25/December/2025

پاک افغان سرحد سے داعش کے ترک عہدیدار کی گرفتاری طالبان کی فراہم کردہ معلومات سے ممکن ہوئی، افغان حکام

👁️ 216 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاک افغان سرحد سے داعش کے ترک عہدیدار کی گرفتاری طالبان کی فراہم کردہ معلومات سے ممکن ہوئی، افغان حکام

پاک افغان سرحد سے داعش کے ترک عہدیدار کی گرفتاری طالبان کی فراہم کردہ معلومات سے ممکن ہوئی، افغان حکام

کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغانستان میں طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک–افغان سرحد پر ترکی کی قومی انٹیلیجنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) کی کارروائی میں داعش کے مبینہ ترک عہدیدار کی گرفتاری طالبان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔

 

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ طالبان کو ڈیورنڈ لائن کے اُس پار داعش کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات حاصل ہوئی تھیں، جن پر مختلف سطحوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

 

ان کے مطابق، امارتِ اسلامیہ افغانستان نے متعدد ملاقاتوں میں ان ٹھکانوں پر باضابطہ اعتراض اٹھایا اور انہیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

 

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ داعش کے ارکان کی حالیہ گرفتاریاں دراصل اُن معلومات کا نتیجہ ہیں جو طالبان نے ’’عوامی سطح‘‘ پر شیئر کیں اور متعلقہ فریقوں کو فراہم کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان ٹھکانوں کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے اور داعش کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

 

واضح رہے کہ ترکی کے سرکاری میڈیا نے 22 دسمبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ترکی کی قومی انٹیلیجنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ایک کارروائی کے دوران ایک ترک شہری کو گرفتار کیا، جس پر کالعدم تنظیم داعش کا اعلیٰ عہدیدار ہونے کا الزام ہے۔

 

ترک سرکاری میڈیا کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت مہمت گورین کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر داعش خراسان (آئی ایس کے پی) سے وابستہ تھا اور افغانستان، پاکستان، ترکی اور بعض یورپی ممالک میں خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا۔

 

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ترک انٹیلیجنس کو معلوم ہوا تھا کہ گورین ترکی سے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں کا سفر کر چکا تھا اور داعش کے تربیتی کیمپوں میں سرگرم رہا، جس کے بعد وہ تنظیم کی قیادت کے حلقے میں شامل ہو گیا۔

 

گورین پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اس نے داعش کے ارکان کو ترکی سے افغانستان اور پاکستان منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

 

اطلاعات کے مطابق، وہ پاکستان میں داعش کے خلاف کیے گئے متعدد فضائی حملوں میں بھی محفوظ رہا۔

 

خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق، ترک انٹیلیجنس نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں گورین کے ٹھکانے کی نشاندہی کے بعد اسے گرفتار کر کے ترکی منتقل کر دیا۔

 

اس معاملے پر پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

 

دریں اثنا، طالبان کے حامی نیوز آؤٹ لیٹ المرصاد نے دعویٰ کیا ہے کہ مہمت گورین نے بلوچستان میں داعش کے ایک تربیتی کیمپ میں تربیت حاصل کی تھی۔

 

رپورٹ میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ گورین نے ترکی سے ایران اور پھر ایران سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا سفر کیا، جہاں اس نے داعش کے تربیتی کیمپوں میں شمولیت اختیار کی اور تقریباً چھ ماہ تک تربیت حاصل کی۔

 

پاکستان کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اسلام آباد ماضی میں اس نوعیت کے دعوؤں کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C