پاکستان کے سرحدی علاقوں کے بازاروں اور قبروں پر افغان طالبان کے جھنڈے
👁️ 39 بار دیکھا گیا
پاکستان کے سرحدی علاقوں کے بازاروں اور قبروں پر افغان طالبان کے جھنڈے
کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی) چمن باڈر سے کچھ کلو میٹر دور ایک چھوٹے بازار میں واقع مسجد کے باہر کالی دستار اور سفید قمیض شلور پہنے دو افراد کے گرد کچھ لوگ مجمع لگائے کھڑے تھے اور ان دو افراد کے ہاتھ میں ایک موبائل تھا جس کی طرف سب کی توجہ مرکوز تھی۔ اس مجمعے سے کچھ دور دو موٹر سائیکلیں بھی کھڑیں تھی جن پر امارت اسلامی کا سفید جھنڈا لہرا رہے تھے۔
اس مجمعے میں کھڑا ایک مقامی شخص باہر نکل کر آیا اور اس نے بتایا کہ یہ دونوں طالبان ہیں اور کچھ دیر قبل ان کی افغانستان سے واپسی ہوئی ہے اور وہ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افغان سکیورٹی اہلکاروں کی ویڈیوز دیکھا رہے ہیں۔
اس مقامی شخص نے بتایا کہ یہ طالبان دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھیں جلد ایک اور بڑی کامیابی ملنے والی ہے۔
ابھی اس بات کو چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ خبر آئی کہ طالبان نے پاکستان کی سرحد سے متصل علاقے سپین بولدک اور اہم تجارتی مرکز ویش منڈی کے ساتھ ساتھ پاک افغان سرحد ’باب دوستی‘ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے زیر کنٹرول آنے والے علاقوں میں دن بہ دن تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس سے پاکستان میں ان کی آمد و رفت اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
طالبان کی جانب سے سپین بولدک پر قبضے سے چند دن قبل سے ہی پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے چمن میں طالبان کی غیر معمولی نقل و حرکت دیکھنے میں آئی تھی۔ چمن اور قلعہ عبداللہ کی چھوٹی مساجد کے باہر، بازار اور مرکزی روڈ پر ہر کچھ فاصلے پر کالی دستار باندھے اور امارت اسلامی کا جھنڈا لگائے موٹر سوار نظر آئے۔
ایسی متعدد ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شئیر کی گئیں جس میں افغانستان میں ہلاک ہونے والے طالبان جنگجوؤں کی میتوں کا چمن میں استقبال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
عام لوگوں سے الگ وضع رکھنے والے طالبان
چمن کے ایک مقامی شخص نے بتایا کہ امریکی فوج کے انخلا اور افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آتے ہی افغانستان سے متصل پاکستان کے سرحدی علاقوں جیسا کہ چمن اور قلعہ عبداللہ میں طالبان ایک بار پھر متحرک دیکھائی دے رہے ہیں۔
مقامی شخص کا کہنا تھا کہ اگرچہ بہت سے طالبان کا تعلق اسی علاقے سے ہے لیکن پھر بھی ان کے حلیے سے انھیں دیگر مقامی افراد سے الگ پہچانا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ان لوگوں کو اکثر بازار سے گزرتے اور مساجد میں نماز پڑھتے دیکھا جاسکتا ہے لیکن آج (سپین بولدک کا کنٹرول حاصل کرنے سے ایک دن قبل) یہ معمول سے زیادہ تعداد میں نظر آرہے ہیں۔‘
باب دوستی اور ویش منڈی کا کنڑول حاصل کرنے کے بعد طالبان کی جانب سے دعوی کیا گیا انھیں اس کا کنڑول حاصل کرنے کے لیے زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ چمن کے مقامی افراد اس دعوی سے متفق نظر آتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سرحد کے اس پار ہونے والی لڑائی کی آوازیں اس پار سنی جا سکتی ہیں لیکن باب دوستی اور ویش منڈی پر قبضے کے دوران فائرنگ یا دھماکوں کی کوئی آواز سنائی نہیں دی گئی جس کا مطلب ہے کہ افغان باڈر سکیورٹی اہلکاروں نے پر امن طور پر ہتھیار ڈال دیے اور کنڑول طالبان کے حوالے کر دیا۔
قلعہ عبداللہ کے بازار کلی زیارت کے ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ طالبان اکثر ان سے چندا مانگنے بھی آتے ہیں۔
سفید جھنڈوں والی قبریں
قلعہ عبداللہ سے چمن جاتے ہوئے روڈ کے دونوں اطراف ایسی متعدد قبریں موجود ہیں جن پر عمارات اسلامی افغانستان کے سفید جھنڈے لہرا رہے ہیں۔
چمن کے ایک مقامی شخص کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہلاک ہونے والے طالبان کے جنازے افغانستان سرحد سے متصل بلوچستان کے علاقوں میں تدفین کے لیے لائے جاتے ہیں اور ان جنازوں میں شرکت کرنے والوں کو نہ صرف افغان جہاد کا حصہ بننے کی ترغیب دی جاتی بلکہ ہلاک ہونے والے مقامی طالبان کو مرکزی روڈ کے قریب دفن کر کے ان کی قبروں کو سفید جھنڈے سے اس لیے نمایاں بنایا جاتا ہے تاکہ انھیں دیکھ کر مقامی افراد کی حوصلہ افزائی ہو۔‘
