05/January/2026

بیڑیوں میں جکڑا مادورو امریکی عدالت میں پیش؛ ’’میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں‘‘

👁️ 194 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بیڑیوں میں جکڑا مادورو امریکی عدالت میں پیش؛ ’’میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں‘‘

بیڑیوں میں جکڑا مادورو امریکی عدالت میں پیش؛ ’’میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں‘‘

نیویارک (نمائندہ ڈیلی اردو/سی بی ایس) امریکی میڈیا، خصوصاً سی بی ایس نیوز کے مطابق، وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو نیویارک کی سدرن ڈسٹرکٹ وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں منشیات اسمگلنگ، دہشت گردی کی سازش اور اسلحہ رکھنے سے متعلق سنگین الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔

 

تقریباً 40 منٹ تک جاری رہنے والی سماعت کا آغاز اور اختتام غیر معمولی اور کشیدہ لمحات کے ساتھ ہوا۔ عدالت میں داخلے سے قبل مادورو کی ٹانگوں میں پڑی بیڑیوں کی آواز سنی گئی، جبکہ وہ کمرۂ عدالت میں داخل ہوتے ہوئے مڑے، سر ہلایا اور حاضرین میں موجود چند افراد کو ہسپانوی زبان میں ’بونوس دیاس‘ کہا۔

 

’’میں وینزویلا کا صدر ہوں، اغوا کیا گیا ہے‘‘

 

سماعت کے آغاز پر جج نے مادورو سے رسمی طور پر اپنی شناخت کی تصدیق کرنے کو کہا، تاہم معمول کے مختصر جواب کے برعکس مادورو نے موقع کو استعمال کرتے ہوئے بھرے ہوئے کمرۂ عدالت میں کہا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں جنہیں اغوا کیا گیا ہے۔  

 

انہوں نے مترجم کے ذریعے پرسکون ہسپانوی لہجے میں کہا:’’میں بے قصور ہوں، میں قصوروار نہیں ہوں، میں ایک شریف آدمی ہوں، اپنے ملک کا صدر۔ مجھے میرے گھر کاراکس، وینزویلا سے گرفتار کیا گیا۔‘‘

 

اس پر جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات دینے کے لیے عدالت میں بعد میں ’’مناسب وقت اور جگہ‘‘ فراہم کی جائے گی۔

 

سماعت کے اختتام پر تلخ جملوں کا تبادلہ

 

سماعت کے اختتام پر سب سے زیادہ کشیدہ لمحہ اس وقت آیا جب سامعین میں موجود ایک شخص نے مادورو پر ہسپانوی زبان میں چیخ کر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے اعمال کی سزا بھگتیں گے۔ اس پر مادورو نے اس شخص کی طرف رخ کرتے ہوئے جواب دیا کہ وہ ’’اغوا شدہ صدر‘‘ اور ’’جنگی قیدی‘‘ ہیں۔

 

بعد ازاں مادورو اور ان کی اہلیہ کو زنجیروں میں جکڑ کر عدالت کے پچھلے دروازے سے باہر لے جایا گیا، جہاں مادورو کو اپنی اہلیہ کے پیچھے چلایا گیا۔

 

اہلیہ سیلیا فلوریس پر تشدد کے الزامات

 

وینزویلا کے معزول صدر کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی اپنے خلاف منشیات اسمگلنگ اور اسلحے سے متعلق الزامات کی تردید کی۔ ان کے وکیل مارک ای ڈونلی نے عدالت کو بتایا کہ فلوریس کو وینزویلا میں گرفتاری کے دوران شدید جسمانی چوٹیں آئی ہیں۔

 

بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق، فلوریس کو عدالت میں نمایاں نیلوں کے ساتھ دیکھا گیا۔ وکیل نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کی پسلیوں میں فریکچر یا شدید اندرونی چوٹ ہو سکتی ہے، جس پر جج نے پراسیکیوٹرز کو ہدایت دی کہ ملزمہ کو مناسب طبی سہولت فراہم کی جائے۔

 

ڈونلی نے بی بی سی کو جاری بیان میں کہا:’’ہماری مؤکل کے حوصلے بلند ہیں۔ ہم حکومت کے پاس موجود شواہد کا بغور جائزہ لینے اور انہیں چیلنج کرنے کے منتظر ہیں۔ خاتون اوّل جانتی ہیں کہ یہ ایک طویل قانونی جنگ ہے اور وہ اس کے لیے تیار ہیں۔‘‘

 

الزامات، ضمانت اور آئندہ سماعت

 

امریکی میڈیا کے مطابق، مادورو پر چار بڑے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی کی سازش، مشین گنوں اور تباہ کن آلات کی غیر قانونی ملکیت شامل ہے۔ مادورو نے عدالت میں خود پر عائد تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

متعدد امریکی میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ مادورو کے وکیل کے مطابق ان کا مؤکل فی الحال ضمانت کی درخواست نہیں دے رہا، تاہم بعد کے مرحلے میں رہائی کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔

 

عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 17 مارچ کو مقرر کرتے ہوئے مادورو کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

 

عدالت کے باہر سخت سیکیورٹی اور میڈیا کا رش

 

اس موقع پر نیویارک کی وفاقی عدالت کے اندر کیمروں کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم چند منتخب صحافیوں کو عدالتی کارروائی کے نوٹس لینے کی اجازت دی گئی۔

 

ڈیلی اردو کے نمائندے کے مطابق، عدالت کے باہر صحافیوں اور عام شہریوں کی طویل قطاریں لگی رہیں، جو اس ہائی پروفائل کیس کی سماعت کو قریب سے دیکھنے کے خواہاں تھے۔ مادورو اور سیلیا فلوریس دونوں جیل یونیفارم میں عدالت میں پیش ہوئے، ان کے پاؤں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے، تاہم ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نہیں تھیں۔ مادورو نے عدالت میں اپنے وکیل سے مصافحہ بھی کیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C