12/January/2026

بلوچستان میں 2026 کے پہلے ہفتے کے دوران 10 افراد کی لاشیں برآمد

👁️ 898 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں 2026 کے پہلے ہفتے کے دوران 10 افراد کی لاشیں برآمد

بلوچستان میں 2026 کے پہلے ہفتے کے دوران 10 افراد کی لاشیں برآمد

کوئٹہ (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں سال 2026 کے پہلے ہفتے کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع سے کم از کم 10 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن میں ایک اسکول ٹیچر ایاز بلوچ بھی شامل ہیں۔ 

 

لواحقین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے متعدد افراد پہلے جبری طور پر لاپتہ تھے، جبکہ صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں نے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

 

ایاز بلوچ کی لاش 6 جنوری کو ضلع آواران کے علاقے جھاؤ، موندرہ میں کورک ندی سے ایک اور شخص ظریف بلوچ کے ساتھ برآمد ہوئی۔ آواران پولیس کے مطابق دونوں افراد کو نامعلوم افراد نے ہلاک کرنے کے بعد لاشیں ندی میں پھینک دی تھیں۔

 

 ایس پی آواران خلیل بگٹی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال یہ تعین نہیں ہوسکا کہ دونوں کو کس نے اور کیوں ہلاک کیا۔

 

ایاز بلوچ کے ایک قریبی دوست نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ایاز کو 16 اکتوبر 2025 کو آواران کے علاقے گیشگور سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایاز سے قبل ان کے چچا ماسٹر خدا بخش کو بھی لاپتہ کیا گیا تھا، جن کی تشدد زدہ لاش ایک ماہ بعد خضدار سے برآمد ہوئی تھی، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

 

بلوچ یکجہتی کمیٹی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ایاز بلوچ سمیت مارے جانے والے بعض دیگر افراد بھی پہلے سے جبری طور پر لاپتہ تھے۔ نصراللہ بلوچ کے مطابق ان کی تنظیم کے ریکارڈ میں ایسے کئی افراد کے نام شامل ہیں جن کی لاشیں بعد میں مختلف علاقوں سے برآمد ہوئیں۔

 

دوسری جانب بلوچستان اسمبلی کی حکومتی رکن فرح عظیم شاہ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کر رہے ہیں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

 

ژوب اور موسیٰ خیل: چار افراد گولی مار کر ہلاک

چار جنوری کو ژوب اور موسیٰ خیل کی سرحدی علاقے سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

 

اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ کے مطابق چاروں افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور لاشیں ایک ویران علاقے سے ملی تھیں۔

 

ان افراد کی شناخت محمد انور، شیر محمد، جعفر اور ثنا اللہ کے ناموں سے ہوئی، جن کا تعلق ضلع دُکی سے تھا۔ اہل خانہ کے مطابق ان میں سے تین افراد آپس میں کزنز تھے اور یہ تمام افراد محنت مزدوری کرتے تھے۔ ایک رشتہ دار کا کہنا ہے کہ یہ افراد سات ماہ سے زائد عرصے سے جبری طور پر لاپتہ تھے۔

 

ان کے ایک قریبی رشتہ دار نے کہا، ’’ہم پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔ یہ ہمارے خاندان کے ساتھ ظلم کا پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی ہمارے افراد کو لاپتہ کرنے کے بعد ہلاک کیا گیا۔‘‘

 

ہرنائی: مزید چار لاشیں برآمد

 

دو جنوری کو ضلع ہرنائی کے علاقے زندہ پیر سے مزید چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ پولیس کے مطابق چاروں افراد کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔

 

نصراللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ہرنائی سے برآمد ہونے والی لاشوں میں سے ایک جمعہ خان مری بھی شامل تھے، جن کا نام ان کی تنظیم کی لاپتہ افراد کی فہرست میں موجود تھا۔ ان کے مطابق بعض دیگر افراد کے اہل خانہ نے بھی تنظیم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کے پیارے پہلے لاپتہ تھے۔

 

حکومت اور سکیورٹی اداروں کا مؤقف

 

بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر جج کی سربراہی میں ایک آزاد کمیشن قائم ہے اور اس حوالے سے معلومات کے لیے اسی فورم سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

 

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بعض اوقات ایسے افراد جو لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں، بعد میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے جاتے ہیں، جس کے بعد ان کے نام سامنے آتے ہیں۔ 

 

ان کے مطابق بعض خاندانوں کو علم نہیں ہوتا کہ ان کے افراد عسکریت پسند تنظیموں میں شامل ہو چکے ہیں۔

 

سکیورٹی فورسز کے ایک سینیئر اہلکار نے بھی اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک منظم کوشش ہے اور تحقیقات کے مطابق کئی افراد کو دہشت گرد تنظیمیں اغوا کر کے ہلاک کرتی ہیں۔

ماہرین کی رائے

 

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے سربراہ اور سکیورٹی امور کے ماہر محمد عامر رانا کا کہنا ہے کہ اگر تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کے پیچھے ریاستی عناصر بھی ہوں تو اس کا مقصد خوف پیدا کرنا ہوسکتا ہے، تاہم ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات طویل مدت میں مسائل کا حل نہیں ہو سکتے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن کا واحد راستہ مذاکرات اور سیاسی حل ہے، تاہم فی الحال ایسی کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C