پارا چنار جانے والے قافلے پر بگن میں پھر حملہ،متعدد ٹرک نذرِ آتش، سامان لوٹ لیا گیا، ڈرائیور سمیت 8 کنڈیکٹر لاپتہ
👁️ 87 بار دیکھا گیا
پارا چنار جانے والے قافلے پر بگن میں پھر حملہ،متعدد ٹرک نذرِ آتش، سامان لوٹ لیا گیا، ڈرائیور سمیت 8 کنڈیکٹر لاپتہ
واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم کے علاقے بگن کے مقام پر ٹل سے پاراچنار جانے والی اشیا خورد و نوش کی گاڑیوں کے قافلے پر حملہ ہوا ہے جس میں ایک اہلکار ہلاک اور چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی فضائی اور سخت حفاظتی حصار کے باوجود قافلے پر راکٹ لانچر اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔
ہنگو کے اسسٹنٹ کمشنر سعید منان نے ٹل سے پاراچنار امدادی سامان لے جانے والی 35 گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کے مطابق 8 سے 10 ٹرکوں کو نذرِ آتش کیا گیا ہے۔ جبکہ باقیوں ٹرکوں کو شدت پسندوں اور مقامی شہریوں نے لوٹ لیا ہے۔
مقامی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اب تک 6 گاڑیاں اور 6 ڈرائیور حضرات سمیت 8 کنڈیکٹر لاپتہ ہیں۔
سرکاری ذرائع نے دعوی کیا ہے فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد مارے گئے اور 10 زخمی ہو گئے۔ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سامان سے لدی 10 ٹرکوں کو بحفاظت علی زئی پہنچ چکی ہیں جبکہ باقی گاڑیوں کو پیچھے ہی روک لیا گیا ہے۔
کرم کیلئے تیسرے قافلے کے پہلے مرحلے میں 35 مال بردار گاڑیاں روانہ کی گئی تھیں جن میں دوائیں، سبزیاں، پھل اور کھانے پینے کی دیگر چیزیں شامل تھیں۔
قافلے کی سیکیورٹی کیلئے پولیس، ایف سی اور فوج کی بھاری نفری تعینات تھی۔
دوسری جانب کرم سے مریضوں کی منتقلی کیلئے ہیلی کاپٹر سروس گزشتہ 10 روز سے بند ہے اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتال سے مریضوں کو پشاور منتقل کرنے میں ناکام ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق ہسپتالوں اور کلینک ضروری ادویات سے محروم ہیں۔ مریضوں کا علاج ممکن نہیں ہو رہا اور پیچیدہ بیماریوں کیلئے پشاور جانے کا راستہ بند ہونے سے جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ مقامی صحافیوں کے مطابق پاراچنار میں علاج و سہولیات نہ ملنے سے دم توڑنے والے بچوں کی تعداد 120 سے زائد ہوگئی ہے۔
ادھر پاراچنار کے شہریوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور گندم، چاول اور دیگر بنیادی اشیا کی فراہمی بند ہونے سے دکانوں میں ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور غریب عوام بنیادی خوراک سے محروم ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ کئی ماہ سے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں حالات مسلسل کشیدہ ہیں اور گزشتہ روز سے مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز نے مخالف گروہوں کے کئی بنکرز مسمار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ 21 نومبر 2024 کو شیعہ مسافر گاڑیوں کے قافلے پر بگن کے مقام پر حملے میں 45 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جس کے بعد مشتعل افراد نے بگن سمیت کرم کے سُنّی علاقوں میں بازاروں اور گھروں کو آگ لگا دی تھی۔
حکام کے مطابق کُرم میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 41 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 102 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 55 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8832 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4567 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3276 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2456 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2098 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1901 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C