احمد (فرضی نام) ایک طالب ہے جو قندھار کے قریب طالبان کی افغان سکیورٹی فورس کے خلاف لڑائی کا حصہ ہے۔ احمد کا کہنا ہے کہ وہ اب سے کچھ دیر قبل افغانستان سے چمن لوٹے ہیں اور قندھار کے قریب ہونے والی لڑائی میں زخمی ہونے والے اپنے ساتھیوں کو علاج کے لیے اور ہلاک ہونے والے ساتھیوں کو تدفین کے لیے چمن لائے ہیں۔
احمد نے بتایا کہ بولدک پر قبضے کے بعد آج صبح افغان سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا لیکن اس آپریشن میں افغان ایئر فورس کا استعمال نہیں کیا گیا۔
افغان سیکورٹی فورسز کے اس آپریشن میں خبر رساں ادارے روئٹرز کے انڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی دانش صدیقی سمیت کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ احمد کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں کچھ طالبان ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ انہی زخمیوں میں سے چند کو چمن علاج کے لیے لایا گیا ہے۔
باڑ لگا کر نقل و حرکت روکنے کی کوشش
چمن اور قلعہ عبداللہ کے رہائشیوں کو تشویش ہے کہ طالبان کی اس علاقے میں نقل و حرکت اور سرگرمیوں سے ایک بار پھر علاقے کا امن خراب ہو سکتا ہے۔
گذشتہ ہفتے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف کی جانب سے سینٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کو دی گئی بریفنگ میں بھی کچھ اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا گیا۔ ڈاکٹر معید یوسف نے افغان طالبان کی پاکستان میں موجودگی کو انڈین پروپرگینڈا قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ تحریک طالبان پاکستان مہاجرین کے بھیس میں ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہے۔
ذرائع کے مطابق گذشتہ روز تحریک طالبان پاکستان بلوچستان کی جانب سے قلعہ عبداللہ میں پاکستانی حکام کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی جاری کی گئی ہے جس کے بعد ضلاعی انتظامیہ لیویز اور سکیورٹی فورسز کو خبردار کر دیا گیا ہے۔
پاک افغان سرحد پر موجود باڑ سے پناہ گزینوں اور طالبان کی نقل و حرکت کو روک رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کا اصرار ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی 2640 کلو میٹر طویل سرحد (ڈیورن لائن) پر لگائی گئی چار میٹر اونچی باڑ کے ذریعے طالبان اور پناہ گزینوں کی غیر قانونی نقل و حرکت کو کامیابی سے روکا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ شیخ رشید کے بیان کے مطابق اس بار پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کو پاکستانی شہروں تک آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ ضرورت پڑنے پر افغانستان یا پاکستان کی سرحد کے قریب ہی مہاجرین کے لیے کیمپ بنائیں جائیں اور ان کی سخت نگرانی کی جائے گی۔
چمن اور قلعہ عبداللہ کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک افغان مہاجرین کے لیے کوئی کیمپ قائم نہیں کیا گیا لیکن ان کی تیاری مکمل ہے اور ضرور پڑنے پر سرحد کے قریب ہی یہ کیمپ قائم کیے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے اور نوے فیصد سے زیادہ کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ تاہم پاکستان افغانستان کی سرحد پر واقع آٹھ منقسم دیہاتوں میں باڑ لگانے کا معاملہ ابھی زیر غور ہے اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جلد ہی اس علاقے پر بھی باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔
احمد کا کہنا ہے کہ وہ جلد افغانستان جا کر اپنے دیگر طالبان ساتھیوں کے ہمراہ لڑائی کا حصہ بنے گا اور پورے افغانستان میں عمارت اسلامی کا کنٹرول قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 166 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 253 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 141 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 117 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 182 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8835 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4575 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3279 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2460 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2102 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1906 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C