لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ 99 کمپنیاں، 130ریسٹورنٹس، 13 کمرشل جائیدادیں اور 2 شاپنگ مال کے مالک نکلے
👁️ 109 بار دیکھا گیا
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ 99 کمپنیاں، 130ریسٹورنٹس، 13 کمرشل جائیدادیں اور 2 شاپنگ مال کے مالک نکلے
اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) گذشتہ ماہ جب حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کی تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کا خوب چرچا ہوا۔
ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ اور بعد میں فوج کے سدرن کمانڈ کی قیادت کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ، جو کہ اب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہیں، کے اثاثہ جات پر کڑی تنقید کی گئی۔
مگر جب 27 اگست کو صحافی احمد نورانی کی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کے کاروبار کے بارے میں ایک مفصل تحقیقاتی رپورٹ ‘فیکٹ فوکس’ نامی ویب سائٹ پر شائع ہوئی تو بس پھر سوالات اور تنقید کا ایک ایسا پنڈورا باکس کھل گیا جو کہ رات گئے تک بند ہونے نام ہی نہیں لے رہا تھا اور ٹوئٹر پر مسلسل ‘عاصم باجوہ’ اور ‘باجوہ لیکس’ ٹرینڈ کر رہا تھا۔
صحافی احمد نورانی نے اپنے مضمون میں دعوی کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کے ‘خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلاؤ اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔’
اپنے مضمون میں احمد نورانی لکھتے ہیں کہ عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی ‘ چار ممالک میں 99 کمپنیاں، 130 سے زیادہ فعال فرینچائز ریسٹورنٹس، اور 13 کمرشل جائیدادیں ہیں جن میں سے امریکہ میں دو شاپنگ مال بھی شامل ہیں۔’
یہاں پر احمد نورانی نے اہم نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ’عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کروائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ متعلقہ کالم میں باقاعدہ ‘نہیں ہے‘ لکھا ہے۔’
احمد نورانی نے اپنے مضمون میں دعوی کیا کہ ان کی تحقیق کے مطابق جنرل (ر) عاصم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا اپنے شوہر کے بھائیوں کے قائم کردہ باجکو گروپ کے تمام کاروباروں میں ان کے ساتھ برابر کی حصہ دار اور مالک ہیں۔
صحافی احمد نورانی کے مضمون میں دعوی کیا گیا ہے کہ عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی چار ممالک میں 99 کمپنیاں، 130 سے زیادہ فعال فرینچائز ریسٹورنٹس، اور 13 کمرشل جائیدادیں ہیں
99 companies
130 franchises
13 comm properties including 2 shoppling centers in US
Son Eusha purchased 2 houses in United States when Lieutenant General Asim Saleem Bajwa was commander Southern Command.Read my investigations for @FactFocusFF#FactFocushttps://t.co/sic5c0p4f3
— Ahmad Noorani (@Ahmad_Noorani) August 27, 2020
احمد نورانی مزید لکھتے ہیں کہ عاصم باجوہ کے بیٹوں نے بھی اس گروپ میں 2015 میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان اور امریکہ میں مزید نئی کمپنیوں کی بنیاد اس وقت رکھی جب ان کے والد آئی ایس پی آر کے سربراہ تھے اور پھر بعد میں کمانڈر سدرن کمانڈ بلوچستان بن گئے تھے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ جاری کیے گئے اثاثہ جات کی فہرست میں عاصم باجوہ نے اپنی اہلیہ کے نام پر ‘خاندانی کاروبار’ میں صرف 31 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی اور اس حلف نامے کے آخر میں تصدیق کی کہ ‘میری، اور میری بیوی کی اثاثہ جات کی فہرست نہ صرف مکمل اور درست ہے بلکہ میں نے کوئی چیز نہیں چھپائی۔’
تاہم احمد نورانی کے مضمون میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت کی سرکاری دستاویزات کے مطابق ‘عاصم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا پاکستان سے باہر (امریکہ میں) تیرہ کمرشل جائیدادیں، جن میں دو شاپنگ سنٹر بھی شامل ہیں، کی مشترکہ مالک ہیں اور تین ممالک میں 82 کمپنیوں میں ان کے سرمائے کی کل مالیت تقریباً چالیس ملین ڈالر ہے جس کی وہ عاصم باجوہ کے بھائیوں کے ساتھ برابر کی مالکن ہیں۔’
