26/September/2022

بلوچستان میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو میجرز سمیت 6 اہلکار ہلاک، بی ایل اے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ

👁️ 26 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو میجرز سمیت 6 اہلکار ہلاک، بی ایل اے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ

بلوچستان میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو میجرز سمیت 6 اہلکار ہلاک، بی ایل اے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ

اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی/وی او اے/ڈوئچے ویلے) پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اتوار کی رات صوبہ بلوچستان میں فوجی ہیلی کاپٹر حادثے میں دو پائلٹس سمیت چھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ حادثہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہرنائی کے قریب خوست کے علاقے میں پیش آیا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ جب حادثہ پیش آیا ہیلی کاپٹر ایک مشن پر تھا جس کے نتیجے ہیلی کاپٹر پر سوار تمام چھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اس حادثے کی وجوہات کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

اس ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں پائلٹ میجر محمد منیب افضل، پائلٹ میجر خرم شہزاد کے علاوہ نائیک جلیل، صوبیدار عبدالوحید، سپاہی محمد عمران اور سپاہی شعیب شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 39 سالہ میجر خرم شہزاد شادہ شدہ اور اٹک کے رہائشی تھے جب کہ 30 سالہ میجر منیب افضل راولپنڈی کے رہائشی تھے۔

دیگر ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں سے 44 سالہ صوبیدار عبدالوحید کا تعلق کرک، 27 سالہ محمد عمران کا تعلق خانیوال، 30 سالہ نائیک جلیل گجرات اور ساپی شعیب اٹک کے رہائشی تھے۔

گزشتہ شب ہرنائی کے علاقے میں کئی گاڑیوں پر مسلح افراد نے فائرنگ بھی کی تھی۔ ذرائع کے مطابق تحصیل کھوسٹ زردالو کے مقام پر فائرنگ سے متعدد گاڑیوں کے ٹائر برسٹ ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے متاثرہ علاقے کا زمینی راستہ تاحال منقطع ہے۔

ضلع ہرنائی میں سیکیورٹی پر مامور لیویز فورس کے اعلیٰ افسر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے وائس آف امریکہ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب رات 12 بجے انہیں اطلاع ملی کہ فوج کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا ہے۔

لیویز فورس کے افسر نے فون پر گفتگو میں مزید بتایا کہ کھوسٹ میں شین لیزہ کے علاقے میں مقامی افراد نے بتایا ہے کہ رات کو ایک ہیلی کاپٹر پہاڑ کی دورسی جانب دیکھا گیا تھا جب کہ کچھ لمحے بعد ایک دھماکے کی آواز آئی اور دھواں اڑتا ہوا نظر آیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کا گشت کر رہے ہیں۔

بی ایل اے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ

دوسری جانب کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے فوج کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ای میل کے ذریعے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بی ایل اے کے عسکریت پسندوں نے ہرنائی کے علاقے زردالو کے قریب کارروائی میں پاکستان کے دو سیکیورٹی اہلکاروں کو حراست میں بھی لیا۔

بی ایل اے کے مطابق جس وقت ان دو سیکیورٹی اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا پاکستان کی فوج کا ہیلی کاپٹر وہاں پہنچ گیا۔ بی ایل اے کے جنگجوؤں نے ہرنائی میں کھوسٹ کے قریب ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔

دو ماہ کے دوران ہیلی کاپٹر کریش کا دوسرا واقعہ

بلوچستان میں دو ماہ کے دوران ہیلی کاپٹر کریش کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر کریش ہوا تھا۔

اس حادثے میں سابق کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حینف، بریگیڈیئر محمد خالد سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

یہ واقعہ یکم اگست کو ضلع لسبیلہ کے علاقے ساکران کے پہاڑی علاقے میں اس وقت پیش آیا تھا جب سابق کور کمانڈر ضلع میں سیلاب متائثرین کے لیے ریلیف اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لینے کے بعد کراچی جارہے تھے۔

بلوچ باغی گروہوں کی ایک تنظیم بلوچ راجی آجوئی سنگر (بی آر ایس) کی طرف سے منگل دو اگست کو غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے نیچی پرواز کے دوران فوجی ہیلی کاپٹر کو ایک اینٹی ایئرکرافٹ ہتھیار سے نشانہ بنایا۔

ہرنائی، شورش زدہ علاقہ

ہیلی کاپٹر گرنے کا حالیہ واقعہ ضلع ہرنائی میں پیش آیا ہے، جس کا شمار صوبے کے شورش زدہ علاقوں میں ہوتا ہے۔

ہرنائی میں ماضی میں بلوچ عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز میں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

دوماہ قبل جولائی میں زیارت اور ہرنائی کے پہاڑی سلسلوں سے فوج کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سے وابستہ افسر لیفٹننٹ کرنل لیئق مرزا بیگ اور ان کے رشتہ دار کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔

بعد ازاں میں ان کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم ’بلوچ لیبریشن آرمی‘ (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔

اس واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایچ اے کے افسر لیفٹننٹ کرنل لیئق بیگ مرزا اور ان کے کزن کی ہلاکت میں ملوث نو افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

سی ٹی ڈی کا انتباہ

گزشتہ دنوں بلوچستان کی پولیس کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹرجنرل (ڈی آئی جی) نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے تخریبی کارروائی کا اندیشہ ہے جس میں سرکاری افسران کے اغوا کے ممکنہ واقعات ہوسکتے ہیں۔

ضلع ہرنائی میں سیکیورٹی پر مامور لیویز فورس کے اعلیٰ افسر نے وائس آف امریکہ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب رات 12 بجے انہیں اطلاع ملی کہ فوج کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا ہے۔

لیویز فورس کے افسر نے فون پر گفتگو میں مزید بتایا کہ کھوسٹ میں شین لیزہ کے علاقے میں مقامی افراد نے بتایا ہے کہ رات کو ایک ہیلی کاپٹر پہاڑ کی دورسی جانب دیکھا گیا تھا جب کہ کچھ لمحے بعد ایک دھماکے کی آواز آئی اور دھواں اڑتا ہوا نظر آیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کا گشت کر رہے ہیں۔

ہرنائی کہاں واقع ہے؟

ہرنائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق میں اندازاً 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ ضلع زیادہ تر سنگلاخ پہاڑی علاقوں پر مشتمل علاقہ ہے۔

یہ ضلع سیر وسیاحت کے لیے معروف بلوچستان کے ضلع زیارت سے متصل ہے جبکہ اس کی سرحدیں ضلع کچھی کے علاقے بولان، سبی اور کوہلو سے بھی لگتی ہیں۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع ہرنائی کے متعدد علاقوں میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ بد امنی کے دیگر واقعات بھی پیش آرہے ہیں۔

ہرنائی کے بعض علاقوں کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے بہت زیادہ متاثر ہیں اور کچھ عرصہ قبل ہرنائی کے بعض علاقوں میں آرمی کی بھی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔

ہرنائی میں سکیورٹی فورسز پر حملوں اور بدامنی کے بعض دیگر واقعات کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن قبول کرتی رہی ہے۔

تایم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے باعث اب ہرنائی میں صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C