17/December/2025

ایران میں پولیس چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا حملہ، شہری سمیت چار اہلکار ہلاک

👁️ 189 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں پولیس چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا حملہ، شہری سمیت چار اہلکار ہلاک

ایران میں پولیس چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا حملہ، شہری سمیت چار اہلکار ہلاک

واشنگٹن (ش ح ط) ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان میں، پاکستانی سرحد کے قریب واقع ضلع فہرج میں رات گئے مسلح افراد نے ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو گیا۔

 

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا (IRNA) کے مطابق حملہ اچانک کیا گیا، جس دوران بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

 

تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کی شناخت و گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

 

سیستان و بلوچستان ایران کا ایک حساس اور شورش زدہ صوبہ ہے، جو پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے متصل ہے۔ یہ صوبہ ایران کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بڑی تعداد میں بلوچ نسلی اقلیت آباد ہے۔ یہ اقلیت مذہبی طور پر سنی مسلم عقیدے سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ ایران کی اکثریتی آبادی شیعہ مسلم ہے۔

 

اس علاقے میں ماضی میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث منظم جرائم پیشہ گروہوں اور سرکاری سیکیورٹی فورسز کے درمیان متعدد خونریز جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچ نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے باغی گروہوں اور سنی عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی کئی بار مسلح تصادم دیکھنے میں آیا ہے۔

 

پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے متصل اس صوبے میں سنی عسکریت پسندوں اور ایرانی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں معمول بن چکی ہیں۔

 

جیش العدل ایران کے سرحدی صوبہ سیستان و بلوچستان میں سرگرم ایک سنی بلوچ شدت پسند تنظیم ہے، جس کے بیشتر ارکان ماضی میں جنداللہ نامی گروہ سے وابستہ رہے ہیں۔

سن 2010 میں جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کی گرفتاری اور پھانسی کے دو سال بعد، 2012 میں جیش العدل اس وقت منظرعام پر آئی جب تنظیم نے پاسدارانِ انقلاب کے 10 اہلکاروں کو ہلاک کیا۔

 

امریکی ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل انٹیلی جنس کے مطابق جنداللہ نے ہی 2012 میں اپنا نام تبدیل کر کے جیش العدل رکھا، جبکہ یہ تنظیم بعض اوقات ’پیپلز ریزسٹنس آف ایران‘ کے نام سے بھی سرگرم رہی ہے۔

 

ادارے کے مطابق جیش العدل ایران کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں میں بھی فعال ہے۔

 

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے جیش العدل کو کالعدم تنظیم قرار دے رکھا ہے، تاہم یہ تنظیم تاحال پاکستانی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C