15/December/2025

آسٹریلیا میں یہودی تقریب پر فائرنگ، 16 افراد ہلاک، 40 زخمی

👁️ 201 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آسٹریلیا میں یہودی تقریب پر فائرنگ، 16 افراد ہلاک، 40 زخمی

آسٹریلیا میں یہودی تقریب پر فائرنگ، 16 افراد ہلاک، 40 زخمی

سڈنی (ڈیلی اردو، اے ایف پی، اے پی، روئٹرز، ڈی پی اے)  آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے معروف اور مصروف سیاحتی مقام بونڈی بیچ پر اتوار 14 دسمبر کو فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے میں 16 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ درجنوں زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

 

آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ساحل پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے اور یہودی برادری کی جانب سے مذہبی تہوار حنوکا (Hanukkah) کی پہلی شمع روشن کرنے کی تقریب جاری تھی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 15 شہری ہلاک ہوئے جن کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان تھیں۔ نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے تصدیق کی ہے کہ 42 افراد تاحال ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

 

نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق حملے میں ملوث دونوں افراد آپس میں باپ بیٹا تھے۔ پولیس کمشنر مال لینن نے بتایا کہ 50 سالہ حملہ آور موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اب مزید کسی حملہ آور کی تلاش نہیں کی جا رہی اور واقعے کو دہشت گردی کے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔

 

پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے حملہ آور کے پاس اسلحہ لائسنس موجود تھا اور اس کے قبضے سے چھ آتشیں اسلحے برآمد ہوئے ہیں، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہیں ہی بونڈی بیچ پر ہونے والی فائرنگ میں استعمال کیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

 

عینی شاہدین نے بتایا کہ فائرنگ اچانک شروع ہوئی اور چند ہی لمحوں میں ساحل پر افراتفری پھیل گئی۔ ان کے مطابق ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا اور کئی افراد زمین پر گرے ہوئے تھے۔ 

 

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں فائرنگ کی آوازیں، چیخ و پکار اور لوگوں کو جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض غیر مصدقہ فوٹیجز میں ایک شہری کو حملہ آور کا ہتھیار چھینتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

 

اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ میں حنوکا کی تقریب کے لیے جمع ہونے والے یہودی افراد کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور اسے ’’یہودیوں کے خلاف دہشت گردانہ حملہ‘‘ قرار دیا۔ آسٹریلیا میں یہودی کمیونٹی کی نمائندہ تنظیموں نے بھی واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیسی نے واقعے کو ’’انتہائی حیران کن اور پریشان کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات آسٹریلوی معاشرے کی اقدار کے منافی ہیں۔

 

یہ واقعہ 2014 میں سڈنی کے لنڈٹ کیفے میں ہونے والے یرغمال بحران کے بعد ملک میں پیش آنے والے بدترین پرتشدد واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر آسٹریلیا میں سکیورٹی انتظامات اور اسلحہ لائسنسنگ کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C