29/March/2025

بلوچستان میں فورسز پر 72 منظم حملے، 32 اہلکار ہلاک، 40 سے زائد زخمی، براس کا دعویٰ

👁️ 70 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں فورسز پر 72 منظم حملے، 32 اہلکار ہلاک، 40 سے زائد زخمی، براس کا دعویٰ

بلوچستان میں فورسز پر 72 منظم حملے، 32 اہلکار ہلاک، 40 سے زائد زخمی، براس کا دعویٰ

کوئٹہ (ڈیلی اردو) بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے عسکریت پسندوں نے بلوچستان بھر میں ایک منظم اور مربوط عسکری مہم کے دوران کل 72 کارروائیاں انجام دیں۔ یہ حملے پاکستانی فوج، نیم فوجی دستوں، خفیہ اداروں، ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈز، سرکاری تنصیبات، معدنیات اور توانائی لیجانے والی گاڑیوں، اور دیگر ریاستی مفادات کو نشانہ بنانے پر مرکوز تھے۔ ان کارروائیوں میں کم از کم 32 اہلکار ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ 14 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 30 سے زائد مقامات پر مرکزی شاہراہوں پر کئی گھنٹوں تک ناکہ بندیاں قائم کی گئیں۔ عسکریت پسندوں نے ان ناکہ بندیوں میں نہ صرف ٹریفک کو محدود کیا بلکہ منظم اسنیپ چیکنگ کے ذریعے دشمن فورسز اور ریاستی اہلکاروں کو شناخت کے بعد ہدف بنایا۔ یہ حکمت عملی براس کی متحرک اور گوریلا صلاحیتوں کا مظہر ہے۔

یہ حملے 27 مارچ 1948 کی مناسبت سے کیے گئے، جب پاکستان نے بلوچستان پر فوج کشی کے ذریعے قبضہ کر لیا تھا۔ یہ قبضہ بلوچستان کے تاریخی، جغرافیائی اور قانونی تشخص کے برخلاف تھا، جس کے خلاف بلوچ عوام نے ہمیشہ مزاحمت کی ہے۔ براس کی جانب سے کی گئی عسکری سرگرمیاں نہ صرف اس قبضے کے خلاف عملی مزاحمت ہیں بلکہ یہ اس بیانیے کو تقویت دیتی ہیں کہ بلوچستان آج بھی ایک مقبوضہ سرزمین ہے۔

گوادر میں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں

ان کارروائیوں کے دوران گوادر میں عسکریت پسندوں نے کوسٹل ہائی وے پر پسنی اور اورماڑہ کے درمیان دو گھنٹوں تک ناکہ بندی کی۔ اس دوران قابض فوج کے چھ اہلکاروں کو شناخت کے بعد ہلاک کیا گیا، جبکہ ایل پی جی لے جانے والے ایک گیس ٹینکر کو نذر آتش کر دیا گیا۔

اسی شب گوادر کے علاقے پدی زر میں سرمچاروں نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے قریب ایک فوجی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اسی طرح ایئرپورٹ روڈ پر فوجی چوکی پر حملہ کیا گیا جس میں دشمن کو جانی و مالی نقصان پہنچا۔

تربت اور کیچ میں حملے

تربت کے مختلف مقامات پر عسکریت پسندوں نے ناکہ بندیاں قائم کیں اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ تربت کے علاقے اصغر گیٹ کے ہیلی پیڈ پر راکٹ لانچر سے پانچ گولے داغے گئے، جس سے شدید آگ بھڑک اُٹھی۔ اسی طرح فوجی انٹیلی جنس دفتر کو گرنیڈ لانچر سے نشانہ بنایا گیا، جس سے دفتر کو بھاری نقصان ہوا۔

کیچ کے علاقے کولواہ میں عسکریت پسندوں نے فوجی کیمپ پر حملہ کیا اور 50 گولے داغ کر چار اہلکار ہلاک کیے۔ پسنی میں نیشنل بینک کے قریب کسٹمز کیمپ پر گرنیڈ لانچر سے گولے داغے گئے جس سے اہلکاروں کو شدید نقصان پہنچا۔

دیگر علاقوں میں کارروائیاں

خاران، سبی، اور دیگر علاقوں میں بھی عسکریت پسندوں نے ناکہ بندیاں قائم کر کے دشمن کے خلاف متعدد حملے کیے، جن میں ریاستی اہلکاروں کو ہدف بنایا گیا۔ اس دوران بعض مقامات پر سرکاری افسران کو حراست میں لے کر ان کا اسلحہ ضبط کیا گیا اور پھر انہیں رہا کر دیا گیا۔

کراچی میں بھی عسکریت پسند متحرک رہے اور پولیس تھانوں پر دستی بم حملے کیے جس کے نتیجے میں اہلکار زخمی ہوئے۔ پنجگور، ڈیرہ بگٹی اور دیگر علاقوں میں بھی عسکریت پسندوں نے مرکزی شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کر کے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا اور دشمن کی پیش قدمی کو روکا۔

براس کا موقف

بلوچ راجی آجوئی سنگر نے ان حملوں کو دشمن کے خلاف ایک تسلسل یافتہ اور ہم آہنگ مزاحمتی پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان حملوں کا مقصد دشمن کی عسکری قوت کو مسلسل چیلنج کرنا اور بلوچ آزادی کی تحریک کو مزید تقویت دینا ہے۔ براس نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ یہ مزاحمت بلوچستان کی آزادی تک جاری رہے گی۔

بلوچ لبریشن آرمی

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، جسے پاکستان، امریکہ، برطانیہ، یورپی ممالک اور اقوام متحدہ نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے، تقریباً تین سے پانچ ہزار ارکان پر مشتمل ایک علیحدگی پسند عسکری تنظیم ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان میں سرگرم دیگر علیحدگی پسند گروپوں میں سب سے منظم اور مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ بی ایل اے کا زیادہ تر آپریشن افغانستان اور ایران کی سرحد سے متصل بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ہے۔

معدنیات کی دولت سے مالا مال یہ خطہ، گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بیجنگ کی سرمایہ کاری کا مرکز بھی ہے۔ یہاں علیحدگی پسند گروپوں کی جانب سے ریاست مخالف سرگرمیاں کوئی نئی بات نہیں، تاہم بی ایل اے کے عسکریت پسندوں نے گزشتہ چند مہینوں میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے، تاکہ بلوچستان کی آزادی اور خودمختاری کے مطالبات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔

بی ایل اے کا بنیادی مقصد بلوچستان کی آزادی ہے، اور وہ بلوچستان کے قدرتی وسائل پر پاکستانی حکومتی قبضے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بلوچستان کی قدرتی دولت جیسے گیس، تیل اور دیگر وسائل پر قابض ہو کر پاکستان اور دیگر بیرونی طاقتیں بلوچ عوام کے حقوق کو پامال کر رہی ہیں۔ بی ایل اے کا مقصد ایک آزاد بلوچستان قائم کرنا ہے جہاں بلوچ عوام اپنے وسائل پر مکمل اختیار رکھتے ہوں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C