خطے میں بدامنی پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے خبردار بھی کیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا: “میں ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہوں۔ اگر ایسا ہو جائے تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔”

تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر ایران نے ہمسایہ ممالک پر حملے جاری رکھے تو امریکہ اس پر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” ڈالے گا اور اس کی تیل برآمدات کو “زیرو” تک لے آئے گا۔

انھوں نے کہا کہ وہ یہاں ایران کی سابقہ قیادت کی پالیسیوں کی مذمت کے لیے نہیں بلکہ ایک “پرامید مستقبل” کی پیشکش کے لیے آئے ہیں۔

شام پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے شام پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے کا بھی اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ شام کو ایک “عظیم ملک” بننے کا موقع دینا چاہتے ہیں اور مستقبل میں انسانی بنیادوں پر تعاون جاری رکھا جائے گا۔

امریکہ-سعودی عرب میں 142 بلین ڈالر کا دفاعی معاہدہ

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان 142 بلین ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے پایا ہے۔ اس معاہدے کے تحت:

جدید فضائیہ کی تیاری، ایئر اور میزائل ڈیفنس سسٹمز، میری ٹائم اور کوسٹل سیکیورٹی، بارڈر سیکیورٹی و زمینی فوج کی جدید کاری، انفارمیشن و کمیونیکیشن سسٹمز اپ گریڈز شامل ہیں۔ اس معاہدے میں سعودی فوجیوں کی تربیت، میڈیکل سروسز اور سروس اکیڈمیز کا قیام بھی شامل ہے۔

600 بلین ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدے، ایک ٹریلین ڈالر تک توسیع کا امکان، سعودی ولی عہد

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا ہے، جو آئندہ مہینوں میں بڑھ کر ایک ٹریلین ڈالر تک جا سکتا ہے۔ معاہدے میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

فوجی، ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبوں میں تعاون

امریکہ سے 14.2 بلین ڈالر کے گیس ٹربائنز اور توانائی کے حل کی درآمد

4.8 بلین ڈالر کے بوئنگ 737-8 مسافر طیاروں کی خریداری

مصنوعی ذہانت میں 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری

سپیس، وبائی امراض اور معدنیات پر تعاون

محمد بن سلمان نے کہا کہ یہ معاہدے سعودی عرب میں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے اور دوطرفہ معاشی شراکت داری کو نئی جہت دیں گے۔

“امریکہ پر پیسوں کی بارش ہو رہی ہے” صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے برطانیہ اور چین کے ساتھ دو اہم تجارتی معاہدے بھی کیے ہیں، جس سے امریکی معیشت کو تقویت ملی ہے۔ انھوں نے کہا: “جب سے ہم اقتدار میں آئے ہیں، ہم امریکہ آنے والی دولت کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہم شاندار کام کر رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ ان معاہدات سے نہ صرف روزگار بڑھے گا بلکہ امریکہ کا عالمی معاشی کردار بھی مزید مستحکم ہوگا۔

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں، ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو ’گریٹ مین‘ اور سعودی عرب کو ایک “عظیم جگہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات 80 برسوں پر محیط ہیں اور اب یہ تعلقات “انتہائی قریبی، مضبوط اور طاقتور” ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ دوٹوک پالیسی اپنائے گا اور کوئی ابہام نہیں چھوڑے گا۔

سعودی عرب میں ہونے والے یہ معاہدے نہ صرف خطے میں امریکہ کی موجودگی کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ عالمی سیاسی و اقتصادی توازن میں نئی صف بندی کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ ایران، شام اور چین کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی ابھرتی ہوئی عالمی ترجیحات کو ظاہر کرتی ہے جس میں امریکی مفادات کو پہلی ترجیح دی گئی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C