29/November/2025

غزہ میں اسرائیل کا خطرناک کھیل: ابھرتے مسلح گروہوں کی خفیہ حمایت کا اعتراف

👁️ 196 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
غزہ میں اسرائیل کا خطرناک کھیل: ابھرتے مسلح گروہوں کی خفیہ حمایت کا اعتراف

غزہ میں اسرائیل کا خطرناک کھیل: ابھرتے مسلح گروہوں کی خفیہ حمایت کا اعتراف

لندن (ڈیلی اردو/بی بی سی) غزہ میں حماس کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کے لیے حالیہ مہینوں میں مختلف مسلح گروہ سامنے آئے ہیں جن میں قبائلی ملیشیا، مجرمانہ گینگز اور نئی تشکیل شدہ سکیورٹی فورسز شامل ہیں۔ ان گروہوں کے کردار، ان کے مقاصد اور انھیں حاصل ممکنہ بیرونی حمایت سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔

 

مسلح گروہوں کو اسرائیلی حمایت کا اعتراف

 

کچھ گروہوں کو اسرائیل کی مدد حاصل ہونے کے الزامات پہلے بھی لگتے رہے ہیں، تاہم حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے تسلیم کیا کہ اسرائیل خفیہ طور پر کچھ ملیشیا گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایسی حمایت “فوجیوں کی جانیں بچاتی ہے، اس میں غلط کیا ہے؟”

تنقید کے باوجود اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ غزہ نہ حماس کے حوالے کیا جائے گا اور نہ فلسطینی اتھارٹی کے۔ امریکی امن منصوبے کے مطابق غزہ کا عبوری انتظام ایک تکنیکی فلسطینی کمیٹی کے تحت بین الاقوامی نگرانی میں چلایا جائے گا۔

 

غزہ کے مختلف علاقوں میں متوازی ملیشیا نظام

 

غزہ کے تقریباً 53 فیصد حصے میں مختلف گروہ مقامی سطح پر انتظامی کردار ادا کر رہے ہیں، یہ وہ علاقے ہیں جو اس وقت اسرائیلی کنٹرول میں ہیں لیکن انہیں امریکی امن منصوبے میں شامل نہیں کیا گیا۔

 

ان گروہوں میں نمایاں نام یاسر ابو شباب کا ہے جن کی فورس رفح کے قریب فعال ہے۔ ان کے نائب کے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ امن کونسل کے ساتھ رابطے میں ہیں، جو مستقبل میں غزہ کی نگرانی کے لیے قائم کی جانی ہے۔

 

اسی طرح حسام الاستل، جو "اینٹی ٹیررسٹ اسٹرائیک فورس" کے سربراہ ہیں، نے بھی دعویٰ کیا کہ امریکی نمائندوں نے انہیں مستقبل کی فلسطینی پولیس میں اہم کردار کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم امریکی حکام نے اس دعوے کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔

 

اسرائیل سے رابطوں اور امداد کے الزامات

 

ملیشیا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ خوراک، ہتھیار اور دیگر سامان کے لیے اسرائیلی افواج سے رابطے میں رہتے ہیں۔ حسام الاستل نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اسرائیل سے "ہر چیز" آ رہی ہے، تاہم وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں مدد دنیا بھر سے ملتی ہے اور وہ اسرائیل کے ایجنٹ نہیں۔

 

ان کی قائم کردہ نئی خیمہ بستی میں درجنوں خاندان آباد ہو چکے ہیں اور بقول اُن کے ہر ہفتے نئے لوگ اس علاقے میں منتقل ہو رہے ہیں۔

 

عوامی ناراضگی اور اخلاقی سوالات

 

غزہ کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد ان نئے گروہوں کو شدید ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے۔ کچھ لوگ ان ملیشیا کو "قبضے کے ساتھ تعاون کرنے والے" قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر کے مطابق یہ گروہ غزہ میں مزید انتشار پیدا کریں گے۔

 

ایک شہری صالح سویدن نے کہا کہ “یہ چند مرد ہیں جن کا نہ دین ہے نہ اخلاق، اور یہ مسلح گینگز کسی بھی صورت حکومت کا متبادل نہیں بن سکتے۔”

 

ماضی کا سبق اور خطرات

 

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اسرائیل کا یہ طریقہ کار خود اس کے لیے مستقبل میں بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ مائیکل ملشٹین نے کہا کہ اسرائیل وہی غلطی دہرا رہا ہے جو امریکا نے 30 سال قبل افغانستان میں کی تھی، جب اس نے سوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لیے ایسے گروہوں کو طاقت دی جو بعد میں خود امریکیوں کے مخالف بن گئے۔

 

ان کے مطابق “آج یہ گروہ اسرائیل کے لیے مفید ہیں، لیکن ایک وقت آئے گا جب وہ وہی ہتھیار اسرائیلی فوج کے خلاف استعمال کریں گے۔”

 

مستقبل غیر یقینی

 

فلسطینی اتھارٹی نے ان گروہوں کو مستقبل کی پولیس میں شامل کرنے کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ فلسطینی سکیورٹی فورسز کے ترجمان جنرل انور رجب کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حمایت یافتہ ملیشیا کو باضابطہ نظام میں شامل کرنا ناممکن ہے۔

 

غزہ میں ان ابھرتے گروہوں کا مستقبل کیا ہوگا، امن منصوبے کے تحت ان کا کردار کیا ہوگا، اور کیا یہ اسرائیل کے لیے نیا خطرہ بنتے دکھائی دیتے ہیں؟ ان تمام سوالات کے جواب ابھی تک غیر واضح ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C