کراچی میں مسجد اور قبرستان انتظامیہ کا خواجہ سرا کی لاش کی تدفین سے انکار
👁️ 66 بار دیکھا گیا
کراچی میں مسجد اور قبرستان انتظامیہ کا خواجہ سرا کی لاش کی تدفین سے انکار
کراچی (ویب ڈیسک) مکراچی کے علاقے مسلم آباد کی مسجد اور قبرستان انتظامیہ نے خواجہ سرا کی لاش کی تدفین سے انکار کر دیا۔
شہر قائد میں واقع مسلم آباد سے تعلق رکھنے والی ایک معمر خواجہ سرا نور جمعے کے روز خراب صحت کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔
خواجہ سراؤں کے حقوق کی کارکن حنا بلوچ نے اپنے انسٹاگرام پر نور کی تدفین اور اس کے انتظامات سے متعلق اپنے تجربے کے بارے میں ایک اسٹوری شیئر کی۔
خواجہ سرا خاندانی نظام میں نور کے چیلے، شاگرد یا بچے نے اس کے رشتہ داروں سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے نور کے جنازے میں آنے سے انکار کردیا تھا۔
محلے کی مسجد اور قبرستان کا عملہ نور کی خواجہ سرا شناخت کی وجہ سے نماز جنازہ ادا کرنے اور تدفین سے انکاری ہوگئے۔
حنا بلوچ نے مدد کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا جو مدد کے لیے تیار تھے، لیکن آگے بڑھنے سے پہلے انہیں پولیس کی تصدیق کی ضرورت تھی۔
کاغذی کارروائی کروانے کے لئے حنا بلوچ مومن آباد تھانے پہنچی تاہم پولیس نے اسپتال سے موت کی تصدیق سمیت مزید کاغذی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
حنا بلوچ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ چاند رات کو شہر کے ایک کونے میں اپنے گھر پر مرنے والے شخص کی موت کو سرکاری اسپتال سے تصدیق کروانا تقریباً ناممکن اور مایوس کُن تھا جہاں ایمبولینس بھی لاش کو لینے نہیں آرہی تھی اور جسم پہلے ہی گلنا شروع ہو چکا تھا۔
اس کے بعد حنا نے شہزادی رائے کو مدد کے لیے فون کیا، کیونکہ وہ سندھ پولیس کے لیے ٹرانس جینڈر نمائندہ ہیں اور ان کے سینئر پولیس افسران سے رابطے ہیں۔
شہزادی رائے کو کال کرنے کے بعد پولیس نے حنا بلوچ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اجازت نامہ جاری کیا اور ایک فرانزک ٹیم نور کے گھر بھیجی۔ بعد ازاں لاش کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے تدفین کے لیے لے جایا گیا۔
نور کی زندگی
نور 2016 سے چیک اپ کے لیے اسپتالوں میں جا رہی تھی۔ وہ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس میں مبتلا تھی۔
نور کے چیلوں نے آج نیوز کو بتایا کہ نور کے شاگردوں کے پاس اس کے تمام میڈیکل ریکارڈز کے ساتھ متعدد فائلز بھی موجود ہیں جن میں نجی اسپتالوں سے پچھلے 7 سالوں میں کرائے گئے میڈیکل ٹیسٹ کا ریکارڈ ہے لیکن اسپتال کے وہ تمام دورے اور ٹیسٹ نور کو بہتر ہونے میں مدد نہیں دے رہے تھے۔
ان کے شاگردوں کے مطابق نور اپنی زندگی کے آخری چند مہینوں میں علاج کے لیے جناح اسپتال جاتی رہی تھیں، شاگردوں کو شبہ ہے کہ نور کو کینسر تھا۔
نور کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے تھا لیکن ان کے خاندان نے انہیں اپنی زندگی کے اوائل میں ہی چھوڑ دیا تھا، اور ان کی تمام زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
نور کراچی کے اورنگی ٹاؤن مسلم آباد میں کرائے کے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہتی تھیں، پاکستان میں بہت سے خواجہ سراؤں کی طرح ان کی آمدنی کا ذریعہ بھی جشن کے اوقات میں لوگوں کے گھر جا کر دعائیں دینا اور بدلے میں پیسے وصول کرنا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 45 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 116 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 106 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8832 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4567 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3276 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2456 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2098 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1901 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C