12/October/2022

پاراچنار: کرم میں اراضی تنازعہ پر جھڑپ، 4 افراد ہلاک، 10 سے زائد زخمی

👁️ 59 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاراچنار: کرم میں اراضی تنازعہ پر جھڑپ، 4 افراد ہلاک، 10 سے زائد زخمی

پاراچنار: کرم میں اراضی تنازعہ پر جھڑپ، 4 افراد ہلاک، 10 سے زائد زخمی

پاراچنار (نمائندہ ڈیلی اردو) صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم کے علاقہ بوشہرہ میں اراضی تنازعے پر جھڑپ میں 4 افراد ہلاک جبکہ 10 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

اپر کرم کے علاقہ بوشہرہ میں جائیداد کے تنازعے پر دو قبائل آپس میں لڑ پڑے اور فائرنگ کا تبادلہ شروع کیا اور ذاتی مسئلے کو مزید پھیلانے کیلئے پاراچنار شہر پر بھی راکٹوں اور میزائلوں سے حملہ کر دیا جس سے کئی گھروں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ بعدازاں اس لڑائی میں دونوں خاندانوں کے قبائل بھی کود پڑے۔

گذشتہ روز عمائدین ضلعی انتظامیہ اور پولیس اور سیکورٹی فورسز و پارلیمنٹیرینز کے مابین جرگہ فائر بندی پر رضامند ہو گیا تھا تاہم رات کو بھی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، فائرنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر اب تک چار افراد ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

سماجی رہنماء عبدالخالق پٹھان قیام امن کیلئے قرآن مجید اور سفید جھنڈا ہاتھ میں لئے پاراچنار پہنچ گئے جہاں میر افضل خان طوری اور دیگر سماجی رہنماؤں کے ہمراہ امن دھرنا شروع کر دیا، بعد ازاں مختلف علاقوں سے نوجوان اور عمائدین دھرنے میں پہنچنا شروع ہو گئے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں علامہ اخلاق حسین، علامہ مزمل حسین، علامہ تجمل حسین، محمود جان، شفیق مطہری، علامہ ساجد حسین، حاجی جمیل اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ وہ بدامنی سے تنگ آ چکے ہیں اور اپنے علاقے میں امن چاہتے ہیں، انتظامیہ چھوٹے چھوٹے مسائل بروقت حل کرے تاکہ اس قسم کی صورتحال کا سامنا نہ ہو۔

واضح رہے کہ فاٹا انضمام کے بعد کرم، خیبر، مہمند اور وزیرستان سمیت ضم اضلاع کے بیشتر علاقوں میں اراضی تنازعات پر وقتاً فوقتاً اس طرح کی صورتحال سامنے آتی رہی ہے۔ اس سے قبل جولائی 2020 میں ضلع کرم ہی میں دو قبیلوں، بالش خیل ابراہیم زئی اور پاڑہ چمکنی، کے مابین پانچ روزہ خونریز جھڑپیں ہوئیں تھیں جن میں فریقین کے 15 افراد ہلاک جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

بعدازاں قانون نافذ کرنے والے ادارے، پارلیمنٹرینز اور عمائدین فریقین کے مابین جھڑپیں رکوانے میں کامیاب ہو گئے تھے، فائر بندی کے اعلان کے بعد پاک فوج، پولیس اور ایف سی کے دستے بالش خیل ابراہیم زئی اور پاڑہ چمکنی کے علاقوں میں گئے اور فریقین کے مسلح افراد کو مورچوں سے ہٹا دیا تھا۔

اسی طرح رواں برس مئی میں قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقہ وانا گورگورے میں زلی خیل اور خوجل قبائل کے مابین زمینی تنازعہ پر حالات کشیدہ، ایک دوسرے کیخلاف دونوں قبائل کے ہزاروں افراد مورچہ زن ہو گئے، فائرنگ کے تبادلے میں 2 افرد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں تھیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C