03/January/2026

ایران میں مظاہرے: ٹرمپ کی دھمکی ’’ہم تیار اور لیس ہیں‘‘، تہران کی امریکہ کو سخت وارننگ

👁️ 230 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں مظاہرے: ٹرمپ کی دھمکی ’’ہم تیار اور لیس ہیں‘‘، تہران کی امریکہ کو سخت وارننگ

ایران میں مظاہرے: ٹرمپ کی دھمکی ’’ہم تیار اور لیس ہیں‘‘، تہران کی امریکہ کو سخت وارننگ

واشنگٹن/تہران (ڈیلی اردو،روئٹرز، اے پی، اے ایف پی،ڈی پی اے) ایران میں شدید مہنگائی اور اقتصادی جمود کے خلاف جاری اور اب تک کم از کم سات افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے عوامی احتجاجی مظاہرو‌ں کے تناظر میں تہران اور واشنگٹن کے مابین واضح دھمکیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

 

ایران میں شدید مہنگائی اور اقتصادی جمود کے خلاف جاری اور اب تک کم از کم سات افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے عوامی احتجاجی مظاہرو‌ں کے تناظر میں تہران اور واشنگٹن کے مابین واضح دھمکیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

 

اسلامی جمہوریہ ایران میں اب کئی صوبوں میں پھیل جانے والے اس عوامی احتجاج کا آغاز گزشتہ اتوار کے روز دارالحکومت تہران میں دکانداروں کے اپنی دکانیں بند کر دینے اور ان مظاہروں کے ساتھ ہوا تھا، جن میں کہا گیا تھا کہ بے تحاشا مہنگائی کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے ان کے لیے زندگی مشکل تر ہو چکی ہے۔ بعد میں یہ مظاہرے کئی دیگر ایرانی صوبوں اور شہروں تک پھیل گئے تھے۔

 

صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر پوسٹ

 

واشنگٹن سے جمعہ دو جنوری کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایرانی عوام کے ان مظاہروں کے حکومت مخالف احتجاج بن جانے کے پس منظر میں امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل نامی میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں تنبیہ کی کہ اگر تہران حکومت نے ’’پرامن مظاہرین کو طاقت اور تشدد کا استعمال کرتے ہوئے ہلاک‘‘ کیا، تو امریکہ ’’انہیں بچانے کے لیے آئے گا۔‘‘

 

امریکی صدر نے ساتھ ہی کوئی تفصیلات بتائے بغیر لکھا، ’’ہم تیار اور لیس (locked and loaded) ہیں اور جانے کے لیے بالکل تیار ہیں۔‘‘

 

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق امریکی صدر نے اپنا یہ بیان ان رپورٹوں کے بعد دیا، جن کے مطابق ایران میں عوامی مظاہروں کے شرکاء اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں جمعے کی صبح تک ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر سات ہو چکی تھی۔ اس سے قبل کل جمعرات یکم جنوری کی شام تک مارے جانے والوں کی تعداد صرف تین بتائی جا رہی تھی۔

 

تہران میں یہ مظاہرے اب مقابلتاﹰ کچھ کم ہو گئے ہیں مگر کئی دیگر شہروں بالخصوص دیہی علاقوں میں ان میں شدت آ چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نئے سال 2026ء کے پہلے دن مرنے والے پانچ افراد چار مختلف ایرانی شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین تصادم میں ہلاک ہوئے۔ 

 

سپریم لیڈر خامنہ ای کے سینئر مشیر لاریجانی کا جواب

 

امریکی صدر ٹرمپ کی ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی رد عمل کا اولین اظہار ملکی پارلیمان کے سابق اسپیکر، ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے موجودہ سیکرٹری اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خانہ ای کے سینئر مشیر علی لاریجانی کی طرف سے کیا گیا۔

 

لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ ایران میں مظاہروں کو ’’امریکہ اور اسرائیل ہوا دے رہے ہیں۔‘‘ لیکن انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہ کیے۔ ایران میں بار بار ہونے والے عوامی مظاہروں کے سلسلے میں ملکی حکام برسوں سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایسے الزامات لگاتے رہے ہیں۔

 

علی لاریجانی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’ڈونلڈ ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ (ایران کے) داخلی مسئلے میں امریکی مداخلت کا مطلب پورے خطے میں انتشار اور امریکی مفادات کی تباہی ہوں گے۔‘‘

 

ساتھ ہی ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے اس سینئر مشیر نے لکھا، ’’امریکی عوام کو علم ہونا چاہیے کہ مہم جوئی ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع کی تھی۔ انہیں اپنے فوجیوں کی زیادہ بہتر حفاظت کرنا چاہیے۔‘‘

 

ماہرین کے مطابق علی لاریجانی کے اس بیان میں ممکنہ طور پر اس بات کا حوالہ دیا گیا کہ امریکہ کی اس خطے میں فوجی موجودگی اور اس کے اثرات وسیع تر ہیں اور گزشتہ برس جون میں اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران میں اس کی جوہری تنصیبات سمیت کئی مقاقات پر جو فضائی حملے کیے گئے تھے، ان کے بعد تہران نے اسرائیل پر راکٹ بھی فائر کیے تھے اور قطر میں العدید کے فضائی اڈے پر امریکی عسکری مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی کی تھی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C