بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات، کیا یورپ تیار ہے؟
👁️ 87 بار دیکھا گیا
بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات، کیا یورپ تیار ہے؟
برسلز (ڈیلی اردو/رائٹرز/اے ایف پی/ڈی ڈبلیو) پولستانی وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک یورپ کو لاحق سکیورٹی خدشات میں اضافے اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ ممکنہ انتخابی فتح جیسے معاملات کے تناظر میں جرمنی اور فرانس کا دورہ کر رہے ہیں۔
یوکرینی جنگ اب تیسرے برس میں داخل ہونے والی ہے، دوسری جانب ڈونڈ ٹرمپ یورپی اتحادیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے نیٹو کے مستقبل پر سوالات اٹھا رہے ہیں، ایسے میں یورپی یونین میں سکیورٹی اور تحفظ کے اعتبار سے خود انحصاری جیسے مطالبات نے جنم لیا ہے۔
وارسا، برلن اور پیرس میں حکومتیں ایسی صورت حال میں دفاع کے معاملے پر یورپی اتحادپر زور دیتی ہیں اور اسی تناظر میں ستائیس رکنی یورپی یونین یوکرین کی امداد میں اضافے پر غور کر رہی ہے۔ واشنگٹن میں رونما ہوتی سیاسی تبدیلیوں کا یوکرینی تنازعے کے مستقبل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
پولستانی حکومت کے ایک ذریعے کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز نے لکھا ہے، ”یورپ کو اشتراک عمل کی ضرورت ہے۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ اگرامریکہ میں آئندہ ٹرمپ جیتے، تو یورپی لائحہ عمل کیا ہو گا؟ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ہمیں دفاعی صنعت کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔‘‘
اس ذریعے کے مطابق یورپ کو فوری طور پر اسلحہ اور بارود سازی کے شعبے میں مل کر کام کرنا ہو گا اور پولینڈ ‘اسٹریٹیجک خود مختاری‘ کی کوششوں کو بلاک نہیں کرے گا تاکہیورپ کا دیگر ممالک اور خطوں پر انحصار کم ہو۔
جرمنی میں پولینڈ سے تعاون کے امور کی سربراہی کرنے والے سرکاری اہلکار ڈیٹمار نیٹان کے مطابق، ”یہ پہلا موقع ہے کہ پولستانی حکومت کہہ رہی ہے کہ مشترکہ یورپی دفاعی صلاحیتیں مضبوط نیٹو سے متصادم نہیں ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ پولینڈ میں آٹھ سال تک قوم پرست حکومت کے دور میں جرمنی اور پولینڈ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی رہی تھی۔ پولینڈ میں سن 2015 سے 2023 تک کے دوران برلن حکومت کو ایک دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا رہا اور توانائی سے لے کر مہاجرت تک کے تمام مسائل کا موجب جرمنی کو قرار دیا جاتا رہا تھا۔
تاہم پولینڈ میں ڈونلڈ ٹسک کے وزیر اعظم بنتے ہی ایک مرتبہ پھر جرمنی، فرانس اور پولینڈ کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹسک ماضی میں یورپی یونین کی کونسل کے صدر بھی رہ چکے ہیں، جب کہ جرمنی، فرانس اور پولینڈ کے درمیان اشتراک عمل کا معاہدہ ‘وائیمار تکون‘ کہلاتا ہے، جو سن 1991 میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ان تینوں ممالک کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات پائے جاتے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات، امریکہ کا غیر ہنگامی عملے اور اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم
29/October/2026 👁️ 46 بار دیکھا گیا
عدن ایئرپورٹ پر حوثیوں کا حملہ، شہری زخمی، املاک کو نقصان؛ فضائی آمدورفت معطل
29/October/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
ایران کا سات روزہ منصوبہ نافذ کرانے کے لیے ثالثوں سے رابطہ جاری ہے، عباس عراقچی؛ قطر کی نئی تجاویز پر بھی اختلافات برقرار
29/October/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
جنگی خطرات کے باوجود روس کا ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ میں تعمیراتی سرگرمیاں تیز کرنے کا اعلان
28/October/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
شام کے صوبے ادلب میں فائرنگ کا تبادلہ، فرانسیسی جنگجو ہلاک؛ ساتھیوں کی انتقامی کارروائی کی دھمکی
28/October/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
ایتھوپیا کو روس کے 12 ایس یو 35 جنگی طیارے مل گئے، چار ایس 400 فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کیے جائیں گے
28/October/2026 👁️ 85 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26408 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15646 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11948 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9308 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7561 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5532 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C