25/December/2025

بلوچستان: لاپتہ افراد کے لواحقین کا کیچ میں دھرنا، سی پیک شاہراہ تین روز سے بند

👁️ 320 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: لاپتہ افراد کے لواحقین کا کیچ میں دھرنا، سی پیک شاہراہ تین روز سے بند

بلوچستان: لاپتہ افراد کے لواحقین کا کیچ میں دھرنا، سی پیک شاہراہ تین روز سے بند

کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے ضلع کیچ میں دو خواتین سمیت چار افراد کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف جاری دھرنے کے باعث گوادر اور کوئٹہ کے درمیان سی پیک شاہراہ جمعرات کو تیسرے روز بھی ٹریفک کے لیے بند رہی۔

 

ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کی بازیابی کے لیے خواتین اور بچوں نے کرکی تجابان کے علاقے میں دھرنا دے رکھا ہے، جس کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 

تربت سے تعلق رکھنے والے وکیل مجید شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ یہ افراد دو مختلف علاقوں سے مبینہ طور پر لاپتہ کیے گئے۔

 

ان کے مطابق خواتین سمیت چار افراد کو حب اور تربت سے لاپتہ کیا گیا، جن میں ہانی دلوش، حیرالنساء، مجاہد علی اور فرید اعجاز شامل ہیں۔

 

ہانی دلوش کے بھائی علی جان نے فون پر بتایا کہ ان کی بہن ہانی دلوش آٹھ ماہ کی حاملہ ہیں، جنہیں 20 دسمبر کی شب حب میں گھر سے دوسری بہن خیرالنساء کے ہمراہ مبینہ طور پر لاپتہ کیا گیا، جبکہ مجاہد علی کو تربت شہر سے اٹھایا گیا۔

 

علی جان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین سمیت خاندان کے تمام افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔

 

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

دوسری جانب، مجید شاہ ایڈووکیٹ کے مطابق دھرنے کے خاتمے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کیچ حنیف کبزئی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے ہیں۔

 

تربت میں صدر پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او داد بخش نے بتایا کہ دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کا عمل جاری ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C