کرم: بگن سے لاپتہ ہونے والے شیعہ ٹرک ڈرائیورز سمیت 8 افراد کے گلے میں کیلیں ٹھونک کر زبانیں کاٹی گئیں
👁️ 104 بار دیکھا گیا
کرم: بگن سے لاپتہ ہونے والے شیعہ ٹرک ڈرائیورز سمیت 8 افراد کے گلے میں کیلیں ٹھونک کر زبانیں کاٹی گئیں
واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شورش زدہ قبائلی ضلع کرم میں گزشتہ تین ماہ سے زائد سے حالات کشیدہ ہیں اور علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہے۔ وہاں کی آبادی ایک طرح سے محصور ہو کر رہ گئی۔
جمعرات کو انہی لاکھوں محصور شہریوں کیلئے خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان لے جانے والے 33 گاڑیاں پر شدت پسندوں اور مقامی افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق اپر کرم کے علاقے اڑوالی سے 8 افراد کی بوری بند لاشیں برآمد کرلی گئیں۔
مقامی اور پولیس ذرائع کے مطابق شدت پسندوں نے مقامی افراد کے ساتھ مل کر شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے تمام افراد پر انسانیت سوز ظلم کرتے ہوئے اس کے جسم میں کیلیں ٹھونک دی گئی تھیں۔
پولیس حکام کے مطابق بند بوری میں شیعہ ڈرائیوروں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور انہیں شدید تشدد کے بعد سینوں اور سر پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔
لوئر کرم کے ایک ڈاکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر واشنگٹن کے آن لائن اخبار ڈیلی اردو کو بتایا کہ تمام افراد کے ہاتھوں کو سیموں سے باندھا گیا تھا اور پھر گلے میں کیلیں ٹھونک کر زبانیں کاٹی گئیں۔
طبی اور مقامی ذرائع کے مطابق دو افراد کے بہتتر ٹکڑے کیے گئے تھے۔
پولیس اور سرکاری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 2 سیکیورٹی اہلکار اور 4 ڈرائیورز سمیت 4 عام شہری شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ لاشیں لاپتا ڈرائیوروں اور دیگر افراد کی ہیں، جو گذشتہ روز بگن میں امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کے قافلے پر حملے کے بعد اغوا یا لاپتا ہو گئے تھے۔
پولیس کے مطابق جمعرات کو شدت پسندوں اور مقامی افراد نے گھات لگا کر 33 گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔ ٹرکوں پر مشتمل قافلے میں مقامی تاجروں کو چاول، آٹا، کھانا، کوکنگ آئل، ادویات، پھل اور سبزیوں سمیت دیگر اشیائے ضروریہ پہنچائی جا رہی تھیں۔
شدت پسندوں اور مقامی افراد نے جمعرات کو پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی)، فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے حصار کے باوجود ٹل ہنگو سے پارا چنار اور دیگر علاقوں کی طرف جانے والے ٹرکوں کے قافلے پر فائرنگ کی تھی۔ جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختلف ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ ٹرکوں کو آگ لگانے کے بعد ان میں موجود سامان کو لوٹا جارہا ہے۔
سرکاری ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد مارے گئے اور 10 زخمی ہو گئے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لوئر کرم ڈاکٹر رحیم گل نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جمعے کی صبح پانچ افراد کی لاشیں علیزئی ہسپتال لائی گئیں جنہیں تشدد کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر رحیم کے مطابق ان میں سے تین کی شناخت عمران علی، حسن علی اور شاہد علی کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دیگر لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں ثاقب حسنین بھی شامل ہے جو بیرون ملک سے دس سال بعد اہلخانہ سے ملنے کیلئے ٹرک میں سوار ہوکر پاراچنار جا رہا تھا۔
ڈاکٹر رحیم گل کے مطابق گزشتہ روز بگن میں امدادی قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں بنیادی مرکز صحت مندوری میں 11 افراد کو لایا گیا جن میں سے دو افراد ہلاک ہو چکے تھے جبکہ نو افراد زخمی تھے۔ تمام افراد کو گولیاں لگی تھی۔
لوئر کرم کے ایک سینیئر پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز کے واقعے میں کل 12 ٹرک بگن کی حدود میں داخل ہوئے جن پر حملہ کیا گیا جس کے بعد 10 ٹرکوں کو نذرآتش کر دیا گیا جبکہ دو ٹرکوں کو لوٹا گیا۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد ٹرک ڈرائیور تھے جن کے بارے میں کل سے اطلاع تھی کہ کچھ ڈرائیور لاپتا ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق پاراچنار سے ہے۔
پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ ہمارے اہلکار اپنے اپنے علاقوں میں محصور ہیں اور ابھی تک متاثرہ علاقے تک رسائی حاصل نہیں کی جا سکی ہے۔ اصل صورتحال متاثرہ علاقے میں پہنچنے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی۔
