16/December/2025

یہودی تقریب پر حملہ: ساجد اکرم بھارتی پاسپورٹ اور نوید اکرم آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن گئے

👁️ 202 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یہودی تقریب پر حملہ: ساجد اکرم بھارتی پاسپورٹ اور نوید اکرم آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن گئے

یہودی تقریب پر حملہ: ساجد اکرم بھارتی پاسپورٹ اور نوید اکرم آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن گئے

واشنگٹن (ش ح ط) آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے معروف ساحل بونڈی بیچ پر یہودی کمیونٹی کی ہنوکا تقریب کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں ملوث باپ بیٹے کے پس منظر سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ 

 

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق حملہ آور 50 سالہ ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا، جبکہ ان کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن گیا تھا۔

فلپائن امیگریشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ دونوں افراد یکم نومبر 2025 کو سڈنی سے فلپائن پہنچے تھے اور ان کی آخری منزل جنوبی صوبہ ڈاواؤ درج تھی۔ دونوں 28 نومبر کو فلپائن سے روانہ ہوئے۔ 

 

آسٹریلوی پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ فلپائن کے اس سفر کا مقصد کیا تھا اور اس دوران انہوں نے کن مقامات کا دورہ کیا۔

 

یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب بونڈی بیچ پر یہودی کمیونٹی ہنوکا کی پہلی رات منا رہی تھی۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے جدید اسلحہ استعمال کیا اور واقعے کو باضابطہ طور پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیا گیا ہے۔

 

آسٹریلوی حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ساجد اکرم موقع پر ہی ہلاک ہو گیا، جبکہ نوید اکرم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، جس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

 

سڈنی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر میل لیون نے دونوں افراد کے فلپائن کے سفر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اس دورے کا مقصد کیا تھا اور فلپائن میں انہوں نے کن افراد یا مقامات سے رابطہ کیا۔‘‘

 

آسٹریلوی ٹی وی اے بی سی نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ساجد اور نوید اکرم عسکری نوعیت کی تربیت حاصل کرنے کے لیے فلپائن گئے تھے، تاہم فلپائن کی فوج نے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔

 

فلپائن امیگریشن کی ترجمان ڈانا سنڈووال کے مطابق ساجد اکرم نے فلپائن جانے کے لیے بھارتی پاسپورٹ استعمال کیا، جبکہ ان کے بیٹے نوید اکرم نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر سفر کیا۔ دونوں نے فلپائن کے جنوبی شہر ڈاواؤ کو اپنی حتمی منزل ظاہر کیا تھا، جو جزیرہ منڈانو پر واقع ہے۔ اس علاقے میں ماضی میں اسلامی شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

 

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق دونوں باپ بیٹے نے گھر والوں کو بتایا تھا کہ وہ فشنگ ٹرپ پر جا رہے ہیں۔ نوید اکرم کی والدہ ورینا نے سڈنی مارننگ ہیرالڈ کو بتایا کہ حملے کے روز ان کی اپنے بیٹے سے بات ہوئی تھی، جس میں اس نے تیراکی اور سکوبا ڈائیونگ کا ذکر کیا تھا۔

 

آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک کے مطابق ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا اور 2001 میں اس نے پارٹنر ویزا حاصل کیا۔ اسے تین مرتبہ ریزیڈنٹ ریٹرن ویزا بھی جاری کیا گیا۔ نوید اکرم آسٹریلیا میں پیدا ہوا اور پیدائشی طور پر آسٹریلوی شہری تھا۔

 

سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق نوید اکرم پیشے کے لحاظ سے اینٹیں لگانے والا مزدور تھا، جبکہ اس کے والد ساجد اکرم پھلوں کا کاروبار کرتے تھے۔ نوید کی نوکری تقریباً دو ماہ قبل اس وقت ختم ہو گئی تھی جب متعلقہ کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔

 

برطانوی اخبار گارڈیئن کے مطابق نوید کے ایک سابق آجر نے بتایا کہ وہ خاموش طبیعت مگر محنتی کارکن تھا، جس نے کبھی مذہب یا سیاست پر گفتگو نہیں کی۔ ایک سابق ساتھی کے مطابق نوید کو شکار کا شوق تھا اور وہ کروک ویل کے علاقے میں شکار کے بارے میں بات کرتا رہتا تھا۔

 

دوسری جانب امریکی میڈیا سی بی ایس نیوز نے امریکی انٹیلیجنس حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ 24 سالہ مبینہ حملہ آور نوید اکرم پاکستانی شہری ہے، تاہم اس حوالے سے بھی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔

 

ادھر اسرائیلی اخبار یروشلم ٹائمز کے مطابق پاکستانی حملہ آور نوید اکرم سڈنی کے علاقے بونی رِگ کا رہائشی تھا اور حملے کے بعد پولیس نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے اس کا ڈرائیونگ لائسنس برآمد ہوا۔ لائسنس کے مطابق نوید اکرم کی تاریخِ پیدائش 12 اگست 2001 ہے اور اس کی عمر 24 سال بنتی ہے۔

 

سعودی اخبار العربیہ اردو کے مطابق آسٹریلوی پولیس نے بتایا ہے کہ 50 سالہ ساجد اکرم پاکستانی نژاد ہیں اور وہ آسٹریلیا میں طالب علم ویزے پر داخل ہوئے تھے، جبکہ ان کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم آسٹریلوی شہری ہیں۔

 

واضح رہے کہ اس دہشت گردانہ حملے میں 16 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے۔ تاحال آسٹریلوی حکام نے حملہ آوروں کی قومیت سے متعلق کسی ملک کا نام سرکاری طور پر جاری نہیں کیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C