کیا ایس ای سی پی کی ویب سائٹ سے معلومات کو حذف کیا گیا؟
احمد نورانی کے مضمون میں ایک بڑا دعوی یہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کاروباری کمپنیوں کے نظام کی نگرانی کرنے والے ادارے سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) نے ‘اپنی آفیشل ویب سائٹ سے جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیتی کمپنیوں کا ڈیٹا غائب کرنا شروع کر دیا۔’
مضمون میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر اس کاروباری ڈیٹا میں کی جانے والی تبدیلیوں کے مکمل شواہد موجود ہیں۔
صحافی احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ سے عاصم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیت کے بارے میں معلومات اتوار پہلی اگست کو ہٹائی گئی تھیں جو کہ عید کی چھٹی تھی۔
انھوں نے دعوی کیا: ’ایس ای سی پی کے پورے ادارے کو معلوم ہے یہ بات اور میرے پاس تمام ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں۔‘
عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی ‘پر زور تردید’
احمد نورانی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ سے ان کی اہلیہ کی امریکہ میں جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے متعلق سوال کیا اور پوچھا کہ ‘انھوں اپنے اثاثہ جات کی ڈیکلیریشن میں اپنی بیوی کے حوالے سے واضح طور یہ کیوں لکھا کہ انکا پاکستان سے باہر کوئی کاروباری سرمایہ نہیں ہے تو جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے جواب دینے سے گریز کیا۔’
تاہم مضمون کی اشاعت کے بعد ٹوئٹر پر عاصم باجوہ نے دو ٹوک انداز میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔’
A malicious propaganda story published on an unknown site, against me and my family, (just uploaded on social media)is strongly rebutted
— Asim Saleem Bajwa (@AsimSBajwa) August 27, 2020
جب بی بی سی نے احمد نورانی سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ‘میں صرف یہ کہوں گا مناسب طریقے سے جواب دینے کے لیے انھیں واضح کرنا ہوگا کہ میرے مضمون میں کون سے حقائق غلط ہیں اور انھیں اس کے لیے شواہد فراہم کرنے ہوں گے۔’
احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ‘عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کا سنہ 2002 سے قبل مکمل ملکیت کا کوئی ذاتی کاروبار نہیں تھا اور اسی سال وہ سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں لیفٹنٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہوئے اور پرویز مشرف کے سٹاف میں تعینات ہوئے۔’
احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ‘یہ تمام سلسلہ شروع کیسے ہوا اور ابتدائی سرمایہ کیسے لگایا گیا اور وہ رقم کہاں سے حاصل کی گئی اور تین ہفتوں تک جوابات کا انتظار کرنے کے باوجود عاصم سلیم باجوہ خاموش کیوں رہے۔’
فیکٹ فوکس کی ویب سائٹ پر ‘حملہ’؟
مضمون کی اشاعت کے بعد جہاں ایک جانب سوالات کی بھرمار تھی اور سوشل میڈیا پر اس رپورٹ پر ٹرینڈز چل رہے تھے، تو دوسری طرف رات گئے فیکٹ فوکس کی ویب سائٹ تک کچھ دیر کے لیے رسائی بند ہو گئی تھی جس نے مزید سوالات کو جنم دیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی سے تعلق رکھنے والی محقق رابعہ محمود نے بھی ٹوئٹر پر تبصرہ کیا کہ وہ فیکٹ فوکس کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہی ہیں۔
Cannot access @FactFocusFF's website in Pakistan anymore. They put up a story about businesses owned by Chair of China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) & former DG ISPR Lt Gen Asim Bajwa and his family. https://t.co/f1IBowgoJS https://t.co/O4IZhp9ZQx
— Rabia Mehmood – رابعہ (@Rabail26) August 27, 2020
