20/February/2026

ایران امریکہ کشیدگی: عراق سے جرمن دستوں کی منتقلی

👁️ 124 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران امریکہ کشیدگی: عراق سے جرمن دستوں کی منتقلی

ایران امریکہ کشیدگی: عراق سے جرمن دستوں کی منتقلی

نرلن (ڈیلی اردو اے ایف پی) جرمن فوج نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عراق میں اپنے فوجی دستوں کو عارضی طور پر وہاں سے باہر منتقل کر دیا ہے

 

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے جمعرات 19 فروری کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ فوجی شمالی عراق کے شہر اربیل میں تعینات دستوں کا حصہ تھے، جنہیں اب ''عارضی طور پر‘‘ وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

 

جرمن وزارت دفاع کے ترجمان نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ شمالی عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں واقع فوجی اڈے سے درجنوں جرمن فوجیوں کو نکال لیا گیا ہے۔

 

 

ترجمان کے مطابق، ''اربیل کیمپ میں جرمنی کے اب صرف اتنے ہی فوجی اہلکاروں کی موجودگی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جتنے اس کیمپ کی عسکری کارکردگی کی صلاحیت کو جاری رکھنے کے لیے لازمی ہیں۔‘‘

 

برلن میں جرمن وزارت دفاع کے ترجمان نے اپنے آج کے بیانات میں اس امر کی کوئی وضاحت نہ کی کہ ''مشرق وسطیٰ میں کشیدگی‘‘ کی جس دلیل کو اربیل فوجی کیمپ سے جرمن دستوں کی منتقلی کی وجہ بتایا گیا ہے، اس کے اسباب کیا ہیں۔

 

دوسری طرف یہ امر واضح ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ اور خلیج کے علاقے میں امریکی جنگی بحری جہازوں کی موجودگی سے متعلق جو حکم دے چکے ہیں، اس کا سبب خطے میں ایران کے خلاف امریکہ کی ممکنہ عسکری کارروئی ہے۔

 

صدر ٹرمپ کے انہی احکامات کے بعد خطے میں امریکی عسکری تیاریوں اور جنگی ہوائی جہازوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

 

عراقی شہر اربیل میں جرمن فوجی دستوں کو ایک ایسے بین الاقوامی فوجی مشن کے تحت تعینات کیا گیا تھا، جس کا مقصد عراقی فورسز کی تربیت ہے۔

 

برلن میں وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اربیل سے وفاقی جرمن دستوں کے انخلا اور ان کی وہاں سے باہر عبوری تعیناتی کا عمل ''جرمنی کے کثیر القومی پارٹنرز کے ساتھ قریبی رابطہ کاری‘‘ سے مکمل کیا گیا۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C