گزشتہ روز واقعے کے بعد انجمن حسینیہ کے سیکرٹری جنرل جلال حسین بنگش نے حکومت کو تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ کی گئی اور سڑک کو نہ کھولا گیا تو ہم امن معاہدے سے دستبردار ہو جائیں گے پھر تمام حالات کی ذمہ داری حکومت ہر عائد ہو گی۔
قبائلی ضلع کرم میں فرقہ وارانہ کشیدگی تو گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ تاہم 21 نومبر 2024 کو شیعہ مسافر گاڑیوں کے قافلے پر بگن کے مقام پر حملے میں 45 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جس کے بعد مشتعل افراد نے بگن سمیت کرم کے سُنّی علاقوں میں بازاروں اور گھروں کو آگ لگا دی تھی۔
حکام کے مطابق کُرم میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ان پُرتشدد واقعات کے بعد علاقے میں صورتِ حال مزید خراب ہو گئی تھی اور راستوں کی بندش سے کرم میں اشیائے خورونوش اور ادویات کی شدید قلت ہے۔
ادھر پاراچنار میں گندم، چاول اور دیگر بنیادی اشیا کی فراہمی بند ہونے سے دکانوں میں ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور غریب عوام بنیادی خوراک سے محروم ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امدادی اشیاء کا سامان ٹل کینٹ میں موجود ہے جس کی کلیئرنس نہ ہو سکی ہے۔ دوسری طرف ضلعی انتظامیہ اور حکومت معاملات کو کنٹرول کرنے کیلئے کرم میں موجود ہے۔
ادھر کرم سے مریضوں کی منتقلی کیلئے ہیلی کاپٹر سروس گزشتہ 11 روز سے بند ہے اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتال سے مریضوں کو پشاور منتقل کرنے میں ناکام ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق ہسپتالوں اور کلینک ضروری ادویات سے محروم ہیں۔ مریضوں کا علاج ممکن نہیں ہو رہا اور پیچیدہ بیماریوں کیلئے پشاور جانے کا راستہ بند ہونے سے جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ مقامی صحافیوں کے مطابق پاراچنار میں علاج و سہولیات نہ ملنے سے دم توڑنے والے بچوں کی تعداد 120 سے زائد ہوگئی ہے۔
یاد رہے کہ کئی ماہ سے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں حالات مسلسل کشیدہ ہیں اور گزشتہ روز سے مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز نے مخالف گروہوں کے کئی بنکرز مسمار کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔ تاہم اس واقعہ کے بعد ضلع کرم میں بنکرز مسمار کرنے کا آپریشن وقتی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ روز دو بنکرز میں بارودی مواد نصب کر دیا گیا تھا اور 10 بنکروں کو مسمار کیا جانا تھا، تاہم کرم کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس سے ہاتھ کھینچ لیا گیا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل کوہاٹ میں لگ بھگ ایک ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والے گرینڈ جرگے نے امن معاہدے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ فریقین کی جانب سے 45، 45 افراد نے امن معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ لیکن اس واقعے نے امن معاہدے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
ضلع کرم حالیہ برسوں سے شیعہ اور سنی قبائل کے درمیان فرقہ وارانہ جھڑپوں کی لپیٹ میں رہا ہے. لیکن پچھلے سال نومبر میں تشدد میں اضافہ تب ہوا جب حملہ آوروں نے شیعہ مسلمانوں کو لے جانے والی گاڑیوں پر فائرنگ کی، جس میں 52 افراد ہلاک ہوئے۔ تب سے لے کر اب تک اس تشدد میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کیلئے جنگ بندی کی کئی ناکام کوششیں کی گئیں۔ فریقین ایک دوسرے کے خلاف مشین گنوں اور بھاری ہتھیاروں کا استمعال کر رہے ہیں۔
قومی سطح پر سنی مسلم اکثریتی آبادی والے ملک پاکستان کے شورش زدہ شمال مغربی صوبے میں صوبے خیبر پختونخوا کا ضلع کرم افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی آباد ہے۔ اسی وجہ سے کرم میں گزشتہ عشروں کے دوران بار بار فرقہ وارانہ تصادم دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ وہاں بدامنی اور ہلاکتوں کی تازہ ترین لہر بھی اسی کشیدگی کا تسلسل ہے۔ ضلع کرم کا رابطہ فی الحال بیرونی دنیا سے منقطع ہوچکا ہے۔
نوٹ
اس رپورٹ میں شامل کچھ مواد خبر رساں اداروں اے ایف پی اور بی بی سی سے لیا گیا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 21 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 43 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 46 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8832 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4567 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3276 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2456 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2097 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1901 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C