31/May/2026

افغانستان میں شیعہ برادری پر پابندیاں، طالبان پر عبادات اور مذہبی امور میں مداخلت

👁️ 222 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان میں شیعہ برادری پر پابندیاں، طالبان پر عبادات اور مذہبی امور میں مداخلت

افغانستان میں شیعہ برادری پر پابندیاں، طالبان پر عبادات اور مذہبی امور میں مداخلت

کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک سینئر شیعہ عالم آیت اللہ حسین داد شریفی نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان حکام نے انہیں عارضی نکاح کے معاملے پر طلب کر کے تشدد کا نشانہ بنایا اور مذہبی امور سے متعلق سخت دباؤ ڈالا۔

 

آیت اللہ شریفی نے 15 مئی کو ایک خطاب میں دعویٰ کیا کہ طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے انہیں تفتیش کے لیے طلب کیا، جہاں انہیں مارا پیٹا گیا اور شیعہ برادری کے مذہبی معاملات پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

 

ان کے مطابق انہیں اور دیگر شیعہ علما کو تحریری ضمانتیں دینے پر مجبور کیا گیا کہ وہ عارضی نکاح (نکاح المتعہ) کا انعقاد نہیں کریں گے، بصورت دیگر قید کی وارننگ دی گئی۔

 

شریفی نے الزام لگایا کہ طالبان اہلکار سڑکوں پر ہزارہ شیعہ جوڑوں کو بھی حراست میں لے رہے ہیں اور ان پر عارضی نکاح کے شبہ میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی ہیں اور طالبان سے اپیل کی کہ کم از کم نجی مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے۔

شیعہ عالم کے مطابق انہیں کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لیے بغیر صرف مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب طالبان حکومت پر افغانستان میں مختلف مذہبی اقلیتوں، بالخصوص شیعہ برادری، کے ساتھ سلوک کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور افغان میڈیا میں مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

 

بیرون ملک قائم افغان میڈیا اداروں کے مطابق اس معاملے پر مختلف رپورٹس اور بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم طالبان حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی واضح اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

 

افغانستان میں تقریباً 20 فیصد آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ ماضی کی حکومت کے دوران شیعہ پرسنل اسٹیٹس قانون کے تحت ان کے خاندانی معاملات کو قانونی تحفظ حاصل تھا۔

 

طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سابق آئینی ڈھانچہ معطل کر دیا گیا ہے، اور انتظامی و قانونی نظام میں حنفی فقہ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مذہبی اختلافات اور فقہی تنوع کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

 

شیعہ علما اور بعض انسانی حقوق کے گروہ طالبان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مذہبی رسومات، تعلیمی نصاب اور عبادات کے معاملات میں پابندیاں عائد کر رہے ہیں، جبکہ طالبان ان اقدامات کو امن و امان اور سکیورٹی کے تقاضوں سے جوڑتے ہیں۔

 

تاہم اس تازہ الزام کے بعد افغانستان میں مذہبی آزادیوں اور شیعہ برادری کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C