طورخم بارڈر کی بندش: افغان طالبان کی پاکستان پر کڑی تنقید
👁️ 140 بار دیکھا گیا
طورخم بارڈر کی بندش: افغان طالبان کی پاکستان پر کڑی تنقید
کابل (ڈیلی اردو/رائٹرز/اے پی/ڈی پی اے) افغان طالبان کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ طورخم کی سرحدی گزرگاہ کی بندش پر کڑی تنقید کی ہے۔ دونوں ممالک کے مابین یہ مرکزی بارڈر کراسنگ اسی ہفتے بدھ کے روز اطراف کی سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کے بعد بند کر دی گئی تھی۔
افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ اپنے ملک کی اس سب سے مصروف سرحدی گزر گاہ کی بندش پر تنقید کرتے ہوئے اتوار دس ستمبر کے روز کہا کہ اس بارڈر کراسنگ کے بند کر دیے جانے کے نتیجے میں تجارت کے لیے سامان کی آمد و رفت رک جانے سے افغان تاجروں کو بھاری کاروباری نقصانات ہو رہے ہیں۔
کابل میں وزارت خارجہ کی انتظامیہ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پہلے اس سرحد پر افغان سکیورٹی فورسز پر کی جانے والی فائرنگ اور پھر اس سرحد کو بند کر دینے کا فیصلہ ایسے اقدامات ہیں، جو ‘ہمسایوں کے طور پر اچھے طرز عمل‘ کے منافی ہیں۔
پاکستانی موقف
اس کے برعکس پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہ سرحدی گزر گاہ سرحد پار سے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں پر کی جانے والی فائرنگ اور پھر اطراف کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے بعد بند کی گئی تھی۔ ساتھ ہی اسلام آباد کئی مرتبہ کابل میں موجودہ ملکی انتظامیہ سے یہ مطالبہ بھی کر چکا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز پر کیے جانے والے حملے بند کروائے۔
پاکستان کافی عرصے سے یہ مطالبہ بھی کر رہا ہے کہ عسکریت پسند افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور طالبان کی قیادت کو یہ سلسلہ بند کرانا چاہیے۔ پاکستان پر افغانستان سے حملے کرنے والے عسکریت پسندوں سے اسلام آباد کی زیادہ تر مراد ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ان شدت پسندوں سے ہوتی ہے، جن میں سے بہت سے اب افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
طورخم کی سرحد کی بندش کی وجہ سے اس وقت یہ گزر گاہ پار کرنے کے خواہش مند ہزاروں ڈرائیور اپنے مال بردار ٹرکوں کے ساتھ وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد 2600 کلومیٹر (1615 میل) طویل ہے اور اس سرحد سے جڑے دوطرفہ تنازعات عشروں سے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدگی کی وجہ بنتے رہتے ہیں۔
ایک اور پاکستانی فوجی کی ہلاکت
پاکستانی فوج کے مطابق ملک کے شمال مغرب میں افغان سرحد کے قریب گزشتہ رات عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک مسلح جھڑپ میں ایک اور پاکستانی فوجی مارا گیا۔
پاکستان آرمی نے اتوار کے روز بتایا کہ یہ جھڑپ صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں میر علی کے مقام پر ہوئی۔ وہاں پاکستانی سکیورٹی دستے عسکریت پسندوں کی تلاش کے لیے کارروائیاں کر رہے تھے کہ وہ شدت پسندوں کی فائرنگ کی زد میں آ گئے، جس کے بعد اطراف کے مابین فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
ماضی میں وفاق پاکستان کے زیر انتطام قبائلی علاقے یا فاٹا کہلانے والے شمالی اور جنوبی وزیرستان جیسے متعدد نیم خود مختار اضلاع عشروں تک عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں رہے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدے پر اندرونی اختلافات سامنے آ گئے
13/June/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا چکا، وزیراعظم شہباز شریف
13/June/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے مجوزہ معاہدے کا اسرائیل حصہ نہیں، وزیراعظم نتین یاہو
13/June/2026 👁️ 111 بار دیکھا گیا
بنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے دو واقعات، دو پولیس اہلکار ہلاک
13/June/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر ’بہترین‘ سمجھوتہ طے پا گیا، امریکی صدر
13/June/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
لکی مروت: مسجد پر خودکش حملے کی کوشش ناکام، حملہ آور مارا گیا، 2 افراد ہلاک
13/June/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8816 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4525 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3257 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2436 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2079 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1884 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C