18/May/2025

سندھ: بدین میں لشکرِ طیبہ کے اہم کمانڈر رضا اللہ نظامانی عرف ابو سیف اللہ ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک

👁️ 97 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سندھ: بدین میں لشکرِ طیبہ کے اہم کمانڈر رضا اللہ نظامانی عرف ابو سیف اللہ ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک

سندھ: بدین میں لشکرِ طیبہ کے اہم کمانڈر رضا اللہ نظامانی عرف ابو سیف اللہ ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے صوبے سندھ کے ضلع بدین کی تحصیل ماتلی میں اتوار کے روز نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ کے نیپال ماڈیول کے سربراہ اور سابق کشمیری جنگجو رضا اللہ نظامانی عرف ابو سیف اللہ کو ہلاک کر دیا۔

یہ واقعہ دن کے وقت اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے نکل کر قریبی چوک کی طرف جا رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے، جنہوں نے انہیں نشانہ بناتے ہوئے متعدد گولیاں چلائیں۔ رضا اللہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق ابو سیف اللہ کو تنظیم کی جانب سے نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں اور ان کی سیکیورٹی کے لیے مقامی کارکنوں کو متحرک بھی کیا گیا تھا۔

رضا اللہ نظامانی کا شمار کالعدم جماعت الدعوہ، لشکرِ طیبہ کے ان سینیئر کمانڈرز میں ہوتا تھا، جنہوں نے نیپال کے راستے بھارت میں متعدد حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کی۔

ذرائع کے مطابق وہ آر ایس ایس کے صدر دفتر پر حملے، رامپور میں سی آر پی ایف کیمپ پر حملے اور بنگلورو میں داعش سے منسلک حملے کا ماسٹر مائنڈ تصور کیا جاتا تھا۔

پولیس اور خفیہ ادارے واقعے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے حملہ آوروں کی تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، تاہم اب تک کسی گروہ نے اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جہادی نیٹ ورکس کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے عناصر جو ماضی میں ریاستی یا غیر ریاستی تنظیموں سے وابستہ رہے، انہیں اب نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں کشمیر میں عسکری سرگرمیوں سے وابستہ کم از کم دو درجن پاکستانی شہری مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان میں اکثریت کا تعلق مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ، جیش محمد اور دیگر جہادی تنظیموں سے بتایا جاتا ہے۔ رضا اللہ نظامانی کی ہلاکت کو بھی اسی تسلسل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

واقعے کے بعد ان کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے ماتلی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد شام کو ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ویڈیو فوٹیج کے مطابق جنازے کے موقع پر سخت سیکیورٹی دیکھی گئی، جس میں مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ سے منسلک مسلح افراد گلیوں اور جنازہ گاہ کے اطراف پہرہ دیتے دکھائی دیے۔ مقامی افراد، بعض مذہبی رہنما اور ان کے قریبی رفقاء بھی جنازے میں شریک ہوئے، جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C