بھارت: اقلیتوں کے بجٹ میں کٹوتی پر مسلم کمیونٹی کا شکوہ
👁️ 44 بار دیکھا گیا
بھارت: اقلیتوں کے بجٹ میں کٹوتی پر مسلم کمیونٹی کا شکوہ
نئی دہلی (ڈیلی اردو/وی او اے) بھارت کی حکومت نے مالی سال 2024-2023 کے لیے بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں جہاں دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے تو وہیں اقلیتوں اور مسلم کمیونٹی کی جانب سے یہ گلہ کیا جا رہا ہے کہ بجٹ میں اُن کے لیے خاطر خواہ رقم نہیں رکھی گئی۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بدھ کو 2024-2023 کے لیے جو مرکزی بجٹ پیش کیا اس میں اقلیتی امور کی وزار ت کے بجٹ میں 38 فی صد کمی کر دی گئی ہے۔ گزشتہ سال اقلیتی امور کی وزارت کا بجٹ پانچ ہزار کروڑ کے لگ بھگ تھا جو اب تین ہزار 97 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح اقلیتوں کے تعلیمی فروغ کے لیے گزشتہ سال کا بجٹ 2515 کروڑ روپے سے کم کر کے 1689 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
مرکزی بجٹ میں سب سے زیادہ دھچکہ اقلیتوں کے لیے جاری پری میٹرک اسکالرشپ کو لگا ہے۔ اس سے قبل اس کا بجٹ 1425 کروڑ روپے تھا جو اب محض 433 کروڑ روپے رہ گیا۔ اقلیتی طبقات کے طلبہ کے لیے میرٹ کی بنیاد پر دی جانے والی اسکالرشپ میں 87 فی صد کی کٹوتی کی گئی ہے۔
نرملا سیتا رمن کی جانب سے پیش کیے جانے والے مرکزی بجٹ میں ’مدرسہ مائنارٹی ایجوکیشن‘ کے لیے گزشتہ سال 160 کروڑ روپے رکھے گئے تھے جو کہ اب محض 10 کروڑ رہ گئے ہیں۔
تاہم پوسٹ میٹرک اسکالر شپ میں اضافہ کرکے اسے گزشتہ سال کے 515 کروڑ روپے کو بڑھا کر 1065 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک نئی اسکیم ’پی ایم وکاس‘ شروع کی گئی ہے جس کے لیے 540 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
Union Finance and Corporate Affairs Minister @nsitharaman will be in Mumbai tomorrow (Feb 4, 2023)
After chairing a Post-Budget Stakeholders' Interaction, FM will also address a press conference tomorrow
Watch LIVE from 1.15 PM athttps://t.co/bvEvsJRW5B#Budget2023 pic.twitter.com/mV3YeHK8qi
— PIB in Maharashtra ???????? (@PIBMumbai) February 3, 2023
ماہر تعلیم، انسانی حقوق کے کارکن اور مصنف ڈاکٹر اشوک کما رپانڈے کا کہنا ہے کہ بھارت کا آئین اقلیتوں، دلتوں، پسماندہ اور محروم طبقات اور خواتین کو ساتھ لے کر چلنے اور ان کو آگے بڑھانے کی بات کرتا ہے۔ لیکن جب حکومت مدرسوں کے بجٹ میں 150 کروڑ روپے کی کٹوتی اور دیگر طبقات کے بجٹ میں اضافہ کرتی ہے تو اس سے اس کی ترجیحات کا پتا چلتا ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھوں سے قرآن بھی چھین لینا چاہتی ہے اور کمپوٹر بھی۔ خیال رہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اپنی تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلم اسٹوڈنٹس کے ایک ہاتھ میں قرآن ہو اور دوسرے میں کمپیوٹر۔
اقلیتی اسٹوڈنٹس کی اعلیٰ تعلیم کے لیے برسوں سے جاری مولانا آزاد فیلوشپ کو حکومت نے پہلے ہی ختم کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اقلیتی بالخصوص مسلم طلبہ فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اس کے تحت بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے بھی بیشتر طلبہ مستفید ہو رہے تھے۔
ڈاکٹر اشوک کمار پانڈے کہتے ہیں کہ بار بار یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ کشمیر میں خلیجی ملکوں سے پیسہ آتا ہے۔ اب جب کہ حکومت نے یہ فیلوشپ بند کر دی ہے تو اگر واقعی پیسہ آتا ہے تو اسٹوڈنٹس اس پیسے کا سہارا لیں گے۔ کیوں کہ بہرحال ان کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پیسہ چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت ایک اسٹوڈنٹ سے تعلیم حاصل کرنے کا حق چھینے گی تو وہ پڑھائی چھوڑ کر دوسری طرف اپنی توجہ مبذول کرے گا۔ شاید حکومت نہیں چاہتی کہ کشمیری نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے مین اسٹریم میں شامل ہوں۔
ان کے خیال میں جو بجٹ کم کیاگیا ہے وہ اتنا بڑا بھی نہیں تھا کہ حکومت خسارے میں چلی جاتی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اقلیتی طبقات کی تعلیم کے سلسلے میں حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحا دالمسلمین کے صدر اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اقلیتی طلبہ کے تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کی مذمت کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم نریند رمودی ’سب کا ساتھ سب کا وکاس (ترقی)‘ کا نعرہ لگاتے ہیں اور دوسری طرف اقلیتی امور کی وزارت کے بجٹ میں 40 فی صد کی کمی کرتے ہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ صرف نعرہ لگانا ہی کافی ہے۔
بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے رکن پارلیمان کنور دانش علی نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی اور جاننا چاہا کہ کیا حکومت مولانا آزاد فیلوشپ کو دوبارہ جاری کرنے پر غور کر رہی ہے۔
اس پر اقلیتی امور کی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا کہ چونکہ اقلیتوں کے لیے پہلے سے ہی متعدد اسکیمیں چل رہی ہیں اور مذکورہ اسکیم ان سے متصادم ہے لہٰذا اسے بند کر دیا گیا اور اب اسے دوبارہ جاری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت ایک طرف پسماندہ مسلمانوں کو اپنے قریب لانے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف اقلیتی طبقات کے تعلیمی فروغ کو روکنا چاہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس قدم سے 2024 میں انتخابی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ڈاکٹر اشوک کمار پانڈے کہتے ہیں کہ اقلیتوں کے تعلیمی بجٹ میں کمی کے نام پر مسلم مخالف ووٹوں کو متحد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن اقلیتی طبقات کی تعلیمی پسماندگی سے آگے چل کر ملک کو جو نقصان ہوگا حکومت اس کو نہیں دیکھنا چاہتی۔
واضح رہے کہ حکومت مذہب، ذات برادری یا طبقات کی بنیاد پر امتیاز کرنے کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس کا یہ مؤقف ہے کہ حکومت سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے اور اس کے عوامی فلاح و بہبود کے پروگراموں سے دیگر طبقات کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
طالبان نے افغانستان میں چھوٹی داڑھی پر امدادی کارکن گرفتار کر لیے
23/June/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں، 60 روزہ لائسنس جاری
23/June/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
ایران میں کریک ڈاؤن، “دشمن سے تعاون” کے الزام میں 3 ہزار سے زائد گرفتاریاں
23/June/2026 👁️ 116 بار دیکھا گیا
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید
23/June/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
ماسکو پر 60 ڈرون حملے ناکام، یوکرین میں روسی حملوں سے 5 افراد ہلاک
23/June/2026 👁️ 134 بار دیکھا گیا
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
23/June/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8847 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4606 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3298 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2469 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2121 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C