وائٹ ہاؤس : سیاہ فام مذہبی رہنماؤں کا امریکی صدر بائیڈن سے غزہ جنگ بند کرانے کا مطالبہ
👁️ 69 بار دیکھا گیا
وائٹ ہاؤس : سیاہ فام مذہبی رہنماؤں کا امریکی صدر بائیڈن سے غزہ جنگ بند کرانے کا مطالبہ
واشنگٹن (ڈیلی اردو/رائٹرز/وی او اے) امریکہ کے ایک ہزار سے زائد سیاہ فام مذہبی رہنماؤں کے اتحاد نے صدر جو بائیڈن سے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Happy Black History Month from the White House! pic.twitter.com/TvnGUJSM3Z
— President Biden (@POTUS) February 7, 2024
یہ مطالبہ منگل کو وائٹ ہاؤس میں ‘بلیک ہسٹری منتھ’ کی تقریب کے دوران کیا گیا جس میں صدر بائیڈن بھی شریک تھے۔
President Biden and the First Lady welcomed civil rights leaders, business leaders, educators, and artists to the White House to celebrate Black History Month. Our Administration is proud to honor the ways in which Black culture, arts, and stories have enriched American life. pic.twitter.com/TvH4ipYzKU
— The White House (@WhiteHouse) February 7, 2024
تقریب میں شریک سیاہ فام رہنماؤں نے وائس آف امریکہ کو اس سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب غزہ میں چار ماہ سے جاری جنگ سے فلسطینیوں کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں سے ملاقاتوں میں عارضی جنگ بندی کے معاہدے پر سفارتی کوشش کر رہے ہیں۔
جنگ بندی کے مطالبے کے خط پر دستخط کرنے والے چرچوں کے رہنماؤں میں شامل ریورنڈ ٹموتھی میکڈونلڈ سوم نے بتایا کہ یہ مہم کارکنوں کی مذہبی اجتماعات میں شرکت سے شروع ہوئی۔
غزہ کی صورتِ حال پر متحرک ہونے والے کارکنوں کے حوالے سے ’افریقی امریکن منسٹرز لیڈرشپ کونسل‘ کے بانی اور اٹلانٹا و جارجیا میں ’فرسٹ آئیکونیم بپٹسٹ چرچ‘ کے پادری میکڈونلڈ نے کہا ہے کہ ان کارکنوں نے ہمیں بیان دینے کے لیے قائل کیا۔
میکڈونلڈ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ عقائد کے رہنما ہوتے ہوئے ہم اس صورتِ حال کے بارے میں کچھ نہیں کر رہے۔
اُن کے بقول امریکہ میں 1960 کی دہائی کی شہری حقوق کی تحریک کی طرح چرچ سے منسلک نوجوانوں کی طرف سے محسوس ہونے والے مسئلے پر پریشانی اور غصہ تیزی سے مذہبی اراکین میں پھیل گیا۔
کمیونٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیاہ فام امریکی جو فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں، وہ تنازع کو نسلی انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کا یہ اظہار ایک ایسے اقلیتی گروپ کی جانب سے یکجہتی کے طور پر ہے جو جانتا ہے کہ مظلوم، بے گھر اور محروم ہونا کیسا محسوس ہوتا ہے۔
ایک اور تنظیم ’ڈیموکریسی ان کلر‘ کے بانی اسٹیو فلپس نے اس ضمن میں سیاہ فام لوگوں کے حقوق کے مشہور رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی 1967 کی ’خاموشی توڑنے کا وقت‘ نامی تقریر کی طرف اشارہ کیا۔
اس تقریر میں مارٹن لوتھر کنگ نے ویتنام جنگ میں امریکی شمولیت کو اخلاقی طور پر نا انصافی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے امریکیوں کی توجہ اندرونی نسل پرستی اور غربت کے مسائل سے ہٹا دی ہے۔
فلپس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس طرح کے لمحے میں بہت زیادہ گونج اور مماثلت ہے۔
بین الاقوامی اور اندرونی طور پر امریکی معاشرے کے دباؤ کے جواب میں صدر جو بائیڈن نے فلسطینیوں کے لیے زیادہ ہمدردانہ لہجہ اپنایا ہے۔
انہوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ صدمے، موت اور تباہی کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ اس درد اور جذبے کو سمجھتے ہیں جو امریکہ اور دنیا بھر میں بہت سے لوگ محسوس کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی انتظامیہ کا یہ مؤقف رہا ہے کہ مستقل جنگ بندی کا فائدہ صرف حماس کو ہو گا۔
واشنگٹن اس وقت ایک ایسے معاہدے پر کام رہا ہے جو حماس کی تحویل میں موجود اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے لڑائی کو عارضی طور پر روک دے۔
وائٹ ہاؤس میں تقریب سےخطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے بلیک ہسٹری اور ری پبلکن قانون سازوں کی طرف سے نسلی مسائل پر تعلیم کو محدود کرنے کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج اس بات پر غور کریں کہ ہم تاریخ کیسے بناتے ہیں، نہ کہ تاریخ کو مٹائیں۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار اینٹنی بلنکن نے سعودی، قطری اور مصری رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں اور وہ اسرائیل حکام سے بھی عارضی جنگ بندی کے اس مجوزہ معاہدے پر بات چیت کریں گے۔
دریں اثنا امریکی کانگریس میں اس بل کے پاس ہونے کو رکاوٹوں کا سامنا ہے جس کے تحت امریکہ کی اسرائیل کے لیے امداد بھی شامل ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان نے منگل کو ری پبلکن کے زیرِ قیادت ایک بل کو مسترد کیا جو اسرائیل کو 17.6 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔
برسرِ اقتدار ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ وہ اس کے بجائے ایک وسیع پیمانے پر ووٹ چاہتے ہیں جو یوکرین کو امداد بین الاقوامی انسانی امداد اور نئے سرحدی حفاظت کے لیے رقم فراہم کرے گا۔
بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی۔ ووٹ زیادہ تر پارٹی خطوط پر تھا حالاں کہ 14 ری پبلکن ارکان نے بل کی مخالفت کی جب کہ 46 ڈیموکریٹس نے اس کی حمایت کی۔
مخالفین نے ایوان کی اس قانون سازی کو ری پبلکنز کی طرف سے 118 ارب ڈالر کے سینیٹ کے اس بل کی مخالفت سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک سیاسی چال قرار دیا ہے جس میں امریکی امیگریشن پالیسی کی بحالی اور سرحدی سلامتی کے لیے نئی فنڈنگ کے ساتھ یوکرین، اسرائیل اور انڈو پیسیفک خطے میں شراکت داروں کے لیے اربوں ڈالر کی ہنگامی امداد شامل ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 145 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 173 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 142 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8832 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4569 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3277 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2457 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2100 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1903 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C