28/May/2026

امریکہ اسرائیل جنگ کے اثرات، ایران میں ادویات اور صحت کا نظام بحران کی زد میں

👁️ 561 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ اسرائیل جنگ کے اثرات، ایران میں ادویات اور صحت کا نظام بحران کی زد میں

امریکہ اسرائیل جنگ کے اثرات، ایران میں ادویات اور صحت کا نظام بحران کی زد میں

تہران (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) پابندیوں، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور بیمہ کنندگان پر طویل عرصے سے جاری دباؤ نے ایران میں برسوں سے طبی علاج تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے۔

 

اب ایسا لگتا ہے کہ  امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کردہ جنگ نے علاقائی سپلائی کے راستوں میں خلل ڈال کر ، ایران  کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا کر اور پہلے سے ہی کمزور فارماسیوٹیکل مارکیٹ پر تازہ دباؤ ڈال کر تناؤ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

 

اس کے نتائج بہت سے ایرانیوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔

 

مریضوں کو ادویات لینے کے لیے متعدد فارمیسیوں کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں، علاج کے لیے ڈاکٹروں کو ڈھونڈنا اور ڈاکٹروں سے ملنے والے نسخے کے باوجود  فارمیسیوں سے دواؤں کا نہ ملنا۔ یہ ساری صورتحال عوام کی برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔

 

ایران جیسے ملک کے لیے، جو اپنے دوا سازی کے نظام میں درآمدی خام مال اور  بیرون ملک تیار شدہ ادویات پر انحصار کرتا ہے، ترسیل میں تاخیر اور بڑھتے اخراجات فوری طور پر ادویات کی قلت اور ان کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

تاہم مسئلہ صرف نقل و حمل تک محدود نہیں۔ 

 

اگرچہ ادویات بظاہر پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں، تاہم بینکنگ اور ادائیگیوں کی پابندیاں خریداری کے عمل کو سست، پیچیدہ اور مہنگا بنا دیتی ہیں۔ یہ مالی رکاوٹیں برسوں سے ایران کے دواسازی کے شعبے کو متاثر کر رہی ہیں اور جنگ کے دوران ان کے اثرات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔

 

قیمتوں میں اضافہ، سپلائی میں خلل، بنیادی ڈھانچے کو نقصان اور عوامی قوت خرید میں کمی، یہ سب عوامل مل کر بحران کو گہرا کر رہے ہیں۔ 

 

اگرچہ سرکاری حکام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ذخائر اور مقامی پیداوار نے مکمل تباہی کو روکے رکھا ہے، تاہم مریضوں، ڈاکٹروں اور طبی شعبے سے وابستہ افراد کی طرف سے پیش کردہ منظر نامہ  اس صورتحال کے کہیں زیادہ تشویشناک ہونے کا پتا دیتا ہے۔

 

ایران کی فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن کے ترجمان ہادی احمدی نے خبردار کیا ہے  کہ جنگ کے باعث ادویات کی تیاری کے لیے درکار خام مال، جیسے ایلومینیم اور پیٹروکیمیکل اجزاء کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر اس وقت ادویات دستیاب ہوں بھی، تو بھی مستقبل میں صنعتی مواد اور پیکیجنگ کی کمی کے باعث پیداوار مزید دشوار ہو سکتی ہے۔

 

کچھ مریض اب علاج چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، کیونکہ کئی ادویات یا تو نایاب  ہو گئی ہیں یا بہت مہنگی ہو چکی ہیں۔ قیمتوں میں اضافے کے باعث عمومی علاج بھی متاثر ہو رہا ہے اور بہت سے لوگ ضروری دوائیں خریدنے کے قابل نہیں رہے۔

 

ایران کے شمالی شہر رشت میں، جو صوبے گیلان کا دارالحکومت ہے، ذیابیطس کے ایک بزرگ مریض کے رشتہ دار نے بتایا کہ انہیں انسولین محدود مقدار میں دی جا رہی  ہے اور راشننگ کے تحت اسے پچھلے ہفتے کی نسبت چھ گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیا گیا۔

 

ایک اور مریض، جسے اپنی  بیماری کے خلاف روزانہ  دوا درکار ہے، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس کے پاس صرف 18 دن کی دوائیں باقی رہ گئی ہیں۔

 

اس نے کہا، ''چھ ہفتوں سے میں ایک کے بعد ایک فارمیسی کے چکر لگاتا رہا ہوں، اس امید پر کہ دوا مل جائے، مگر ہر بار یہی جواب ملتا ہے کہ دوا دستیاب نہیں ہے۔‘‘ اس مریض کا مزید کہنا تھا، ''مجھے صرف ایک دوا چاہیے، اور اسی کو حاصل کرنے کے لیے میں شدید ذہنی دباؤ کا شکارہوں۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ لوگ کس مشکل میں ہوں گے جنہیں کئی دواؤں کی ضرورت ہو یا جو کسی سنگین یا لاعلاج بیماری میں مبتلا ہوں۔‘‘

 

اب کچھ مریض سوشل میڈیا اور نجی میسیجنگ گروپوں کے ذریعے ایک دوسرے کو اطلاع دیتے ہیں کہ کہاں کسی خاص دوا کا اسٹاک موجود ہے۔

جنگ سے پہلے کچھ خاندان بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کے ذریعے ہمسایہ ممالک یا یورپ سے دوائیں منگوا لیتے تھے، مگر اب سخت پابندیوں اور بیرونی دنیا سے رابطوں میں پائی جانے والی مشکلات کے باعث  یہ راستے بھی تقریباً بند ہوتے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C