30/May/2025

’فوج کا کام عدالتی نظام سنبھالنا نہیں‘، سپریم کورٹ کے ججوں کا اختلافی نوٹ

👁️ 73 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
’فوج کا کام عدالتی نظام سنبھالنا نہیں‘، سپریم کورٹ کے ججوں کا اختلافی نوٹ

’فوج کا کام عدالتی نظام سنبھالنا نہیں‘، سپریم کورٹ کے ججوں کا اختلافی نوٹ

اسلام آباد (ڈیلی اردو )پاکستان کی سپریم کورٹ کے دو ججز جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کے خلاف ایک مفصل اختلافی نوٹ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’فوج کی بنیادی ذمہ داری ملکی دفاع ہے، نہ کہ عدالتی امور سرانجام دینا۔‘

36 صفحات پر مشتمل اس نوٹ میں دونوں ججوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اکثریتی ججز کے اس فیصلے سے متفق نہیں جس میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو آئینی قرار دیا گیا ہے۔

ان ججوں نے نشاندہی کی کہ آئین کے تحت سویلینز کے مقدمات عام عدالتوں میں چلنے چاہییں کیونکہ فوجی عدالتوں کے افسران کو دیوانی اور فوجداری نظام کا تجربہ نہیں ہوتا، اور ان عدالتوں میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت نہیں دی جاتی۔

سیاسی مقدمات فوجی عدالتوں کے حوالے کرنا ’افسوسناک‘ اقدام قرار
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتوں نے فوجداری نظام انصاف پر اعتماد کھو دیا ہے اور سیاسی نوعیت کے مقدمات کا بوجھ فوجی عدالتوں پر ڈال دیا ہے، جو کہ ناقابلِ فہم اور غیرآئینی ہے۔

جج صاحبان کا کہنا تھا کہ فوجی افسران عدالتیں چلانے کی تربیت نہیں رکھتے اور ان کا کام عسکری امور تک محدود رہنا چاہیے۔ ان کے بقول، اس عمل سے نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے بلکہ سویلینز کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔

آرمی ایکٹ اور سویلینز پر اس کا اطلاق؟
اختلافی نوٹ میں فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان آرمی ایکٹ بنیادی طور پر فوجی اہلکاروں پر لاگو ہوتا ہے، اور سویلینز پر اس کا اطلاق آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کوئی عام شہری کسی فوجی سے متعلق جرم کرتا ہے تو اس کا فیصلہ سویلین عدالت ہی کرے گی، نہ کہ کوئی فوجی عدالت۔

عدالتوں پر اعتماد اور انصاف کی فراہمی
دونوں ججوں کا موقف ہے کہ عام عدالتوں میں سزا کی شرح کم ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے ان عدالتوں پر زور دیا کہ وہ شفاف تحقیقات اور مضبوط پراسیکیوشن کے ذریعے مؤثر انصاف فراہم کریں۔

نو مئی کے مقدمات اور فوجی عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار
اختلافی نوٹ میں نو مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ان مقدمات کو بھی کالعدم قرار دیا گیا جن میں فوجی عدالتوں نے سویلینز کو سزائیں سنائیں۔ ججز کا کہنا تھا کہ ایسے تمام مقدمات کو متعلقہ سول عدالتوں میں منتقل کیا جائے تاکہ ملزمان کو قانونی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دی جا سکے۔

بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی
نوٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہ صرف آئین بلکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اصولوں اور عالمی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C