26/March/2025

بلوچستان میں خونریزی کے متعدد واقعات، فورسز کے ساتھ جھڑپیں اور حملے، متعدد ہلاکتیں

👁️ 145 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں خونریزی کے متعدد واقعات، فورسز کے ساتھ جھڑپیں اور حملے، متعدد ہلاکتیں

بلوچستان میں خونریزی کے متعدد واقعات، فورسز کے ساتھ جھڑپیں اور حملے، متعدد ہلاکتیں

واشنگٹن (ش ح ط)پاکستان کے صوبے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ خونریزی کے واقعات میں مسلح افراد کی فائرنگ، دھماکوں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری مختلف عسکری گروپوں نے قبول کی ہے اور سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا ہے۔

کلمت میں فائرنگ، 6 افراد کی ہلاکت

گوادر کے علاقے پسنی اور اورماڑہ کے درمیان کلمت کے علاقے میں بلوچ عسکریت پسندوں نے 6 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق 5 افراد موقع پر ہلاک ہوئے، جبکہ ایک زخمی شخص اسپتال میں دم توڑ گیا۔

کوسٹل ہائی وے پولیس کے ایس پی حفیظ بلوچ کے مطابق، نامعلوم مسلح افراد نے گوادر سے کراچی جانے والی ایک بس کو روکا اور اس میں سوار چھ مسافروں کو نیچے اتار لیا۔

ایس پی کے مطابق، مسلح افراد نے بس سے اتارنے کے بعد ان افراد پر فائرنگ کی۔ پولیس نے اس حملے کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے اور ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

پولیس کے مطابق یہ افراد گوادر سے کراچی جا رہے تھے اور اس دوران حملہ کیا گیا۔ ان تمام افراد کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے منگچر کے علاقے ملنگ زئی میں ٹیوب ویل کی تنصیب پر کام کرنے والے 4 مزدوروں کو بلوچ عسکریت پسندوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ ان افراد کا تعلق صادق آباد سے تھا۔ اس واقعے کے بعد مقامی حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

تربت میں گرینیڈ حملہ، ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی

تربت شہر میں نامعلوم افراد کی جانب سے تین گرینیڈ فائر کیے گئے، جن میں سے ایک بی اینڈ آر کالونی میں واقع رہائشی کوارٹر پر جا گرا۔ کیچ پولیس کے سربراہ راشد رحمان زہری کے مطابق، گرینیڈ کے پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں میاں، بیوی اور ان کی تین بچیاں شامل ہیں۔

زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

کیچ: تجابان میں کنٹینرز کو نذر آتش کر دیا گیا

ضلع کیچ کے علاقے تجابان میں بلوچ عسکریت پسندوں نے ناکہ بندی کے دوران چار کنٹینرز کو آگ لگا دی۔ کیچ میں انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق، ان میں سے ایک کنٹینر کو بچا لیا گیا، جبکہ تین کنٹینرز کو آگ سے نقصان پہنچا۔

حکام کے مطابق، یہ کنٹینرز گوادر پورٹ سے یوریا کھاد لے کر افغانستان جا رہے تھے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

مستونگ میں سی ٹی ڈی اہلکاروں پر حملہ

مستونگ میں فائرنگ کے نتیجے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان کا سب انسپکٹر جاوید لہڑی ہلاک ہوگیا، جبکہ ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ یہ حملہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کے تین مقامات ژلی، کھڈکوچہ اور کلی چوتو پر بلوچ عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔

بلوچستان میں شدت پسندوں کی ناکہ بندی اور فورسز کے ساتھ جھڑپیں

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بلوچ عسکریت پسندوں کی ناکہ بندی اور فورسز کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔ سبی، مرزانی، ڈیرہ مراد جمالی اور خاران میں مسلح افراد نے پولیس چوکیوں پر قبضہ کر لیا اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

پشین میں پولیس گاڑی پر بم حملہ

پشین میں شدت پسندوں نے پولیس گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دو اہلکار ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں

پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن کرتے ہوئے 14 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کارروائیوں میں تربت، کوسٹل ہائی وے، کچالک، سبی کوئٹہ روڈ اور کوئٹہ تافتان روڈ شامل ہیں۔

مشکئی میں شدت پسندوں کا حملہ

آوران کی تحصیل مشکئی میں شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز، لیویز اور پولیس پر حملہ کیا، جسے سیکورٹی فورسز نے پسپا کر دیا اور 4 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دیگر شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

مستونگ، سبی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں فورسز کے آپریشن

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور لیویز نے دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ سبی، بختیار آباد، اور کولپور میں بلوچ عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد فورسز نے متعدد حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا اور کئی مقامات پر ناکہ بندی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

آوران اور قلات میں عسکریت پسندوں کے حملے

ضلع آوران اور قلات کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں نے فورسز کے کیمپوں پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں کئی دھماکے اور فائرنگ کے واقعات ہوئے ہیں۔ جس میں کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔ جبکہ ان حملوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے شدت ہسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خاران اور ڈیرہ مراد جمالی میں فورسز کے ساتھ جھڑپیں

خاران اور ڈیرہ مراد جمالی میں عسکریت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں کیں۔ ان جھڑپوں میں فورسز نے شدت پسندوں کو پسپا کر دیا اور متعدد حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

قلات اور سبی میں فورسز کی کارروائیاں

قلات اور سبی میں فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کیں تاہم جانی نقصانات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

کولپور اور ڈیرہ مراد جمالی میں عسکریت پسندوں کی ناکہ بندی

کولپور اور ڈیرہ مراد جمالی میں بلوچ عسکریت پسندوں نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر رکھی ہے، اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلسل جھڑپیں جاری ہیں۔

پاکستانی فورسز کے کیمپوں پر حملے

مند، سبدان اور سامی میں پاکستانی فورسز کے کیمپوں پر بلوچ عسکریت پسندوں نے حملہ کیا اور متعدد دھماکوں کے ساتھ فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔

سوئی گیس پائپ لائن پر دھماکا

راجن پور کے علاقے روجھان میں سوئی سے پنجاب جانے والی گیس پائپ لائن پر آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں پائپ لائن مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے گیس کی سپلائی متاثر ہوئی۔ اس حملے کی ذمہ داری کسی بھی عسکری گروپ نے فوری طور پر قبول نہیں کی۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور طالبان کی ذمہ داری

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور تحریک طالبان پاکستان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C