اشرف غنی: ہتھیار ڈالنے کی ذلت سے بچنے کیلئے کابل سے فرار ہوا، سابق افغان صدر
👁️ 33 بار دیکھا گیا
اشرف غنی: ہتھیار ڈالنے کی ذلت سے بچنے کیلئے کابل سے فرار ہوا، سابق افغان صدر
لندن (ڈیلی اردو/وی او اے/اے پی) کابل پر طالبان کے قبضے کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے اتوار کے روز اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت سے فرار ہونے کا عمل انتہائی عجلت میں کیا جانے والا فیصلہ تھا۔ ان کے بقول وہ باغیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی ذلت سے بچنا چاہتے تھے۔
اشرف غنی نے نیوز چینل ‘سی این این’ کو یہ بھی بتایا کہ 15 اگست 2021 کی صبح جب افغان دارالحکومت کے دروازوں پر طالبان دستک دے رہے تھے ، وہ اپنے محافظوں کے غائب ہو جانے کے بعد صدارتی محل چھوڑنے والے آخری فرد تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع نے انہیں اس دن پہلے ہی بتا دیا تھا کہ کابل کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔
اشرف غنی اس سے قبل سقوطِ کابل کے روز اپنے اقدامات کا جواز پیش کر چکے ہیں لیکن اتوار کو انہوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات سے پردہ اٹھایا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محل کے باورچیوں میں سے ایک کو مجھے زہر دینے کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی پیش کش کی گئی تھی۔ جس سے انہیں محسوس ہوا کہ ان کے آس پاس کا ماحول اب محفوظ نہیں رہا۔
ان کے بقول کابل چھوڑنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ طالبان اور ان کے حامیوں کو یہ خوشی نہیں دینا چاہتے تھے کہ وہ ایک بار پھر ایک افغان صدر کی تذلیل کر کے ان سے حکومت کی قانونی حیثیت پر دستخط کروائیں۔
انہوں نے کہا کہ “میں کبھی بھی خوف زدہ نہیں ہوا۔”
ناقدین کا کہنا ہے کہ 15 اگست کو اشرف غنی کی اچانک اور چوری چھپے روانگی نے ایک ایسے موقع پر کابل کو بے یاروو مددگار چھوڑ دیا تھا جب 20 سالہ جنگ کے بعد امریکی اور نیٹو افواج کا ملک سے افراتفری کے عالم میں انخلا اپنے آخری مراحل میں تھا۔
اشرف غنی نے خود پر لگائے جانے والے ان الزامات سے بھی انکار کیا کہ ہیلی کاپٹروں میں فرار ہوتے وقت وہ اور ان کے دوسرے عہدے دار نقدی کی صورت میں لاکھوں ڈالر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
کانگریس کے مقرر کردہ ایک نگران ادارے نے گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ غنی اور ان کے سینئر مشیر ہیلی کاپٹروں میں فرار ہوتے وقت بہت بڑی مقدار میں نقد رقوم اپنے ساتھ لے گئے ہوں۔
افغانستان کی تعمیر نوسے متعلق انسپکٹر جنرل (سگار)کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتہائی عجلت میں ان کے فرار ، کارگو پر مسافروں کے دباؤ کی نوعیت، ہیلی کاپٹروں کے وزن اٹھانے کی صلاحیت ، محدود کارکردگی ، اور ان گواہوں کے تفصیلی بیانات سے، جو زمین اور پرواز میں موجود تھے، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہیلی کاپٹروں پر نقدی کی شکل میں پانچ لاکھ ڈالر سے کچھ ہی زیادہ رقم تھی۔
سگار افغانستان میں کئی برسوں سے بڑے پیمانے پر امریکی اخراجات کی جانچ پڑتال کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ایجنسی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ قوی امکان موجود ہے کہ طالبان کے قبضہ کرنے کے دوران افغان حکومت کی تنصیبات اور نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکیورٹی سے بڑے پیمانے پر امریکی ڈالر غائب ہو گئے ہوں، جن میں صدارتی محل کے بھی لاکھوں ڈالر شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نگران ادارہ یہ تعین کرنے سے قاصر ہے کہ کتنی رقوم چرائی گئیں اور کس نے چوری کیں۔
آخر کار، طالبان نے گزشتہ اگست میں کسی بڑی لڑائی کے بغیر ہی دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا اور ایک ہفتے تک جاری رہنے والی محدود فوجی جھڑپوں کے دوران طالبان تیزی سے صوبائی دارالحکومتوں پر بھی قابض ہو گئے تھے۔ انہیں افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے، جن کے حوصلے پست ہو گئے تھے، کسی قابلِ ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
افغانستان پر قبضے کے بعد اپنے اقتدار کے پہلے ایک سال کے دوران، سابق باغیوں نے اپنے ابتدائی وعدوں کے برعکس تعلیم اور ملازمتوں تک لڑکیوں اور خواتین کی رسائی محددو کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ طالبان بین الاقوامی سطح پر زیادہ تر الگ تھلگ ہیں اور وہ بڑی حد تک اس بین الاقوامی امداد سے بھی محروم ہو گئے ہیں، جو غنی حکومت کے دور میں افغانستان کو مل رہی تھی۔
طالبان اقتدار پر اپنا کنٹرول بحال رکھنے اور معیشت کے اس بڑے بحران پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جس نے مزید لاکھوں افغان باشندوں کو غربت اور بھوک کے گرداب میں دھکیل دیا ہے۔
ان چیلنجوں کے باوجود، طالبان کی زیرقیادت حکومت نے پیر کو اپنے اقتدار کی پہلی سالگرہ منانے کے لیے کئی تقریبات کا منصوبہ بنایا، جس میں طالبان حکام کی تقاریر اور کھیلوں کے کئی پروگرام شامل ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
طالبان نے افغانستان میں چھوٹی داڑھی پر امدادی کارکن گرفتار کر لیے
23/June/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں، 60 روزہ لائسنس جاری
23/June/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
ایران میں کریک ڈاؤن، “دشمن سے تعاون” کے الزام میں 3 ہزار سے زائد گرفتاریاں
23/June/2026 👁️ 108 بار دیکھا گیا
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید
23/June/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
ماسکو پر 60 ڈرون حملے ناکام، یوکرین میں روسی حملوں سے 5 افراد ہلاک
23/June/2026 👁️ 129 بار دیکھا گیا
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
23/June/2026 👁️ 101 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8847 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4604 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3298 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2469 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2121 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C