23/October/2025

شمالی کوریا سے میزائلوں کی فائرنگ، خطے میں ہلچل

👁️ 384 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شمالی کوریا سے میزائلوں کی فائرنگ، خطے میں ہلچل

شمالی کوریا سے میزائلوں کی فائرنگ، خطے میں ہلچل

پیونگ یانگ (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) شمالی کوریا نے بدھ کے روز دارالحکومت پیونگ یانگ کے جنوبی علاقے سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے کئی بیلسٹک میزائل فائر کیے، جس کی تصدیق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کی ہے۔ یہ میزائل تقریباً 350 کلومیٹر (218 میل) کی دوری تک شمال مشرقی سمت میں گئے۔

 

میزائلوں کا یہ تجربہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب جنوبی کوریا کے نئے صدر لی جے میونگ نے جون میں عہدہ سنبھالا تھا، اور یہ ان کے دور صدارت میں شمالی کوریا کا پہلا میزائل تجربہ ہے۔ اس اقدام نے خطے میں امن کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی کوریا کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں۔

 

سفارتی سرگرمیاں

 

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے مطابق اس میزائل تجربے کے بعد قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

جاپان کی نئی وزیر اعظم سانائے تاکائچی نے کہا ہے کہ کوئی میزائل جاپان کی علاقائی حدود میں داخل نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹوکیو، سیئول اور واشنگٹن کے درمیان قریبی رابطہ قائم ہے۔

 

یہ میزائل تجربہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) کے سربراہی اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں، جس میں امریکی صدر ٹرمپ، چینی صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنما شرکت کریں گے۔

 

امن کی کوششوں کو دھچکا

 

صدر لی جے میونگ نے اپنی انتخابی مہم اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں شمالی کوریا کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور جوہری تخفیف اسلحہ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے دشمنانہ اقدامات کو روکنے کی بات کی تھی اور بین الکوریائی تعاون کو فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

 

تاہم شمالی کوریا کی جانب سے یہ میزائل تجربہ ان کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا نے آخری بار 8 مئی کو اپنے مشرقی ساحل سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے کئی میزائل فائر کیے تھے۔ موجودہ تجربہ اس کے بعد سے پہلا تجربہ ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

 

اثرات

 

شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کا فائر کیا جانا  نہ صرف جنوبی کوریا کی نئی حکومت کے لیے ایک آزمائش ہے بلکہ یہ خطے میں سفارتی کوششوں اور امن کی امیدوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب ایپک اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں ممکنہ طور پر اس معاملے پر بات چیت کی جائے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C