اس بابت احمد نورانی نے بی بی سی کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ کو پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے بند نہیں کیا بلکہ دعوی کیا کہ اس پر ‘ڈی ڈوس حملہ کیا جا رہا ہے ‘ جس کی وجہ سے صارفین اس مضمون کو پڑھ نہیں پا رہے۔
واضح رہے کہ ڈی ڈوس یعنی ڈینائیل آف سروس اٹیک ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس کی مدد سے کسی بھی ویب سائٹ پر ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں رسائی حاصل کرنے کا حملہ کیا جاتا ہے اور انٹرنیٹ ٹریفک بڑھ جانے کی وجہ سے وہ ویب سائٹ بیٹھ جاتی ہے۔
تاہم ایک سے دو گھنٹے کے بعد ویب سائٹ بحال ہو گئی تھی۔
سوشل میڈیا پر رد عمل کیا رہا؟
جب گذشتہ ماہ اثاثہ جات کی فہرست شائع ہوئی تھی تو اُس وقت عاصم سلیم باجوہ سے ان کی ‘ٹیوٹا زیڈ ایکس’ گاڑی کی قیمت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔
اس بار احمد نورانی کے مضمون کی اشاعت کے بعد ایک بار پھر سوشل میڈیا کی توپوں کا رخ ان کی جانب ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ اچھا ہے کہ آپ نے رپورٹ کی تردید کر دی لیکن عوامی عہدے پر فائز ہونے کے بعد ایک فقرے کی تردید کافی نہیں ہوگی۔’
General Sb, sorry. Good to reject report. But as holder of public office a one liner denial will not unstick the mud. Figures quoting official sources must be proved wrong. Hard to imagine a journalist putting his credibility & even life on line by fabricating official quotes
— Farhatullah Babar (@FarhatullahB) August 27, 2020
عسکری امور کی تجزیہ نگار اور محقق عائشہ صدیقہ نے بھی عاصم باجوہ کی ٹویٹ کی جواب میں کہا کہ ‘جنرل صاحب، یہ بہت مناسب ہوگا اگر آپ دستاویزی ثبوت کے ساتھ الزامات کی تردید کریں۔ ایک جملے سے بات نہیں بنے گی۔’
Gen sb it will make a lot of sense if you present documentary counter evidence. A simple statement is neither here nor there
— Ayesha Siddiqa (@iamthedrifter) August 27, 2020
صارف ذیشان خان نیازی لکھتے ہیں کہ ‘بالکل غلط ہوگی سٹوری سر، آپ عدالت سے رجوع کریں اور اس جھوٹی سٹوری پر سزا دلوائیں۔تمام منی ٹریل مہیا کریں تاکہ یہ روز روز کے الزامات ختم ہوں۔’
اسی نوعیت کا تبصرہ ایک اور صارف شفیق احمد نے بھی کیا جو لکھتے ہیں کہ ‘باجوہ صاحب جس طرح احمد نورانی صاحب نے مکمل تفصیلات دیں ہیں تو آپ بھی اسی طرح ہر بات کا تفصیلاً جواب دیں تاکہ ہم بھی انکی غلط بیانی کی مذمت کرسکیں کیونکہ انھوں ایسے ہی تماشا بنایا ہوا ہے۔
صارف علی اظہر نے عاصم باجوہ کی تردیدی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ‘امریکہ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات کے آڈٹرز اور حکام سے شفاف اور جامع تحقیقات کرائیں تاکہ یہ معاملہ ختم ہو سکے۔
https://twitter.com/ali_axhar/status/1299023295686356998?s=19
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدے پر اندرونی اختلافات سامنے آ گئے
13/June/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا چکا، وزیراعظم شہباز شریف
13/June/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے مجوزہ معاہدے کا اسرائیل حصہ نہیں، وزیراعظم نتین یاہو
13/June/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
بنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے دو واقعات، دو پولیس اہلکار ہلاک
13/June/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر ’بہترین‘ سمجھوتہ طے پا گیا، امریکی صدر
13/June/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
لکی مروت: مسجد پر خودکش حملے کی کوشش ناکام، حملہ آور مارا گیا، 2 افراد ہلاک
13/June/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8816 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4525 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3257 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2436 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2079 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1884 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C