27/May/2025

جنوبی وزیرستان میں والی بال گراؤنڈ پر پاکستانی ڈرون حملہ، 22 شہری زخمی، علاقہ خوف و ہراس

👁️ 102 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنوبی وزیرستان میں والی بال گراؤنڈ پر پاکستانی ڈرون حملہ، 22 شہری زخمی، علاقہ خوف و ہراس

جنوبی وزیرستان میں والی بال گراؤنڈ پر پاکستانی ڈرون حملہ، 22 شہری زخمی، علاقہ خوف و ہراس

واشنگٹن (ش ح ط) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک میں منگل کے روز اس وقت قیامت صغریٰ بپا ہو گئی جب ایک والی بال گراؤنڈ پر مبینہ طور پر پاکستانی فوج کے کواڈ کاپٹر ڈرون کے ذریعے بم گرا دیا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 22 مقامی شہری زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں نوعمر بچے، نوجوان اور بزرگ شامل ہیں۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ شام کے وقت کرمزی سٹاپ کے قریب پیش آیا، جب ایک کھلے میدان میں والی بال کا مقامی میچ جاری تھا۔ درجنوں افراد میچ دیکھنے کے لیے گراؤنڈ میں موجود تھے کہ اسی دوران ایک کواڈ کاپٹر ڈرون فضا میں نمودار ہوا اور کچھ ہی لمحوں بعد ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔

بم گرنے سے گراؤنڈ میں بھگدڑ مچ گئی اور کئی افراد خون میں لت پت زمین پر گر پڑے۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر زخمیوں کو اپنی مدد آپ کے تحت قریبی ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال وانا منتقل کیا، جہاں چار افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

متاثرین کون ہیں؟

زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر مقامی پشتون نوجوان اور بچے شامل ہیں۔

وانا کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) کی جانب سے جاری واقعے کی رپورٹ میں رات 8 بجے ’ڈرون حملے‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 13 سے 60 سال کی عمر کے 22 افراد زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ایک 13 سالہ بچے اور ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ 7 بچے زیادہ زخمی ہیں، جن کی عمریں 15، 18 اور 19 سال ہیں، اس کے علاوہ باقی 13 ’معمولی‘ زخمی ہوئے، جن میں سے دو کو فارغ کر دیا گیا۔

سماجی کارکنان اور مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد بے گناہ تھے اور صرف کھیل کی غرض سے وہاں موجود تھے۔

علاقہ مکینوں کا ردعمل

واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ مقامی افراد نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “اپنے ہی شہریوں کے خلاف غیر انسانی اور ظالمانہ کارروائی” قرار دیا ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

پی ٹی ایم (پشتون تحفظ موومنٹ) کے مقامی و مرکزی رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “پشتون علاقوں کو ایک مرتبہ پھر تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے”۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے پر پارلیمانی تحقیقات کی جائیں اور فوجی کارروائیوں میں شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

حکام کی خاموشی

تاحال پاکستانی فوج، آئی ایس پی آر یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واقعے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کے باعث مقامی میڈیا کو بھی بروقت معلومات تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

تشویش

جنوبی وزیرستان پہلے ہی ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے فوجی آپریشنز، شدت پسندی اور بدامنی کا شکار رہا ہے۔ اب ایک پرامن سرگرمی کے دوران شہریوں کو اس طرح نشانہ بنائے جانا انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور مقامی برادری دونوں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

واضح رہے کہ 19 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی کے گاؤں ہرمز میں مبینہ ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کے 4 بچے ہلاک اور 5 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں، جبکہ مقامی افراد نے واقعے کے خلاف دھرنا دے دیا تھا۔

آج شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں گزشتہ ہفتے مبینہ ڈرون حملے کے خلاف دھرنا دینے والے مقامی افراد نے مقامی انتظامیہ کے ساتھ معاہدے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

ڈیلی اردو اس واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مزید تفصیلات سامنے آنے پر قارئین کو آگاہ کرتا رہے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C