آرمینیا، آذربائیجان کے مابین شدید جھڑپیں، اب تک 240 ہلاکتیں
👁️ 40 بار دیکھا گیا
آرمینیا، آذربائیجان کے مابین شدید جھڑپیں، اب تک 240 ہلاکتیں
باکو (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) آذربائیجان اور آرمینیا کے دستوں کے مابین نگورنو کاراباخ کے علیحدگی پسند خطے کے باعث شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ دوسرا بڑا آذری شہر گنجہ بھی آرمینیائی حملوں کی زد میں ہے جبکہ ترکی نے آذری شہری علاقوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔
آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے اتوار چار اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق دونوں حریف ہمسایہ ممالک کی فورسز کے مابین کل ہفتے کے روز بھی جو شدید جھڑپیں ہوئیں، ان میں اطراف کو کافی زیادہ جانی نقصان ہوا۔ یہ جھڑپیں آج اتوار کے روز بھی جاری ہیں۔
ان جھڑپوں کے دوران آذری دستوں کی طرف سے نگورنو کاراباخ کے مرکزی شہر سٹیپاناکَیرٹ پر بھی نئے حملے کیے گئے۔ نگورنو کاراباخ کا یہ متنازعہ علاقہ آذربائیجان کا علیحدگی پسند خطہ ہے، جس نے ماضی میں اپنی خود مختاری کا یکطرفہ اعلان بھی کر دیا تھا اور جس کا انتظام کئی برسوں سے آرمینیائی نسل کے علیحدگی پسندوں کے پاس ہے۔
اب تک تقریباﹰ ڈھائی سو ہلاکتیں
آذربائیجان میں باکو اور آرمینیا میں یریوان سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق چند سال کے وقفے کے بعد نگورنو کاراباخ پر قبضے کی جنگ کے دونوں فریقوں کے مابین چند روز قبل دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی میں اطراف کے فوجیوں، جنگجوؤں اور عام شہریوں سمیت اب تک تقریباﹰ ڈھائی سو افراد مارے جا چکے ہیں۔
اسی دوران آرمینیا نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ نگورنو کاراباخ میں آذری دستوں کے بڑے حملوں میں اب تک 51 علیحدگی پسند آرمینیائی جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری طرف اس علیحدگی پسند خطے کی آرمینیائی نسل کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آذری دستے اب اس خطے کے صدر مقام سٹیپاناکَیرٹ میں شہری اہداف کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
آذربائیجان کا واضح اعلان
ان حالات میں آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے باکو میں بتایا کہ آرمینیائی فورسز کی طرف سے اس ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر گنجہ پر بھی راکٹوں سے حملے کیے جا رہے ہیں، جن میں اتوار کے روز کم از کم ایک سویلین ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
آذربائیجان کے دوسرے سب سے بڑے شہر گنجہ پر کیے جانے والے حملوں کے بعد آذری صدر الہام علییف کے ایک مشیر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آرمینیا میں وہ تمام عسکری اہداف تباہ کر دیں جائیں گے، جہاں سے گنجہ پر راکٹ حملے کیے جا رہے ہیں۔ ترکی کی طرف سے آرمینیا کی مذمت
آرمینیا مسیحی اکثریتی آبادی والی ریاست ہے، جس کا خطے میں سب سے بڑا حلیف ملک روس ہے، جو اسے ہتھیار بھی فراہم کرتا ہے۔
دوسری طرف آذربائیجان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، جو نگورنو کاراباخ کو آج بھی اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ خطے میں ترکی آذربائیجان کا بہت قریبی اتحادی ملک ہے۔
یہ ترکی اور آذربائیجان کے مابین اسی قربت کی وجہ سے ہوا کہ اتوار کے روز انقرہ میں ملکی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا، ”آرمینیائی دستوں نے آج دوسرے سب سے بڑے آذری شہر میں شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے جو حملے کیے ہیں، وہ انتہائی قابل مذمت ہیں۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 27 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 62 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 50 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8832 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4567 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3276 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2456 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2097 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1901 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C