بھارت نے جموں و کشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف ہندو ملیشیا کو مسلح کردیا
👁️ 58 بار دیکھا گیا
بھارت نے جموں و کشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف ہندو ملیشیا کو مسلح کردیا
سرینگر (ڈیلی اردو/اے ایف پی) بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے حریت پسندوں سے لڑنے کے لیے 5 ہزار افراد پر مشتمل ہندو ملیشیا کو مسلح کر دیا اور سرکاری ملازم سنجیت کمار بھی ان افراد میں شامل ہے اور انہوں نے بندوق چلانے کی تربیت حاصل کرلی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی اے ایف پی کے مطابق دہلی سرکار نے وادی کشمیر میں 5 لاکھ سے زائد فوجی مستقل طور پر تعینات کر دیے ہیں اور ہندو قوم پرست حکومت حریت پسندوں کو کچلنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
India arms Hindu village militias.
5,000 Kashmir villagers have joined all-Hindu militia units armed and trained by Indian forces to fight off rebel attacks. India already has over half a million soldiers stationed in parts of Muslim-majority Kashmirhttps://t.co/GFd3wGZXDX pic.twitter.com/shiTu9UliP
— AFP News Agency (@AFP) April 28, 2023
بھارتی حکومت نے گزشتہ برس نئی ملیشیاز تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا اور جنوری میں بجلی کے شعبے میں سرکاری ملازمت کرنے والے 32 سالہ سنجیت کمار کے گاؤں میں جھڑپیں ہوئی تھیں، جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم ان حملوں سے وحشت زدہ ہوگئے تھے۔
پیشانی پر تلک لگا کر خود کو ہندو قوم پرست ظاہر کرنے والے سنجیت کمار کا کہنا تھا کہ وہ تیار ہیں اور اپنے گھر کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جو ہماری قوم سے غداری کرے گا وہ میرا ہدف ہے۔
’صرف ایک کمیونٹی‘
مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں آزادی یا پاکستان سے الحاق کا مطالبہ کرنے والے افرادکو کچلنے کے لیے بھارت کی جانب سے سخت کارروائیاں جاری ہیں اور اس کے نتیجے میں ہزاروں جانی چلی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر میں تشکیل دی گئی نئی ہندو ملیشیا کا نام ویلیج ڈیفنس گارڈز رکھا گیا ہے جو گزشتہ برس پولیس اہلکاروں اور مقبوضہ وادی میں ہندو شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد بنائی گئی تھی۔
بھارتی حکومت کے اس اقدام کی وادی کے ہندو شہریوں نے خیرمقدم کیا تھا لیکن مسلمان شہریوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ ملیشیا مقبوضہ کشمیر کے مسائل میں مزید اضافہ کرے گی۔
ڈھانگری کے علاقے میں ایک بزرگ مسلمان شہری نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ ’جس طرح صرف ایک کمیونٹی میں اسلحہ تقسیم کیا جا رہا ہے اس پر مجھے پریشانی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اب اسلحہ نوجوانوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، یہ ہم میں سے کسی کے لیے بھی نیک شگون نہیں ہے، مجھے کشیدگی میں اضافے کا خدشہ نظر آرہا ہے‘۔
الرٹ بدستور جاری
ڈھانگری کے کئی شہری تاحال خونی حملوں کے غم سے نہیں نکلے جہاں ہندو سرکاری ملازم سنجیت کمار کا گاؤں بھی ہے اور ان حملوں میں ان کے 7 پڑوسی بھی مارے گئے تھے۔
اسلحہ بردار 55 شہری موراری لال شرما نے بتایا کہ ’اسلحے کے ساتھ یا اسلحے کے بغیر ہم دہشت زدہ تھے لیکن اب میں لڑوں گا‘۔
بھارتی پیراملیٹری فورس کے افسر نے بتایا کہ حال ہی میں مسلح ہونے والے گاؤں کے افراد بدستور خطرے کی صورت میں ہیں جہاں ان کی یونٹ نے انہیں رات کو ہونے والی گشت سے آگاہ کیا ہے تاکہ انہیں کشمیری حریت پسندوں کی غلط فہمی نہ ہو اور فائرنگ نہ کر دیں۔
