06/May/2025

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر: کئی اہلکار اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور ہلاکتیں

👁️ 89 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر: کئی اہلکار اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور ہلاکتیں

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر: کئی اہلکار اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور ہلاکتیں

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا اور سابقہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی نئی لہر میں کئی اہلکار ہلاک، اغواجبکہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ آپریشن میں کئی حملہ آور مارے گئے ۔

بنوں، وزیرستان، ٹانک، خیبر اور لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپوں، فائرنگ، اغوا اور دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

بنوں

بنوں کے علاقے غونڈیری میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ ایف سی اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ دیگر حملہ آور فرار ہو گئے۔

اسی ضلع کے علاقے کنگر جان بہادر کے قریب دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار جہانزیب موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

شمالی وزیرستان

تحصیل میر علی سے تعلق رکھنے والے ایک معروف قبائلی مشر ملک محمد نور عرف شمیر کو دہشت گرد اغوا کر کے لے گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اغوا کی واردات رات گئے ہوئی اور تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔

دوسری جانب شگہ پوسٹ پر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد حملہ ناکام بناتے ہوئے ایک حملہ آور کو ہلاک اور دیگر کو زخمی کر دیا، جو بعد میں فرار ہو گئے۔

جنوبی وزیرستان

علاقہ مکین میں سیکیورٹی فورسز اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان جھڑپ کے دوران تنظیم کا ایک اہم کمانڈر میر قاجان مارا گیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ کئی کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا۔

ٹانک

ٹانک کے علاقے کوٹ اعظم میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر رفیع اللہ عرف رفی کو ہلاک کر دیا۔

علاوہ ازیں دہشت گردوں نے فوجی جوان عدنان ولد نواب اور پولیس اہلکار علی گوہر ولد عبدالحکیم کو اغوا کر لیا۔

ٹانک ہی سے دو سرکاری ملازمین قدرت اللہ (ضلعی عدالت کا ملازم) اور ابراہیم (ایف سی اہلکار) کو بھی اغوا کر لیا گیا۔

جبکہ لقمان پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے میں پولیس اہلکار نوید شدید زخمی ہو گیا۔

خیبر

خیبر کی وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے۔
اسی علاقے میں سعید کرم بابا قبرستان کے قریب دہشت گردوں کی فائرنگ سے لانس نائیک ہلاک جبکہ حوالدار زخمی ہو گیا۔

لکی مروت

لکی مروت میں ایک مسافر گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک بچہ سمیت دو افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکہ کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔

ذمہ داری کی قبولیت

ان تمام واقعات کی ذمہ داری اتحاد المجاہدین پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان گروہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیانات میں ان حملوں کو “ریاستی فورسز کے خلاف جہاد” قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق یہ دہشت گرد حملے ایک منظم حکمت عملی کا حصہ لگتے ہیں، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری ملازمین، اور قبائلی عمائدین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائیاں کی ہیں، تاہم صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C