20/March/2026

ایران کے میزائل حملے: امریکہ کی ’سکڈ ہنٹنگ‘ طرز کی حکمت عملی دوبارہ فعال

👁️ 137 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کے میزائل حملے: امریکہ کی ’سکڈ ہنٹنگ‘ طرز کی حکمت عملی دوبارہ فعال

ایران کے میزائل حملے: امریکہ کی ’سکڈ ہنٹنگ‘ طرز کی حکمت عملی دوبارہ فعال

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی افواج کی جانب سے لگ بھگ آٹھ ہزار اہداف کو نشانہ بنانے کے باوجود ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

 

فضائیہ اور بحریہ کی محدود موجودگی کے باوجود ایران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مختلف علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

 

ایران کی جغرافیائی ساخت اور دہائیوں پر محیط منصوبہ بندی کے باعث ان ہتھیاروں کے ذخائر زمین کے اندر یا پہاڑوں کے نیچے گہرائی میں محفوظ ہیں، جس کی وجہ سے انہیں نشانہ بنانا مشکل ہے۔ اسی تناظر میں بنکر بسٹر بموں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ چند روز قبل امریکہ کی جانب سے بھاری وزنی طاقتور بم بھی استعمال کیا گیا۔

 

گزشتہ جمعے کو امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ ایران کی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس سے متعلق تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے۔

 

اس کے باوجود موجود ذخائر سے میزائلوں کا استعمال جاری ہے، جس کے باعث امریکہ اور اسرائیل اب موبائل لانچرز کو بھی نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انٹیلی جنس معلومات اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے ’تلاش کریں اور تباہ کریں‘ کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

 

اسی نوعیت کی حکمت عملی سنہ 1991 کی خلیجی جنگ میں بھی اختیار کی گئی تھی، جب امریکی فضائیہ کے ایف-15 اور ایف-16 طیاروں کو عراق کے سکڈ میزائلوں کو تلاش کر کے تباہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، جسے ’سکڈ ہنٹنگ‘ کہا جاتا تھا۔ یہی حربے آج بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C