بھارت کی وزارت اطلاعات کے عہدیدار کنچن گپتا نے بتایا کہ ’اس اقدام کا مقصد حملے کی لکیر کھینچنا نہیں بلکہ دفاع کی لکیر کھینچنا ہے‘۔
یاد رہے کہ بھارت نے جموں اور کشمیر میں پہلی مرتبہ 1990 کی دہائی میں شہریوں پر مشتمل ملیشیا بنائی تھی جب بھارتی قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد عروج پر تھی۔
جموں اور کشمیر میں اس دوران تقریباً 25 ہزار مرد اور خواتین بشمول نوجوانوں کو اسلحہ فراہم کیا گیا تھا اور جموں ریجن میں گاؤں کی سطح پر دفاعی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔
انسانی حقوق کے گروپس مذکورہ کمیٹیوں کے ارکان کو شہریوں پر ظلم کا مرتکب قرار دیتے ہیں، قتل، ریپ اور بھتے کے کم ازکم 210 کیسز سامنے آئے اور اس کی ذمہ داری ان ملیشیاز پر عائد کی گئی تھی لیکن سرکاری ریکارڈ کے مطابق محض 2 فیصد سے بھی کم افراد کو سزا دی گئی۔
کنچن گپتا کا کہنا تھا یہ کیسز انفرادی عمل تھے اور ملیشیاز کی جانب سے کسی قسم کے منظم جرائم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، یہ خدشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ غلط کام بھی ہوسکتے ہیں، ہر کسی پر کنٹرول حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
’اب یہاں بندوقیں ہیں‘
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے تربیت دینے والے اہلکاروں نے ملیشیا کے اراکین کو خبردار کیا ہے کہ رائفلز کے غلط استعمال پر انہیں سزا دی جاسکتی ہے۔
سی آر پی ایف کے ترجمان شیوانندن سنگھ نے کہا کہ فائرنگ، اسلحے کی صفائی اور انتظام کی تربیت کے ساتھ ساتھ ہم انہیں آگاہ کرتے ہیں کہ غلط استعمال پر کیا قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب سے یہ نئی ویلیج ڈیفنس گارڈز تشکیل دی گئی ہے، اب تک 3 افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں ملیشیا کو فراہم کیے گئے اسلحے سے ہونے والی خودکشیاں بھی شامل ہیں۔
اسی طرح ملیشیا کی ایک خاتون رکن شوہر کے رائفل کی حادثاتی فائرنگ سے ہلاک ہوئی تھیں۔
ڈھانگری سمیت اطراف کے گاؤں میں شہری تحفظات کے باوجود لوگوں کو اسلحہ رکھنے سے نہیں روک رہے ہیں۔
سابق سرکاری ملازم اور فلور مل کے مالک اجے کمار نے اسلحہ حاصل کرنے والے اپنے پڑوسیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے بتایا کہ ’اب یہاں ہر طرف گھروں میں بندوقیں ہیں‘۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
چھتیس گڑھ کے کونڈا گاوں میں نکسلی ڈمپ سے 30 کلو دھماکہ خیز مواد اور پستول برآمد
06/September/2026 👁️ 42 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : ڈرون حملے سے سکیورٹی اہلکار ہلاک، درابن میں پولیس پر 3 حملے ناکام
06/September/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا کے حساس اضلاع میں پولیس کو ڈرونز، بکتر بند گاڑیاں اور بھاری ہتھیار دینے پر غور
06/September/2026 👁️ 43 بار دیکھا گیا
ڈی آئی خان : درابن تھانے پر حملے کی کوشش ناکام، مسلح حملہ آور فرار
06/September/2026 👁️ 58 بار دیکھا گیا
چاغی : نجی کانوں سے اغوا کیے گئے تمام 7 افراد بحفاظت بازیاب
06/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
شام :وزارت دفاع سے منسوب بھرتی فارم پر مذہبی سوالات، سوشل میڈیا پر شدید بحث
06/September/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26275 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15524 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11808 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9102 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7392 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5086 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C