بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات، کیا یورپ تیار ہے؟
👁️ 51 بار دیکھا گیا
بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات، کیا یورپ تیار ہے؟
برسلز (ڈیلی اردو/رائٹرز/اے ایف پی/ڈی ڈبلیو) پولستانی وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک یورپ کو لاحق سکیورٹی خدشات میں اضافے اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ ممکنہ انتخابی فتح جیسے معاملات کے تناظر میں جرمنی اور فرانس کا دورہ کر رہے ہیں۔
یوکرینی جنگ اب تیسرے برس میں داخل ہونے والی ہے، دوسری جانب ڈونڈ ٹرمپ یورپی اتحادیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے نیٹو کے مستقبل پر سوالات اٹھا رہے ہیں، ایسے میں یورپی یونین میں سکیورٹی اور تحفظ کے اعتبار سے خود انحصاری جیسے مطالبات نے جنم لیا ہے۔
وارسا، برلن اور پیرس میں حکومتیں ایسی صورت حال میں دفاع کے معاملے پر یورپی اتحادپر زور دیتی ہیں اور اسی تناظر میں ستائیس رکنی یورپی یونین یوکرین کی امداد میں اضافے پر غور کر رہی ہے۔ واشنگٹن میں رونما ہوتی سیاسی تبدیلیوں کا یوکرینی تنازعے کے مستقبل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
پولستانی حکومت کے ایک ذریعے کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز نے لکھا ہے، ”یورپ کو اشتراک عمل کی ضرورت ہے۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ اگرامریکہ میں آئندہ ٹرمپ جیتے، تو یورپی لائحہ عمل کیا ہو گا؟ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ہمیں دفاعی صنعت کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔‘‘
اس ذریعے کے مطابق یورپ کو فوری طور پر اسلحہ اور بارود سازی کے شعبے میں مل کر کام کرنا ہو گا اور پولینڈ ‘اسٹریٹیجک خود مختاری‘ کی کوششوں کو بلاک نہیں کرے گا تاکہیورپ کا دیگر ممالک اور خطوں پر انحصار کم ہو۔
جرمنی میں پولینڈ سے تعاون کے امور کی سربراہی کرنے والے سرکاری اہلکار ڈیٹمار نیٹان کے مطابق، ”یہ پہلا موقع ہے کہ پولستانی حکومت کہہ رہی ہے کہ مشترکہ یورپی دفاعی صلاحیتیں مضبوط نیٹو سے متصادم نہیں ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ پولینڈ میں آٹھ سال تک قوم پرست حکومت کے دور میں جرمنی اور پولینڈ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی رہی تھی۔ پولینڈ میں سن 2015 سے 2023 تک کے دوران برلن حکومت کو ایک دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا رہا اور توانائی سے لے کر مہاجرت تک کے تمام مسائل کا موجب جرمنی کو قرار دیا جاتا رہا تھا۔
تاہم پولینڈ میں ڈونلڈ ٹسک کے وزیر اعظم بنتے ہی ایک مرتبہ پھر جرمنی، فرانس اور پولینڈ کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹسک ماضی میں یورپی یونین کی کونسل کے صدر بھی رہ چکے ہیں، جب کہ جرمنی، فرانس اور پولینڈ کے درمیان اشتراک عمل کا معاہدہ ‘وائیمار تکون‘ کہلاتا ہے، جو سن 1991 میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ان تینوں ممالک کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات پائے جاتے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 148 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 203 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 105 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 95 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 146 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8832 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4569 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3277 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2457 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2100 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1903 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C