مشرق وسطیٰ میں ایران جنگ کے بعد جوہری خطرات میں بے پناہ اضافہ
👁️ 201 بار دیکھا گیا
مشرق وسطیٰ میں ایران جنگ کے بعد جوہری خطرات میں بے پناہ اضافہ
واشنگٹن (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران جوہری خطرات میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں نہ صرف ایران بلکہ اسرائیل کی جوہری تنصیبات بھی نشانہ بن چکی ہیں۔ یہ جنگ فروری کے آخر میں اس وقت شروع ہوئی تھی، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا مقصد اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ حکمت عملی الٹا اثر بھی دکھا سکتی ہے۔
جوہری ہتھیار بطور دفاع مگر خطرناک توازن
جوہری ہتھیاروں کو عموماً ایک ''ڈیٹیرنس‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یعنی ان کی موجودگی دشمن کو حملے سے باز رکھتی ہے۔ ماہرین اس ضمن میں شمالی کوریا کی مثال دیتے ہیں، جس نے جوہری ہتھیار تیار کر کے خود کو ایک حد تک اس قابل بنا لیا ہے کہ اس پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔
اس کے برعکس یوکرین کی مثال پیش کی جاتی ہے، جس نے 1994ء میں اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دیے تھے۔ اب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر یوکرین کے پاس وہ نیوکلیئر ہتھیار موجود ہوتے، تو شاید روس اس پر حملہ نہ کرتا۔
ایران کی 'جوہری صلاحیت‘ ناکافی ثابت ہوئی؟
ایران کو اب تک ایک ایسی حالت میں سمجھا جاتا تھا، جسے ''جوہری تاخیر‘‘ یا nuclear latency کہا جاتا ہے، یعنی اس نے تمام وسائل رکھنے کے باجود جوہری ہتھیار نہیں بنائے۔
امریکی ماہر روپل مہتا کا کہنا ہے، ''ایران نے برسوں تک اسٹریٹیجک ابہام برقرار رکھا اور خود کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے مطلوبہ وسائل کی حد سے نیچے رکھا تاکہ حملوں سے بچ سکے۔ لیکن اب نئی قیادت کے سامنے ایک کٹھن سوال ہے اور وہ یہ کہ ادھورا جوہری پروگرام شاید سب سے بڑی غلطی تھا۔‘‘
اسی تناظر میں ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی ) سے بھی نکل سکتا ہے، جو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بنایا گیا ایک اہم عالمی معاہدہ ہے۔
خلیجی ممالک میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی خواہش بڑھنے کا امکان
ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں دیگر ممالک بھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں پر غور کر سکتے ہیں۔
واشنگٹن میں قائم آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی پالیسی کے ڈائریکٹر کیلسی ڈیون پورٹ کے مطابق، ''خلیجی ممالک ایران اور اسرائیل کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں اور امریکہ پر سکیورٹی کے لیے ان کا اعتماد بھی کم ہوا ہے۔ اس سے جوہری ہتھیاروں کی طرف جھکاؤ بڑھ سکتا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فوری طور پر کسی ملک کے جوہری ہتھیار بنانے کا امکان کم ہے کیونکہ اس میں تکنیکی اور سیاسی رکاوٹیں موجود ہیں۔
سعودی عرب اور جوہری عزائم
سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں اپنے جوہری پروگرام کی جانب ابتدائی قدم اٹھایا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے، تو سعودی عرب بھی ایسا ہی کرے گا۔
رپورٹوں کے مطابق امریکہ کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدہ سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی اجازت دے سکتا ہے، تاہم اس کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایک سابق اہلکار رابرٹ کیلی نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ''یہ ایک پرتضاد رویہ ہے کہ جس کام پر ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہی صلاحیت سعودی عرب کو دی جا رہی ہے۔‘‘
متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک
یو اے ای پہلے ہی براکہ نیوکلیئر پلانٹ چلا رہا ہے، تاہم اس نے یورینیم کی افزودگی سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
ماہر نورعید کے مطابق، ''امارات کے لیے یہ زیادہ تر وقار کا معاملہ تھا، نہ کہ عسکری عزائم کا۔‘‘
مگر مصر اور ترکی جیسے دیگر ممالک بھی جوہری توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، تاہم ان کی جانب سے فوری طور پر کوئی ہتھیار بنا لینے کا امکان بہت کم سمجھا جاتا ہے۔
عالمی طاقتیں اور جوہری پھیلاؤ
ماہرین کے مطابق چین اور روس بھی جوہری پھیلاؤ کو مکمل طور پر بے قابو نہیں ہونے دینا چاہیں گے، کیونکہ اس سے عالمی توازن بگڑ سکتا ہے۔
کیلسی ڈیون پورٹ کے مطابق، ''اگر آپ عالمی منظرنامہ دیکھیں تو جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک بھی جوہری ہتھیاروں کی طرف جا سکتے ہیں، جو کہ چین کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہو گا۔‘‘
حل کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق جوہری ہتھیارون کے پھیلاؤ کو روکنے کا واحد مؤثر راستہ علاقائی مذاکرات ہیں، اگرچہ یہ کام بھی آسان نہیں ہو گا۔
کیلسی ڈیون پورٹ نے کہا، ''مجھے کوئی خوش فہمی نہیں کہ جنگ کے بعد علاقائی سکیورٹی پر مذاکرات آسان ہوں گے، لیکن یہی واحد راستہ ہے، جس سے مختلف ممالک کو یہ فیصلہ کرنے سے روکا جا سکتا ہے کہ انہیں اپنی سلامتی کے لیے جوہری ہتھیار درکار ہیں۔‘‘
مجموعی طور پر ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، اور خدشہ ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ خطہ ایک نئی جوہری دوڑ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدے پر اندرونی اختلافات سامنے آ گئے
13/June/2026 👁️ 84 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا چکا، وزیراعظم شہباز شریف
13/June/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے مجوزہ معاہدے کا اسرائیل حصہ نہیں، وزیراعظم نتین یاہو
13/June/2026 👁️ 169 بار دیکھا گیا
بنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے دو واقعات، دو پولیس اہلکار ہلاک
13/June/2026 👁️ 118 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر ’بہترین‘ سمجھوتہ طے پا گیا، امریکی صدر
13/June/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
لکی مروت: مسجد پر خودکش حملے کی کوشش ناکام، حملہ آور مارا گیا، 2 افراد ہلاک
13/June/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8816 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4526 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3257 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2436 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2079 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1884 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C