بھارت: شرپسندوں کا نئی دہلی میں مسجد پر حملہ، نمازیوں پر تشدد اور لوٹ مار
👁️ 53 بار دیکھا گیا
بھارت: شرپسندوں کا نئی دہلی میں مسجد پر حملہ، نمازیوں پر تشدد اور لوٹ مار
نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) بھارت کے قومی دارالحکومت دہلی کے نواح میں ایک گاؤں کی مسجد پر ہندوؤں نے حملہ کر کے نمازیوں کو مارا پیٹا اور مسجد کو لوٹ لیا۔ ہندو شدت پسند گروپوں نے مسلمانوں کو علاقے سے نکال باہر کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔
یہ واقعہ بھارتی دارالحکومت کے مضافات میں واقع گروگرام کا ہے جہاں متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر بھی ہیں۔ بدھ کی رات کو تقریباً دو سو افراد پر مشتمل ہندوؤں کے ایک ہجوم نے مسجد پر اس وقت حملہ کر دیا جب گاؤں کے لوگ عشا کی نماز ادا کر رہے تھے۔
Last night, while offering Isha prayer at Bhura Kala village in Gurgaon, Hindutva goons from the same village attacked the worshipers inside the mosque while offering namaz, later they also attacked women outside the mosque. In which 4-5 people were injured. + pic.twitter.com/DuuxcsWDFQ
— Meer Faisal (@meerfaisal01) October 13, 2022
اطلاعات کے مطابق ہندوؤں کے ہجوم نے مسجد میں گھس کر پہلے توڑ پھوڑ کی اور پھر نمازیوں پر حملہ کر دیا۔ مار پیٹ کرنے کے بعد مسلمانوں کو گاؤں سے نکال دینے کی دھمکی دی گئی۔
پولیس نے بھورا کلاں گاؤں کی مسجد پر حملے کے معاملے میں ایک کیس درج کیا ہے، تاہم ابھی تک کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ صوبیدار نذر محمد کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق بھورا کلاں گاؤں میں مسلم خاندانوں کے صرف چار گھر ہیں۔
ہندوؤں سے ہتھیار اٹھانے کی اپیل
گروگرام علاقے کے ایک سرگرم صحافی صابر قاسمی نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت میں کہا کہ اس علاقے کی سخت گیر ہندو تنظیمیں مسلمانوں کو کھلے میں نماز ادا کرنے سے پہلے ہی روکتی رہی ہیں، تاہم مسجد کے اندر گھس کر مقتدیوں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
ان کا کہنا تھا، ”اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، کیونکہ ہندوؤں نے کچھ دن پہلے ہی ایک پنچایت کی تھی اور اس میں نوجوانوں سے کہا گیا تھا کہ اب باتوں سے کام نہیں چلنے والا، انہیں ہتھیار اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ سخت گیر ہندو تنظیمیں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کافی دنوں سے مہم چلا رہی ہیں اور اب ان کی مساجد و مدارس ان کے نشانے پر ہیں۔ ”جو پورے ملک میں چل رہا ہے، یہ حملہ بھی اسی کا حصہ ہے۔”
معاملہ کیا ہے؟
صوبیدار نذر محمد کا کہنا ہے کہ اصل میں ہنگامہ بدھ کی صبح اس وقت شروع ہوا، جب مبینہ طور پر راجیش چوہان عرف بابو، انیل بھدوریا، اور سنجے ویاس کی قیادت میں تقریباً 200 لوگوں پر مشتمل ہندوؤں کے ایک ہجوم نے مسجد کا محاصرہ کر لیااور پھر اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے مقامی نمازیوں کو گاؤں سے نکالنے کی دھمکی دی۔
پولیس حکام کے مطابق نذر محمد نے اپنی شکایت میں کہا: ”رات کے وقت ایک بار پھر، جب ہم مسجد کے اندر نماز پڑھ رہے تھے، ہجوم نے آ کر نمازیوں پر حملہ کر دیا اور پھر مسجد کو باہر سے تالا لگا دیا۔ انہوں نے ہمیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔”
گاؤں کے بعض مسلمانوں نے پولیس کو اطلاع دی تاہم اس کے پہنچنے تک ملزمان وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ہندوؤں کے ہجوم نے مسجد میں رکھے قرآن کے نسخوں اور دیگر مذہبی کتابوں کو پھاڑ دیا اور باقی دیگر سامان لوٹ کر لے اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس کا بیان
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے جائے واردات سے ایک موبائل فون برآمد کیا ہے جو حملہ آور ہجوم میں شامل کسی شخص کا ہو سکتا ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ نذر محمد کی شکایت پرراجیش چوہان، انیل بھدوریا، سنجے ویاس اور کئی دیگر کے خلاف بلاس پور پولس اسٹیشن میں فسادات، مذہبی جھگڑے کی کوشش کرنے اور غیر قانونی اجتماع کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
سینیئر پولیس انسپکٹر گجیندر سنگھ کا کہنا تھا، ”شکایت کے مطابق ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ہم حقائق کی تصدیق کر رہے ہیں۔ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔”
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ریاست ہریانہ یا گروگرام میں مسلمانوں کی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ ماضی میں اس طرح کے واقعات کئی بار پیش آ چکے ہیں۔ گزشتہ برس اسی علاقے میں ہندو تنظیموں نے مقررہ میدان کے اندر جمعے کی نماز ادا کرنے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا تھا۔
کئی ماہ تک جاری رہنے والے اس احتجاج کو پولیس نے حل کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم ہندو تنظیموں نے ماننے سے انکار کر دیا اور اس طرح کئی علاقوں میں مسلمانوں نے نماز پڑھنا بند کر دی تھی۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اب اس طرح کا رویہ اب عام ہوتا جا رہا ہے۔ چند روز پہلے ہی کی بات ہے، دارالحکومت دہلی میں منعقدہ ہندوؤں کے جلسے میں مسلم مخالف اور انتہائی منافرت آمیز تقریریں کی گئی تھیں۔ اس جلسہ عام میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان پرویش سنگھ ورما نے مسلمانوں کا مکمل سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی اور وہاں موجود لوگوں سے اس کا حلف بھی لیا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 166 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 253 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 141 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 117 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 181 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8835 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4574 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3278 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2459 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2102 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1906 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C