18/December/2025

گلگت بلتستان میں قاضی نثار احمد پر حملہ، کالعدم زینبیون بریگیڈ کے دو دہشت گرد گرفتار

👁️ 278 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
گلگت بلتستان میں قاضی نثار احمد پر حملہ، کالعدم زینبیون بریگیڈ کے دو دہشت گرد گرفتار

گلگت بلتستان میں قاضی نثار احمد پر حملہ، کالعدم زینبیون بریگیڈ کے دو دہشت گرد گرفتار

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے زیرِ انتظام خطے گلگت بلتستان میں پولیس نے دہشت گردی میں ملوث دو حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

 

ڈیلی اردو کے مطابق، گلگت بلتستان پولیس نے 5 اکتوبر 2025 کو کالعدم تنظیم اہلسنت والجماعت کے امیر قاضی نثار احمد پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے معاملے میں اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے حملے میں ملوث دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

 

16 دسمبر کو انسپکٹر جنرل پولیس گلگت بلتستان فیصل محمود بٹ نے سیکرٹری داخلہ اور ڈی آئی جی گلگت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں مجموعی طور پر 11 دہشت گرد شامل تھے، جن میں 9 حملہ آور اور 2 سہولت کار شامل ہیں۔

 

آئی جی پولیس کے مطابق دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جنہوں نے دورانِ تفتیش اعترافِ جرم بھی کیا ہے، جبکہ جوابی کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد موقع پر ہلاک ہوا تھا۔

 

انہوں نے انکشاف کیا کہ گرفتار دہشت گردوں کا تعلق ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم ’زینبیون بریگیڈ‘ سے ہے، اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور رابطوں کی بھی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

 

پولیس سربراہ نے بتایا کہ حملہ آوروں کے زیرِ استعمال چار گاڑیوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے، اور واقعے میں ملوث دیگر دہشت گردوں کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔ جسٹس ملک عنایت الرحمٰن کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث ملزمان کی بھی نشاندہی ہو چکی ہے، جس پر مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔

 

آئی جی نے کہا کہ جائے وقوع سے فنگر پرنٹس اور خون کے نمونے حاصل کیے گئے، جن کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے میں اہم پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ قاضی نثار احمد کی سیکیورٹی پر ایک پولیس موبائل اور پانچ اہلکار تعینات تھے، جنہوں نے حملے کے دوران بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی فائرنگ کی، جس سے دو حملہ آور زخمی ہوئے اور حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

 

آئی جی فیصل محمود بٹ نے کہا کہ واقعے کے وقت اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے سی پی او میں نفری کم تھی، تاہم حملہ آوروں کی فائرنگ تین سے پانچ منٹ تک جاری رہی۔ انہوں نے بتایا کہ قاضی نثار احمد کا محفوظ رہنا اللہ کے فضل اور پولیس اہلکاروں کی جرات مندانہ کارروائی کا نتیجہ ہے، بصورتِ دیگر علاقے کے حالات سنبھالنا مشکل ہو جاتے۔

 

انہوں نے کہا کہ زخمی ہونے کے باوجود قاضی نثار احمد نے عوام کو پُرامن رہنے کی اپیل کی، جس سے امن و امان برقرار رہا، جبکہ اہلسنت والجماعت کے کارکنوں نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پُرامن احتجاج کیا۔ آئی جی نے صحافی برادری اور سوشل میڈیا صارفین کے ذمہ دارانہ کردار کو بھی سراہا۔

 

پریس کانفرنس میں آئی جی نے بتایا کہ قاضی نثار احمد حملہ کیس کی تفتیش کے دوران متعدد مبینہ ملزمان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نامزد مبینہ ملزمان میں نعیم عباس ولد سلطان علی، لال مست علی عرف قاسم عرف گیو ولد ذوالفقار علی، واحد حسین ولد شاہد حسین، محبت علی عرف زوار ولد محمد علی، مظفر حسین عرف ڈی سی ولد محمد ایاز، انعام حسین ولد اختر حسین، خشنود مہدی عرف راڈو ولد شمشاد حسین، فراست علی عرف فرا ولد شوکت علی اور سید محتشم عباس عرف شاہ جی شامل ہیں۔

 

آئی جی کے مطابق واقعے سے قبل مبینہ طور پر ریکی فراہم کرنے والے شخص کی شناخت علی عباس عرف جواد عرف جوادی ولد شاہ عباس شاد کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ سید اقتدار حسین ولد اجلال حسین کو مبینہ مرکزی سہولتکار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جن کے کردار کی مزید جانچ جاری ہے۔

 

انسپکٹر جنرل پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار دہشت گرد واحد حسین ولد شاہد حسین اور لال مست علی (عرف قاسم، گیو) ولد ذوالفقار علی کے اعترافی بیانات بھی صحافیوں کے سامنے پیش کیے گئے، جن میں انہوں نے حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

 

آئی جی نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں، اور پولیس سمیت تمام سیکیورٹی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C