03/April/2020

کراچی میں نماز جمعہ سے روکنے پر شہریوں کا پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر تشدد، گاڑیوں پر پتھراؤ

👁️ 54 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کراچی میں نماز جمعہ سے روکنے پر شہریوں کا پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر تشدد، گاڑیوں پر پتھراؤ

کراچی میں نماز جمعہ سے روکنے پر شہریوں کا پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر تشدد، گاڑیوں پر پتھراؤ

کراچی (ڈیلی اردو) کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے منع کرنے پر شہریوں نے پولیس کی دوڑیں لگوادیں جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے کراچی سمیت صوبے بھر میں دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک کرفیو جیسا لاک ڈاؤن کیا گیا اور کسی کو نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی گئی۔

لیاقت آباد کے علاقے میں شہریوں کی بڑی تعداد نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایک مسجد کا رخ کیا تو پولیس نے انہیں روکا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پابندی کے باوجود جمعہ کا اجتماع کرنے پر مسجد کے امام کو حراست میں لینے کی کوشش کی تو شہری مشتعل ہوگئے اور پولیس و رینجرز پر دھاوا بول دیا۔

شہریوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور اہلکاروں کو تھپڑ، لاتے اور گھونسے مارے۔ اس موقع پر کچھ لوگوں نے پولیس اہلکاروں کو بچاکر علاقے سے نکالا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کا محاصرہ کرلیا اور لوگوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی۔

واضح رہے کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر کراچی سمیت سندھ بھر میں 12 بجے دن سے ساڑھے 3 بجے تک ساڑھے 3 گھنٹے کا مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا، اس دوران لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر درجنوں افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔

نماز جمعہ کے اجتمامات اور باجماعت نمازوں کو روکنے کے لیے شہر بھر میں صبح 12 بجے سے ساڑھے 3 بجے تک مکمل لاک ڈاؤن رہا، شہر کے مختلف علاقوں میں واقع شاہراہوں پر لگے ناکوں پر پولیس، رینجرز اور پاک آرمی کے جوانوں کی اضافی نفری تعینات رہی۔

لاک ڈاؤن کے دوران مساجد، امام بارگاہوں اور پولیس کی جانب سے نمازِ جمعہ گھروں پر ادا کرنے کی ہدایت پر شہری گھروں تک محدود رہے۔

پاکستان میں آج کورونا وائرس سے مزید دو افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 37 تک جاپہنچی ہے جب کہ مزید کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2458 ہوگئی ہے۔

صوبہ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں مزید 2 افراد مہلک وائرس کا شکار بن گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق مریضوں کی عمریں 80 اور 60 سال تھیں جن کے یکم اپریل کو کورونا وائرس کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے تھے، دونوں افراد میں وائرس مقامی سطح پر منتقل ہوا۔

وزیر صحت کے مطابق صوبے میں اب تک مہلک وائرس کے باعث انتقال کرنے والوں کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔

سندھ کے محکمہ صحت کی سمری کے مطابق صوبے میں اب تک 42 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 783 ہوگئی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں مزید 18، سکھر 8، حیدرآباد 14 اور گھوٹکی میں 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق صرف کراچی میں کورونا وائرس کے کیسز کی کل تعداد 342 ہے۔

کورونا وائرس سے اب تک سندھ میں 13، پنجاب میں 11، خیبرپختونخوا 9، گلگت بلتستان 3 اور بلوچستان میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C