19/July/2026

اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ

👁️ 166 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ

اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ

واشنگٹن (ڈیلی اردو رپورٹ) امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی کارروائی کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہو گیا ہے۔ حملوں میں متعدد دیگر امریکی اہلکار زخمی بھی ہوئے، تاہم بیشتر زخمیوں کو طبی امداد کے بعد ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

 

سینٹکام کے مطابق 17 جولائی کو امریکی اور اتحادی افواج اردن کو ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے دفاعی کارروائیاں کر رہی تھیں، اسی دوران دو امریکی فوجی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہو گیا۔

 

بیان میں کہا گیا کہ چار زخمی امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے اردن کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا، جہاں طبی امداد کے بعد انہیں فارغ کر دیا گیا، جبکہ معمولی زخمی ہونے والے دیگر اہلکار طبی معائنے کے بعد دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔

 

سینٹکام نے متاثرہ خاندانوں کے احترام میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور دیگر تفصیلات فوری طور پر جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اہل خانہ کو باضابطہ اطلاع دیے جانے کے کم از کم 24 گھنٹے بعد ہی ہلاک اہلکاروں کی شناخت ظاہر کی جائے گی۔

 

دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو میزائل حملوں میں نشانہ بنایا ہے، تاہم حملے سے ہونے والے نقصانات یا ممکنہ تباہی کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

 

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ ہفتوں میں عسکری کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔

 

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سینٹ کام کا بیان شیئر کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا: “محفوظ سفر، ہیروز۔ ان کی قربانی صرف ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔”

 

مبصرین کے مطابق اپریل کے آغاز میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، جس سے خطے میں مزید امریکی عسکری ردعمل کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

 

ادھر خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے بحرین، کویت اور اردن میں شہری بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں پر حملے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔

 

دوسری جانب ایرانی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے دعویٰ کیا ہے کہ 6 جولائی کے بعد امریکی حملوں میں اب تک 50 افراد ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

 

ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین اور 18 سال سے کم عمر کے دو بچے بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 32 خواتین اور 18 نوجوان شامل ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ 37 افراد اب بھی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور ایران کے امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کے دعوے نے مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ 

 

امریکہ اور ایران دونوں نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کی اہم فوجی اور بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C