03/March/2025

بلوچستان: قلات میں خاتون خودکش بمبار کا ونگ کمانڈر کے قافلے پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک، 4 زخمی

👁️ 56 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: قلات میں خاتون خودکش بمبار کا ونگ کمانڈر کے قافلے پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک، 4 زخمی

بلوچستان: قلات میں خاتون خودکش بمبار کا ونگ کمانڈر کے قافلے پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک، 4 زخمی

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع قلات میں ایف سی کے قافلے پر خاتون خودکش حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک خاتون خودکش حملہ آور نے قلات میں ایک ونگ کمانڈر کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کا اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے پیر کی شام جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ خاتون خودکش بمبار نے دوپہر 2:55 پر قلات کے قریب مڈ وے آر سی ڈی روڈ (این 25) پر فرنٹیئر کور کے قافلے کو نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خودکش حملے کا نشانہ ونگ کمانڈر، قلات تھے، جن کی گاڑی قافلے میں شامل تھی۔

تاہم بیان میں بتایا گیا کہ ونگ کمانڈر اس حملے میں محفوظ رہے۔

بیان کے مطابق خودکش حملے میں ایف سی کا ایک سپاہی جان سے گیا، جبکہ چار زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ‏علاقے کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، جب کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق خودکش حملہ قومی شاہراہ پر قلات کے علاقے مغل زئی کے قریب ہوا۔

ڈپٹی کمشنر قلات بلال شبیر نے بتایا کہ دھماکے میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور دیگر 4 سپاہی زخمی ہوگئے، مزید بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق خودکش حملہ آور خاتون تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد طبی امداد دی جارہی ہے، مزید بتایا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب مڈوے کے قریب سیکیورٹی فورسز کا قافلے گزر رہا تھا۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں جاری حالیہ شورش کے دوران سنہ 2022 سے خواتین کو بھی بطور خودکش بمبار استعمال کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون شاری بلوچ نے اپریل 2022 میں خود کش حملہ کیا تھا جس میں چینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس کے بعد سمیعہ بلوچ نے جون 2023 میں سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر خود کش حملہ کیا تھا۔ گذشتہ سال اگست میں لسبیلہ شہر میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر ایک اور خاتون کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔

قلات کہاں واقع ہے؟

قلات بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب میں اندازاً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ اس ضلع کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔ گذشتہ ماہ کے اوائل میں ضلع کے علاقے منگیچر میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 18 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 12عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے تھے۔

چند روز قبل منگیچر بازار میں بلوچستان کے ضلع چاغی سے معدنیات لے جانی والی گاڑیوں کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اگرچہ قلات بم دھماکوں، سکیورٹی فورسز پر حملوں اور سنگین بدامنی کے واقعات طویل عرصے سے پیش آ رہے ہیں تاہم سرکاری حکام اس بات پر مصر ہیں کہ ماضی کے مقابلے میں حکومتی اقدامات سے سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہے۔


اس رپورٹ میں شامل کچھ مواد برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی سے لیا گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C