01/May/2020

پاکستان میں احمدیوں کیخلاف نفرت انگیز مہم پھر شروع

👁️ 61 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان میں احمدیوں کیخلاف نفرت انگیز مہم پھر شروع

پاکستان میں احمدیوں کیخلاف نفرت انگیز مہم پھر شروع

اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) پاکستان کی احمدیوں اور انسان حقوق کی تنظیموں نے احمدیوں (یا قادیانی) کے خلاف ایک تازہ نفرت امیز مہم پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

https://twitter.com/RabwahTimes/status/1255484079899922437?s=19

یہ مہم ایک پاکستانی نجی ٹی وی چینل کی طرف سے چلائی جانے والی اس خبر کے بعد شروع ہوئی جس میں دعوی کیا گیا کہ حکومت نے احمدیوں کو ملک کی اقلیتی کمیشن میں نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چینل نائنٹی ٹو نے یہ خبر بریک کی تھی، جس کے بعد اس مسئلے پر پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی اور احمدیوں خلاف نفرت انگیز مہم شروع کردی گئی۔ اس کمیشن کے قیام کا حکم 2013 کے پشاور چرچ حملے کے بعد سپریم کورٹ نے دیا تھا تاکہ اقلیتوں کے حقوق کا بہتر انداز میں تحفظ کیا جا سکے۔

https://twitter.com/RabwahTimes/status/1255910776365297664?s=19

اس معاملے پر حکومتی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق نے بھی حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اس فیصلے پر تنقید کی اور اس پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ اس بیان کے بعد نفرت انگیز مہم میں مزید تیزی آگئی ہے۔ تاہم ان کی پارٹی اس مخالفت کا دفاع کرتی ہے۔ ق لیگ کے ترجمان کامل علی آغا نے اس مسئلے پر اپنا موقف دیتے ہوئے جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کو بتایا، “ہماری پارٹی نے اس کی مخالفت کی ہے کیونکہ احمدی اپنے آپ کو اقلیت نہیں مانتے، اس لیے وہ اس کے رکن نہیں بن سکتے۔ اس کے علاوہ حکومت نے اس مسئلے پر ہمیں اعتماد میں بھی نہیں لیا۔”

https://twitter.com/sgali1010/status/1255557030988873728?s=19

جمیعت علمائے اسلام کے ترجمان حافظ حسین احمد کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ احمدی پہلے اپنے آپ کو غیر مسلم مانیں۔ ” قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں وہ اقلیتی نشتوں پر الیکشن نہیں لڑتے، جس کا واضح مطلب ہے کہ وہ اپنے آپ کو اقلیت نہیں مانتے، تو حکومت کیسے ان کو اس کمیشن میں شامل کر رہی ہے۔”

مذہبی جماعتوں کی مخالفت اور چوہدری شجاعت کے بیان کے بعد شروع ہونے والی نفرت انگیز مہم نے احمدیوں میں خوف پیدا کردیا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک احمد برادری کے رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر جرمن خبر رساں ادارے ڈی کو بتایا، “جب سے یہ خبر نشر ہوئی ہے، سوشل میڈیا پر نفرت کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا ہے اور پوری برادری خوفزدہ ہے۔ اس طرح کی مہم نے ماضی میں بھی ہماری برادری کو جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے اور اب بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔”

جماعت احمدیہ پاکستان کے مرکزی ترجمان سلیم الدین نے اس مہم کو افسوس ناک قرار دیا۔ “ایک چینل نے غلط خبر چلائی اور پیمرا نے اس کا نوٹس بھی نہیں لیا۔ اس کے بعد ہماری جیسی پر امن کمیونٹی کے خلاف نفرت کی ایک مہم شروع ہوگئی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ نہ ہی ایسا کوئی نوٹیفیکیشن جاری ہوا اور نہ ہی حکومت نے ہم سے اس کمیشن کا ممبر بننے کا کہا اور نہ ہی رابطہ کیا لیکن پھر بھی نفرت انگیز مہم جاری ہے۔”

واضح رہے کہ پاکستان میں دہشت گردانہ کاررائیوں میں سینکڑوں احمدیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ 28 مئی 2010 کو لاہور میں احمدیوں کی ایک مسجد پر بہت بڑا حملہ ہوا تھا، جس میں 87 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ پاکستانی پارلیمان نے احمدیوں کو 1974 میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعوی ٰہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک اس کمیونٹی کو تعصب کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں موجودہ نفرت انگیز مہم کو انتہائی خطرناک قرار دیتی ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان سے تعلق رکھنے والے اسد بٹ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مہمیں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ “احمدی حضرات کو پہلے ہی برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا اور اب موجودہ مہم ان کے لیے مزید خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ چوہدری شجاعت کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ان کے اس بیان سے اس نفرت انگیز مہم کو مذید ہوا ملے گی، جس سے اس برادری کو نقصان ہو سکتا ہے۔”

ڈی ڈبلیو نے جب حکومت کا موقف جاننے کے لئے پی ٹی آئی کی میڈیا ٹیم سے رابطہ کیا، تو انہوں نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری کی طرف سے جاری کردی ایک بیان بھجوا دیا، جس کے مطابق، ” وفاقی حکومت نے اقلیتی کمیشن کے ارکان کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ان ممبران کی تقرری کا معاملہ دو ہفتے قبل زیر غور آیا تھا۔ قادیانیوں کو بطور اقلیتی غیر مسلم ممبر بنانے یا نا بنانے کا فیصلہ کابینہ کرے گی۔ معاملے کے تمام پہلووں پر غورو فکر کیا جائے گا۔ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا مرکزی نکتہ ہے، اس پر سمجھوتہ ممکن نہیں۔ جو بھی فیصلہ ہوگا، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہوگا۔”

خیال رہے کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کو سنہ انیس سو چوہّتر میں پارلیمان نے غیر مسلم قرار دیدیا تھا اور بعد میں جنرل ضیاءالحق کے دور میں آنے والے ایک نئے قانون امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت ان پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C