19/April/2025

لال مسجد، افغانستان، ٹی ٹی پی اور بھاری فنڈنگ: آزاد کشمیر میں گرفتار نیٹ ورک کا اعترافی بیان جاری

👁️ 50 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لال مسجد، افغانستان، ٹی ٹی پی اور بھاری فنڈنگ: آزاد کشمیر میں گرفتار نیٹ ورک کا اعترافی بیان جاری

لال مسجد، افغانستان، ٹی ٹی پی اور بھاری فنڈنگ: آزاد کشمیر میں گرفتار نیٹ ورک کا اعترافی بیان جاری

واشنگٹن (ڈیلی اردو اسپیشل رپورٹ) کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے ایک نیٹ ورک کو آزاد کشمیر میں گرفتار کیے جانے کے بعد سامنے آنے والے ویڈیو بیانات نے سیکیورٹی اداروں کو نئی چوکسی پر مجبور کر دیا ہے۔ گرفتار شدت پسندوں نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے روابط نہ صرف افغانستان میں موجود شدت پسند قیادت سے ہیں، بلکہ پاکستان میں اسلام آباد کی متنازع لال مسجد اور مولانا عبدالعزیز سے بھی براہِ راست تعلق رہا ہے۔

اسامہ کا اعترافی بیان جاری

آزاد کشمیر سے گرفتار شدت پسند اسامہ اسلم کا وڈیو بیان جاری کر دیا گیا ہے، جس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ماضی میں اسلام آباد کی لال مسجد کے مولانا عبد کا گن مین رہ چکا ہے اور افغانستان سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کر چکا ہے۔ اسامہ نے بیان میں بتایا کہ اس کا ہدف پاکستان اور کشمیر میں حساس اداروں پر حملے کرنا تھا۔ واضح رہے کہ دو روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی کارروائی کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے 9 شدت پسندوں کو گرفتار کیا تھا، جن میں اسامہ بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل آزاد کشمیر کے وزیر داخلہ کرنل وقار نور نے مظفرآباد میں انسپکٹر جنرل پولیس رانا عبدالجبار کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ان گرفتاریوں کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شدت پسند سرحد پار سے تربیت، مالی معاونت اور اسلحہ حاصل کر کے آزاد کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

وزیر داخلہ کے مطابق، گرفتار شدت پسند زرنوش نسیم کی نشاندہی پر 19 مارچ کو آزاد پتن کے مقام سے ثاقب نامی شدت پسند کو گرفتار کیا گیا، جو اس نیٹ ورک کا مرکزی رکن ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران پونچھ اور میرپور ڈویژن سے گرفتار دیگر شدت پسندوں کے اعترافی ویڈیو بیانات بھی میڈیا کو دکھائے گئے۔

ثاقب نے اپنے 5 منٹ 34 سیکنڈ طویل اعترافی بیان میں کہا: “ہم ایک گروپ کی صورت میں کام کر رہے تھے جس کا مقصد آزاد کشمیر میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا تھا۔ ہمیں افغانستان سے فنڈنگ اور تربیت مل رہی تھی۔ ہمارے گروہ میں ڈاکٹر عبدالروف، غازی شہزاد اور زرنوش نسیم شامل تھے۔ ہم نے عسکری اور سول تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، اور ہمارے تعلقات اسلام آباد کی لال مسجد اور مولانا عبدالعزیز سے بھی قائم تھے۔ ہمیں ہتھیار مہیا کیے گئے تھے تاکہ ہم حساس مقامات کو نشانہ بنا سکیں۔”

بیان میں ثاقب نے مزید کہا کہ نیٹ ورک کے ارکان آزاد کشمیر میں ایک منظم منصوبے کے تحت کارروائیوں کی تیاری کر رہے تھے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے عزائم ناکام بنا دیے۔

اس کے علاوہ، اسامہ اور معیز نامی شدت پسندوں نے بھی اپنے بیانات میں پولیس اہلکار سجاد ریشم کو ہلاک کرنے اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا۔ ان کے مطابق بعض کارروائیاں اس وقت ناکام ہوئیں جب ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

وزیر داخلہ کرنل وقار نور نے واضح کیا کہ ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور آزاد کشمیر میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ارد گرد مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ امن و امان کی فضا برقرار رکھی جا سکے۔

پاکستان، ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے لیے “خوارج” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C