بلوچستان: چمن میں پاکستانی فوج اور طالبان کے مابین سرحدی جھڑپ
👁️ 26 بار دیکھا گیا
بلوچستان: چمن میں پاکستانی فوج اور طالبان کے مابین سرحدی جھڑپ
کوئٹہ (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور طالبان میں جھڑپ کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ، علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ یہ جھڑپیں اب معمول بنتی جارہی ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے لیے اچھی علامت نہیں۔
پاک افغان سرحد پرپاکستانی حدود سے باڑا کھاڑنے کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ چمن کے قریب سرحد پر پاکستانی فورسز اور افغان طالبان میں ہونے والی تازہ جھڑپ میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سرحد پرکئی گھنٹوں تک ہونے والی دوطرفہ فائرنگ سے کشیدگی پھیل گئی۔ ذرائع کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے سرحد پر دونوں اطراف سے فورسز کی اضافی طلب کی گئی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین 2500 کلو میٹر طویل سرحد کا تقریبا 1271 کلومیٹر حصہ جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے حدود میں واقع ہے ۔ اس سرحد پر پاکستان کی جانب سے حفاظتی باڑ کی تنصیب کا 90 فیصد سے ذائد کام مکمل ہوچکا ہے۔ کوئٹہ میں تعینات ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاک افغان سرحد پر باڑاکھاڑنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔
اس اہلکار کا مذید کہنا تھا، ”پاک افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب سے پیدا ہونے والا تنازعہ ترجیحی بنیادوں پر حل طلب ہے۔ میرے خیال میں اس وقت یہ بہت ضروری ہے کہ سرحد کی سیکیورٹی کے معاملات میں افغان حکومت بھی لچک کا مظاہرہ کرے۔ پاکستان نے سرحد پر غیر قانونی نقل و حمل روکنے کے لیے جو اقدمات کیے ہیں ان کے دور رس نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اج بھی سرحد پر جو جھڑپ ہوئی ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ افغانستان کے حدود سے مسلح افراد نے پھر باڑ اکھاڑنے کی کوشش کی جو کہ پاکستانی فورسز نے ناکام بنادی ۔‘‘ سرحد پر باڑ کی تنصیب کا بنیادی مقصد عسکریت پسندوں کی دراندازی روکنا ہے تاکہ سیکیورٹی کے مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
انہوں نے مذید کہا، ” اس باڑ کی تنصیب کے خلاف افغان حکومت کی جانب سے جو مخالفت سامنے آرہی ہے وہ خلاف ضابطہ ہے ۔ ماضی میں بھی اسی تنازعے کی وجہ سے کئی ناخوشگوار واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ پاکستان نے سرحد کی سیکیورٹی کے لیے جو جامع مکینزم مرتب دیا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں امید ہے کہ افغان حکومت اس ضمن میں زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اقدامات کرے گی تاکہ سرحدی سیکیورٹی کے معاملات میں کوئی خلل پیدا نہ ہو۔‘‘
منقسم قبائل
چمن میں پاک افغان سرحد پر واقع کلی شیخ لعل محمد ، کلی قاری سید کریم ، کلی محمد افضل اور دیگر دیہاتوں کی نصف ابادی افغانستان جبکہ نصف ابادی پاکستان حدود میں رہائش پذیر ہے۔ کلی شیخ لعل محمد میں مقیم 42 سالہ روزالدین کہتے ہیں کہ باڑکی تنصیب سے مقامی قبائل شدید مشکلات کا شکار ہیں ۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتےہوئے انہوں نے کہا،” یہاں سرحد پر جو قبائل آباد ہیں وہ اس باڑ کی وجہ سے تقسیم ہوچکے ہیں ۔ لوگوں کو اپنے رشتہ داروں سے ملنے میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ دونوں اطراف سے حکومتوں کو مقامی قبائل کے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدمات کرنے چاہئے۔ جب سرحد پر باڑ نصب نہیں کی گئی تھی اس وقت بھی ایسے ہی حالات تھے۔‘‘
روزالدین کا کہنا تھا کہ سرحد پر آباد قبائل کے منقسم ہونے سے دونوں اطراف سے غلط فہمیاں پھیل رہی ہیں جن کا فائدہ امن مخالف عناصر اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مذید کہا،”سرحدی قبائل امن پسند ہیں اور ہم نے ہمیشہ اپنے علاقوں میں سلامتی کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے دونوں اطراف کے سیکیورٹی فورسز سے ہروقت تعاون کیا ہے۔ لوگوں کو روزگار کے مسائل درپیش ہیں اور سرحد پر آمدورفت بھی متاثرہورہی ہے ۔ قبائل کو اس طرح تقسیم کرنے کے اس فیصلے کو لوگ کس طرح تسلیم کرسکتے ہیں۔‘‘
ایک مختلف سرحد
چمن میں نصرت زئی قبیلے کے سربراہ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی نائب صدر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کہتے ہیں کہ پاک افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب کے معاملے کو زمینی حقائق کے مطابق دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ” پاک افغان سرحد پرجو قبائل آباد ہیں انہیں اس ضمن دونوں اطراف سے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ اب تک اس باڑ کے حوالے سےجو تحفظات لوگوں کے سامنے ائے ہیں انہیں غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سرحد کی سیکیورٹی کے لیے پاکستان جامع اقدامات کر رہا ہے، ایسے ہی اقدمات اگر افغانستان کی جانب سےبھی دیکھنے میں آتے تو شاید کشیدگی اس حد تک نہیں پھیل پاتی۔‘‘
عبدالخالق اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد کی صورتحال دیگر بین الاقوامی سرحدوں سے یکسر مختلف ہے ۔ انہوں نے مذید کہا،”سرحد کی بندش سے مقامی قبائل کے معاملات زندگی براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ ان قبائل کے اکثر لوگوں کا روزگار سرحدی تجارت سے وابستہ ہے۔ سرحدی قبائل کو اگر روزگار کے متبادل ذرائع یا اس ضمن میں انٹری پوائنس پر سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ تمام غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں ۔”
عبدالخالق اچکزئی کا تھا، ” پاک افغان سرحد پرباڑ کی تنصیب کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے پرخصوصی دینے کی ضرورت ہے تاکہ حالات میں مذید بگاڑ پیدا نہ ہو ۔‘‘پاک افغان طویل سرحد کی صوبہ خیبر پختوانخؤاء کے حدود میں طوالت 1229 کلو میٹر ہے۔ دستیاب حکومتی اعدادو شمار کے مطابق سرحد پر باڑ کی تنصیب کے منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر5 سو ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی تھی جس میں بعد میں مذید اضافہ بھی کیا گیا۔
گزشتہ چند سالوں کے دوران پاک افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپوں میں پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں سمیت سینکروں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ ان واقعات میں بعض میں ملوث ہونے کی ذمہ داری پاکستانی طالبان کی جانب سے بھی قبول کی جاتی رہی ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
طالبان نے افغانستان میں چھوٹی داڑھی پر امدادی کارکن گرفتار کر لیے
23/June/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں، 60 روزہ لائسنس جاری
23/June/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
ایران میں کریک ڈاؤن، “دشمن سے تعاون” کے الزام میں 3 ہزار سے زائد گرفتاریاں
23/June/2026 👁️ 225 بار دیکھا گیا
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید
23/June/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
ماسکو پر 60 ڈرون حملے ناکام، یوکرین میں روسی حملوں سے 5 افراد ہلاک
23/June/2026 👁️ 188 بار دیکھا گیا
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
23/June/2026 👁️ 186 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8848 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4608 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3299 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2470 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2123 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1917 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C