19/October/2019

ضلع کرم کے کشیدہ حالات کا ممکنہ حل….! (میر افضل خان طوری)

👁️ 98 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ضلع کرم کے کشیدہ حالات کا ممکنہ حل….! (میر افضل خان طوری)

ضلع کرم کے کشیدہ حالات کا ممکنہ حل….! (میر افضل خان طوری)

شاید قبائلی ضلع کرم کے اقوام نزاع کے گرداب میں غوطہ زن ہیں۔ ان کے اذہان عالیہ سے محبت، شفقت، الفت اور انس جیسے الفاظ کا وجود متروک ہو چکا ہے۔ اب ان کے پاس صرف زہریلے الفاظ کا نایاب زخیرہ باقی ہے۔ ان کے الفاظ اتنے ضرر رساں ہو چکے ہیں کہ اچھے بھلے سماعتوں کو بھی مفلوج کر دیتے ہیں۔

نوجوان نسل کے افکار اور سوچ وچار میں پراگندگی اور آشفتگی کو انڈیل دیا جا رہا ہے۔

سب اپنی اپنی جہالت کے قدیم منتر پڑھ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے پرانے جاہل عرب قبیلوں کی طرح لڑائیوں میں شکست کے طعنے دئے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو راستے بند کرنے اور مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ راستے ریاست کی نہیں انکی ذاتی ملکیت میں ہوں۔

اخلاق کی پستی کا معیار تو یہ ہے کہ ایک مشر ہونے کے باوجود میڈیا پر فحش گفتگو کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ سخن سازی ان کی گفتگو سے روٹھ چکی ہے۔ اب ان کے پاس زبان درازی کے سوا کچھ نہیں بچا ہے۔ سب اپنی اپنی تاریخی جاہلیت کا ماتم کر رہے ہیں۔

حکومت وقت روایتی طور پر دونوں کو شاباش کہنے پر بضد ہے۔ دراصل ان تمام تر تنازعات کی جر ضلع کرم کی حکومت ہی تو ہے۔ آج جتنے بھی شیعہ سنی گھرانے بے گھر ہوچکے ہیں یہ سب اسی حکومتی انتظامیہ کے زیر نگرانی ہوئے ہیں۔ حکومت نے اقوام کے بنیادی مسائل کو جوں کا توں چھوڑ دیا ہے۔

موجودہ سرکاری انتظامیہ اگر خود کو واقعی مخلص سمجھتی ہے تو ان کو چاہئے کہ سب سے پہلے دشنام طرازی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے اور ہر اس میڈیا کو بند کر دے جو قوموں کے پیچ نفرت کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

پھر لوئر کرم کیلئے صدہ کو محفوظ بنائیں۔ یہاں مسلسل مشتعل ہجوم نے لوگوں کو خون میں نہلایا ہے۔ دادو جاجی کے پورے گھرانے کے قتل کا واقعہ ہو، 200 ٹرکوں کو جلانے اور ڈرائیورز کو قتل کرکے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا واقعہ ہو یا صدہ میں اہل تشیع امام بارگاہ و مساجد کو مسمار کرنے کا واقعہ ہو، یہ سب شہر میں موجود کچھ شدت پسند عناصر کی اشتعال انگیزی کے بین ثبوت ہیں۔

صدہ شہر میں بھی پاراچنار کے طرز پر ریڈ رون قائم کیا جائے تاکہ سمیر سے لے کر بالشخیل تک مسایہ لوگوں کی مکمل حفاظت ہو۔

پاراچنار سے صدہ کے راستے کی کڑی نگرانی ہونی چاہئے تاکہ آئندہ اس قسم کا نا خوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔ راستے کی حفاظت کرنا حکومت کی زمہ داری ہے۔

پاراچنار میں اہل سنت اور صدہ میں اہل تشیع کے بے دخل گھرانوں کو مکمل طور پر بحال کیا جائے۔
بالشخیل کی زمینوں پر نا جائز قبضے کو فوری طور پر چھڑایا جائے اور کاغذات مال کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔

پاراچنار میں اہل سنت کے جن علاقوں پر اہل تشیع کا اگر ناجائز قبضہ ہے تو حکومت فوری طور پر ان کو اپنا حق دیں۔

صدہ چونکہ لوئر کرم کا کیپٹل بنتا جا رہا ہے۔ اس لئے حکومت پر واجب ہے کہ وہ وہاں پر مسمار شدہ اہل تشیع امام بارگاہ اور مسجد کو اپنی نگرانی میں تعمیر کر دے تاکہ سمیر سے لے کر بالشخیل تک لوگوں کو نماز اور مجالس کی سہولت میسر ہوں۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C