پاکستان میں ایک سال میں 7 صحافی قتل، 2 اغوا، 9 کو گرفتار کیا گیا: فریڈم نیٹ ورک
👁️ 51 بار دیکھا گیا
پاکستان میں ایک سال میں 7 صحافی قتل، 2 اغوا، 9 کو گرفتار کیا گیا: فریڈم نیٹ ورک
اسلام آباد (ڈیلی اردو/وائس آف امریکا) پاکستان میں صحافتی آزادیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ‘فریڈم نیٹ ورک’ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں صحافیوں کو درپیش معاشی مشکلات کو اظہار رائے دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
عالمی یوم صحافت سے قبل جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2019 بھی صحافیوں کے لیے مشکل سال رہا۔ 2019 میں فرائض کی انجام دہی کے دوران سات صحافی جان کی بازی ہار گئے، جب کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے 91 کیسز رپورٹ ہوئے۔
#PakistanPressFreedomReport2020 presents a grim situation with 92 violations during last one year.#WPFD2020
(Urdu version of report is available) Contact #FreedomNetwork https://t.co/hnW0OKEgB3— Freedom Network | فریڈم نیٹ ورک (@pressfreedompk) April 30, 2020
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں پاکستان میں 2 صحافی اغوا، 9 گرفتار جب کہ 10 کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 10 صحافیوں کو سنسرشپ اور آٹھ کو قانونی نوٹسز کا سامنا کرنا پڑا۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی 2019 سے اپریل 2020 تک پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد اور حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس سے اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ملک میں آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ صحافیوں کو دیگر خطرات کے علاوہ معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
پاکستانی صحافی روایتی میڈیا سے ہٹ کر غیر روایتی میڈیا کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟
رپورٹ میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک شہر قرار دیا گیا ہے، جہاں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور اُن پر تشدد کے 31 واقعات رپورٹ ہوئے۔ سندھ میں 24، پنجاب میں 20، خیبر پختونخوا میں 13 اور بلوچستان میں تین کیسز سامنے آئے۔
انسانی حقوق کمیشن @HRCP87 کے مطابق پاکستان میں صحافت کی آزادی کے لئے خطرات دن بدن بڑھ رہے ہیں لاپتہ افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے @pressfreedompk کے مطابق گذشتہ سال میڈیا کے لئے سب سے زیادہ خطرناک علاقہ اسلام آباد تھا pic.twitter.com/K7aeHscYMH
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) April 30, 2020
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیگٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے غیر ملکی خبر رساں ادارے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو قابو کرنے کے لیے قتل، دھمکیوں اور ہراساں کرنے سمیت دیگر حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک سال میں زبانی اور تحریری طور پر صحافیوں کو دھمکانے کے 23 کیسز سامنے آئے۔ اس کے ساتھ 13 کیسز میں صحافیوں کو ہراساں کیا گیا۔ 11 واقعات میں صحافیوں پر حملے ہوئے جن میں 7 صحافی قتل ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔ رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 63 صحافیوں کا تعلق مختلف نیوز چینلز سے تھا۔ پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے 25 صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایک سال کے رپورٹ 91 کیسز میں سے 63 الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کے خلاف تھے جبکہ پرنٹ میڈیا کے بھی 25 افراد کے خلاف کیس سامنے آئے، مزید یہ کہ آن لائن صحافیوں کے 3 جبکہ ریڈیو سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا کوئی کیس درج نہیں ہوا۔
فریڈم نیٹ ورک نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں میڈیا کو سب سے زیادہ دھمکیاں دینے والے عناصر کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ 91 میں سے 42 فیصد کیس میڈیا کے افراد کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں پر درج کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ان نشانہ بنانے والے میڈیا کارکنان کے خاندان کے افراد کا ماننا تھا کہ اس میں ریاست، اس کے ادارے، سیاسی پارٹیاں، مذہبی اور مجرم گروہ سمیت بااثر افراد اور نامعلوم ذرائع شامل تھے۔
علاوہ ازیں اس حوالے سے جاری بیان میں فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں صحافت کو کنٹرول کرنے کی غرض سے سینسرشپ کے مختلف طریقے استعمال کیے جارہے ہیں جن میں صحافیوں کا قتل، انہیں دھمکیاں دینا اور ہراساں کرنا شامل ہے‘۔
اقبال خٹک کے بقول، پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مشکلات کے باعث انہیں نشانہ بنانے والے عناصر کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
اقبال خٹک کہتے ہیں کہ 2002 سے 2020 تک کل 130 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ لیکن، ان میں سے صرف چار کیسز میں قانونی کارروائی کی گئی اور ان میں بھی سزائیں نہیں مل سکیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ ڈینئل پرل کیس میں 18 سال بعد عدالت نے ملزمان کو عدم ثبوت پر رہا کیا تو حکومت کو خود مدعی بننا پڑا۔ سزا سے بچنے کی روایت پاکستان میں پنپ رہی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان میں صحافت آزاد نہیں ہے۔
صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے صحافتی تنظیموں اور حکومت کے کردار پر اقبال خٹک نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت، میڈیا مالکان، صحافی اور سول سوسائٹی مل کر ہی کوئی حل نکال سکتے ہیں۔
اُن کے بقول، صحافی اور سول سوسائٹی تو کوشش کر رہے ہیں، لیکن ریاست اور میڈیا مالکان اس بارے میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے اور جب بھی کسی صحافی کو کوئی خطرہ یا نقصان ہوتا ہے تو حکومتی سطح پر کوئی اقدام نہیں کیا جاتا۔
اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ اس وقت ریاستی ادارے صحافیوں کی مالی مشکلات کو آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہ ادارے جو آزاد صحافت پر یقین رکھتے ہیں ان کے اشتہار اور ادائیگیاں روک کر انہیں مجبور کیا جا رہا ہے۔
اقبال خٹک کے بقول، یہ حکومت تبدیلی کے نام پر آئی تھی۔ لیکن، ماضی میں معاش کو حربے کے طور پر استعمال ہونے والی روایت آج بھی جاری ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ آج صحافیوں کو کورونا ہی نہیں بلکہ بے روزگاری کا خوف بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں کٹوتی کر کے بھی ان کی زبان بندی کی جا رہی ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 166 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 253 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 141 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 117 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 181 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8835 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4574 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3278 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2459 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2102 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1906 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C