میانمار میں فوجی تربیت کے خوف سے نوجوان بیرون ملک بھاگنے لگے
👁️ 67 بار دیکھا گیا
میانمار میں فوجی تربیت کے خوف سے نوجوان بیرون ملک بھاگنے لگے
ینگون (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی ڈبلیو) ملٹری سروسز کے قانون کے نفاز کے اعلان کے بعد سے ہزاروں نوجوان میانمار سے نکلنے کے لیے ملک کے سب سے بڑے شہر ینگون میں تھائی سفارت خانے کا رخ کر رہے ہیں۔
میانمار میں حکمران فوجی جنتا نے گزشتہ ہفتے ملٹری سروس کے قانون کے نفاز کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت اٹھارہ سے پینتیس سال کی عمر کے تمام مردوں اور اٹھارہ سے ستائیس سال کی عمروں کی خواتین کے لیے کم از کم دو سال تک فوج میں خدمات انجام دینا لازمی قرار دیا گیا۔
اس قانون کا مقصد فوجی حکومت کی جانب سے جمہوری جدوجہد کرنے والے گروپوں کی بغاوت کچلنا ہے۔ میانمار میں فوج کو منتخب سویلین حکومت سے اقتدار چھیننے کے تین سال بعد وسیع پیمانے پر ایک مسلح جدوجہد کا سامنا ہے۔ حال ہی میں نسلی اقلیتی گروہوں کے ایک مسلح اتحاد نے فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
ینگون میں جمعے کے روز تھائی سفارت خانے کے باہر ہزاروں مرد اور خواتین میانمار سے نکلنے کے لیے قطار در قطار اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔ جبکہ اس نئے قانون کے اعلان سے قبل یہ تعداد یومیہ 100 افراد سے بھی کم تھی۔
سفارت خانے کے عملے کے مطابق وہ اس وقت یومیہ صرف 400 افراد کو ہی سروسز فراہم کر سکتے ہیں۔
20 سالہ طالب علم آنگ فیو (فرضی نام) نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ وہ گزشتہ رات آٹھ بجے سفارت خانے پہنچے اور انہوں نے پوری رات اپنی گاڑی میں گزاری تا کہ وہ جمعے کے دن ویزے کے لیے قطار میں لگ سکیں۔
اس نوجوان کے مطابق، “یہاں کئی گھنٹے انتظار کرنے کو بعد پولیس کی جانب سے رات کو تین بجے لوگوں کے لیے حفاظتی گیٹ کھولا گیا اور ہمیں ٹوکن حاصل کرنے لے لیے سفارت خانے کی طرف بھاگنا پڑا۔”
میانمار کی سابقہ فوجی حکومت نے 2010ء میں لازمی فوجی تربیت کا قانون متعارف کرایا تھا تاہم اس وقت اس قانون کا نفاز نہیں کیا جا سکا تھا۔ موجودہ فوجی حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس نئے قانون کے بارے میں بھی اب تک تفصیلات عام نہیں کی گئیں، جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ آیا ملٹری سروس کے لیے بلائے گئے لوگوں سے فوجی حکومت کو کس طرح کی خدمات کی توقعات وابستہ ہیں۔ تاہم نوجوان اس انتظار سے قبل ہی ملک چھوڑنے کے خواہشمند ہیں۔
آنگ فیو نے کہا کہ وہ سیاحتی ویزہ لے کر بنکاک جائیں گے اور یہ کہ وہ امید کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ وہیں پر گزاریں گے۔
اس وقت حکومت کی جانب سے فوج کی حامی ملیشیاؤں کو مسلح کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ وہ ملک بھر میں اپنے مخالفین جیسے کہ ‘پیپلز ڈیفنس فورسز‘ اورنسلی اقلیتوں کے گرہوں سے مقابلہ کر سکیں۔
میانمار میں فوجی حکومت کے ترجمان زاؤ من ٹون نے حال ہی میں کہا تھا، ”ہمارے ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے ملٹری سروسز کے سسٹم کی ضرورت تھی۔‘‘
ایک مقامی مانیٹرنگ گروپ کے مطابق فروری 2021ء کی فوجی بغاوت کے بعد سے اختلاف رائے پر فوج کے کریک ڈاؤن میں 4,500 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں اور 26,000 سے زائد کو گرفتار کیا جا چا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 160 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 234 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 128 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 111 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 172 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8832 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4569 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3277 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2457 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2100 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1903 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C